Sun, September 27, 2026

پاکستان کی سکیورٹی کے لیے امریکی تعاون ضروری ہے: ٹام شوازی

پاکستان کی سکیورٹی کے لیے امریکی تعاون ضروری ہے: ٹام شوازی

 نیویارک: امریکی کانگریس میں پاکستان کاکس کے چیئرمین کانگریس مین ٹام شوازی نے کہا ہے کہ پاکستان دہشت گردی سے شدید متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، اس لیے امریکا کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ساتھ تعاون مزید بڑھانا چاہیے۔

 ماہر امور خارجہ محمد مہدی سے نیویارک میں ملاقات کے دوران ٹام شوازی نے کہا کہ پاکستان کو انٹیلی جنس کے تبادلے کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف دفاعی صلاحیت بہتر بنانے کے لیے امریکی معاونت کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دشوار گزار اور پہاڑی سرحدوں کے باعث پاکستان کو غیر معمولی سکیورٹی چیلنجز درپیش ہیں، جس کے لیے بین الاقوامی تعاون ضروری ہے۔

 انہوں نے کہا کہ امریکا کو اپنے اتحادی ممالک کو بھی پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف کوششوں میں تعاون پر آمادہ کرنا چاہیے۔ ٹام شوازی کے مطابق جنوبی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور خطے کے مستقبل میں پاکستان کا اہم کردار ہے، جبکہ مختلف ممالک، بشمول امریکا اور ایران، کے ساتھ پاکستان کے روابط اسے علاقائی مفاہمت میں مؤثر کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔

 امریکی کانگریس مین نے پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے آزاد ثالثی بورڈ کے قیام کی تجویز بھی دی۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے لیے قابل اعتماد اور شفاف نظام سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

 پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے ٹام شوازی نے کہا کہ انہوں نے 2025 میں پاکستان کے دورے کے دوران کرتارپور صاحب کا دورہ کیا تھا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ کرتارپور کو دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور عوامی روابط کے فروغ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ کرتارپور راہداری کے ذریعے ثقافتی روابط، جبکہ کرکٹ سمیت دیگر عوامی سطح کے اقدامات پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات میں بہتری کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔

 ملاقات کے دوران محمد مہدی نے کہا کہ پاکستان متوازن جغرافیائی سیاسی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے امریکا میں پاکستانی مصنوعات کے لیے مارکیٹ رسائی میں اضافے اور سول شعبے میں ساختی اصلاحات کو دونوں ممالک کے طویل المدتی معاشی تعلقات کے لیے اہم قرار دیا۔

ٹیگز: