Wed, September 23, 2026

 ٹرمپ کا جملہ اور پاکستان کی نئی سفارتی تصویر

 ٹرمپ کا جملہ اور پاکستان کی نئی سفارتی تصویر

تحریر:رضوان جرال 

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف کے بارے میں مثبت تبصرہ محض چند الفاظ نہیں، بلکہ بدلتے ہوئے عالمی سفارتی منظرنامے میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی اہمیت کا ایک قابلِ توجہ اشارہ ہے۔

ٹرمپ نے اپنے خطاب کے دوران وزیراعظم شہباز شریف کو ایک ’’بہترین انسان‘‘ قرار دیتے ہوئے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں اپنے کردار کا بھی ذکر کیا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان ایک طرف خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارتی سرگرمیوں میں مصروف ہے اور دوسری طرف عالمی طاقتوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو نئے انداز میں آگے بڑھا رہا ہے۔
اس منظرنامے کو صرف ایک شخص کی تعریف تک محدود کرکے دیکھنا شاید درست نہیں ہوگا۔ گزشتہ کچھ عرصے میں پاکستان اور واشنگٹن کے تعلقات میں جو تبدیلی آئی ہے، اس میں وزیراعظم شہباز شریف کی سیاسی و سفارتی حکمتِ عملی کے ساتھ ساتھ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کردار بھی عالمی سطح پر زیرِ بحث رہا ہے۔
ستمبر 2025 میں صدر ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس ملاقات کے دوران وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی موجود تھے۔ اس ملاقات میں پاک امریکا تعلقات، علاقائی سلامتی، انسدادِ دہشت گردی اور سرمایہ کاری سمیت متعدد امور زیرِ بحث آئے۔ پاکستانی حکومت کے مطابق وزیراعظم نے امریکی کمپنیوں کو پاکستان کے زراعت، آئی ٹی، معدنیات اور توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت بھی دی۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ صدر ٹرمپ اس عرصے کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر کے بارے میں متعدد مرتبہ مثبت انداز میں اظہارِ خیال کر چکے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں 2025 کے دوران پاکستان کے حوالے سے امریکی پالیسی میں ایک حیران کن اور تیز رفتار تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ سال کے آغاز پر جس پاکستان کو واشنگٹن میں ایک غیر معتبر، سفارتی طور پر تنہا اور محدود اسٹریٹجک قدر رکھنے والا ملک سمجھا جا رہا تھا، وہی ملک اب امریکی خارجہ پالیسی میں ایک اہم شراکت دار کے طور پر ابھر آیا ہے۔
مارچ 2025 میں  ہی صدر ٹرمپ کی جانب سے ایک قومی خطاب میں پاکستان کی تعریف نے امریکی پالیسی حلقوں کو چونکا دیا۔ اس کے بعد اسلام آباد کی جانب سے تعاون کے مزید اشارے سامنے آئے، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے تعلقات ایک نئے، نسبتاً مثبت دور میں داخل ہو گئے۔ واشنگٹن میں پاکستان کو اب ایک  لچکدار اور کارآمد  شراکت دار کے طور پر دیکھا جانے لگا۔اسی تناظر میں  پاکستان کی عسکری قیادت میں اصلاحات اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بڑھتی ہوئی عالمی حیثیت نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ صدر ٹرمپ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان قریبی رابطوں نے تعلقات کو نئی جہت دی، جس کا مظہر وائٹ ہاؤس میں ہونے والی تاریخی ملاقات اور بعد ازاں امریکی سینٹرل کمانڈ کے دورے کی صورت میں سامنے آیا۔اپریل 2026 میں امریکی صدر کی جانب سے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت کو ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے تناظر میں سراہا ۔
پاکستان کے لیے اس صورتحال کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ جنوبی ایشیا محض ایک علاقائی خطہ نہیں بلکہ عالمی طاقتوں، تجارت، توانائی، سلامتی اور جغرافیائی سیاست کے باہمی مفادات کا اہم مرکز ہے۔شہباز شریف حکومت کے لیے امریکی صدر کی جانب سے آنے والی یہ مثبت زبان ایک سفارتی اثاثہ ضرور بن سکتی ہے، لیکن اصل امتحان اس اعتماد کو عملی معاشی اور سفارتی نتائج میں تبدیل کرنا ہے۔ پاکستان کو اب یہ ثابت کرنا ہوگا کہ واشنگٹن کے ساتھ بہتر تعلقات محض اعلیٰ سطحی ملاقاتوں اور بیانات تک محدود نہیں بلکہ تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، توانائی، انسدادِ دہشت گردی اور علاقائی امن میں ٹھوس تعاون کا ذریعہ بھی بن سکتے ہیں۔
اسی طرح فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سفارتی سرگرمیوں نے بھی پاکستان کے سیکیورٹی و سفارتی بیانیے کو عالمی سطح پر نمایاں کیا ہے۔ تاہم اب سیاسی استحکام، مضبوط معیشت ، گُڈ گورننس پاکستان کی ضرورت ہے جس کا ادراک پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کو بخوبی ہے اور اس پہ کام ہوتا ہوا نظر بھی آرہا ہے کیونکہ کسی بھی ریاست کی کامیابی میں یہ عناصر لازمی جزو ہیں۔ 
پاکستان کی موجودہ قیادت کے سامنے ایک غیر معمولی موقع موجود ہے۔ اگر واشنگٹن کے ساتھ پیدا ہونے والی گرمجوشی کو اقتصادی شراکت داری میں، خلیجی ممالک کے ساتھ بڑھتے تعاون کو سرمایہ کاری میں، اور عالمی سطح پر پاکستان کے سفارتی رابطوں کو علاقائی امن کے لیے مؤثر کردار میں تبدیل کیا جائے تو پاکستان کی عالمی پوزیشن مزید مضبوط ہوسکتی ہے۔
ٹرمپ کا ’’شہباز شریف ایک بہترین انسان ہیں‘‘ کہنا بلاشبہ وزیراعظم کے لیے ایک مثبت سیاسی و سفارتی لمحہ ہے۔ لیکن اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب اس تعریف کو پاکستان کے لیے زیادہ سرمایہ کاری، مضبوط معیشت، بہتر عالمی روابط اور خطے میں مؤثر سفارتی کردار میں تبدیل کیا جائے۔
اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے آنے والے یہ الفاظ پاکستان کے لیے ایک موقع ہیں اور مواقع کی اصل قدر ان کے بعد ہونے والے عملی اقدامات سے طے ہوتی ہے۔

نوٹ:naibaat.pkاوراس کی پالیسی کا  کالم نگار/بلاگر کی رائے سے متفق ہونا  ضروری نہیں ہے

رضوان جرال نیو نیوز میں ہیڈ آف پروگرامنگ اینڈ کرنٹ افیئرز ہیں۔ ملکی اوربین الاقوامی امور پر گہری نظر رکھتے ہیں۔بین الاقوامی، سیاسی اورسماجی موضوعات پر طبع آزمائی کرتے رہتے ہیں۔

ٹیگز: