Sun, September 27, 2026

ذہن جاگتے ہیں تو جیون میں بہار آجاتی ہے

ذہن جاگتے ہیں تو جیون میں بہار آجاتی ہے

 یہ جو اہل زر ہوتے ہیں جب حکمران بنتے ہیں تو ان کی یہ آرزو ہوتی ہے کہ وہی اختیارات کے مالک ہوں۔ لوگ ان کے محکوم رہیں ان میں کوئی بیداری نہ آسکے وہ گنوار ان پڑھ اور جاہل رہیں اور وہ ان پر نسل در نسل حکمرانی کرتے رہیں۔ اس میں وہ جزوی طور سے کامیاب نظر آتے ہیں کہ بہت سے ممالک میں ابھی روایتی ہی حکمران ہیں مگر یورپ و مغرب میں کافی حد تک تبدیلی آچکی ہے اس کی وجہ بیداری کی لہر ہے جس نے حکمراں جماعتوں کی سوچ کو تبدیل ہونے پر مجبور کر دیا ہے اس کے باوجود وہ عوام کو غیر محسوس انداز سے کنٹرول کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر چونکہ عوامی شعور آگے بڑھ رہا ہے لہٰذا ان کی پالیسیاں اور منصوبے سو فیصد کامیاب نہیں ہوتے کیونکہ اب ان کی (عوام) باریک بیں نگاہیں ان کے مقاصد کو بھانپ لیتی ہیں مگر ہم جیسے ملکوں میں بیداری تو آرہی ہے لیکن حکمران طاقتور ہیں ان کی سوچ میں عوام دوست تبدیلی واقع نہیں ہو رہی اور وہ روایتی طرز حکمرانی کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔جبکہ جاگ گئے ذہنوں کا مطالبہ ہے کہ ان کو شریک اقتدار کیا جائے ان کے دیرینہ مسائل کو نئے تقاضوں کے مطابق حل کیا جائے۔ اظہار رائے کی آزادی سے لے کر تعلیم وصحت تک کی سہولتیں مفت فراہم کی جائیں کیونکہ ریاست کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو زیادہ سے زیادہ آسانیاں فراہم کرنے 
سے متعلق سوچے اور اس پر عمل کرے مگر حکمران طبقات کی کوشش ہوتی ہے کہ یہ منظر اسی طرح رہے اور وہ حکمرانی سے لطف اندوز ہوتے رہیں۔
ہمارے پڑوس میں حالیہ بیداری نے دنیا بھر کے دانشوروں کو حیران کر دیا ہے کہ بھارتی طلباء میں نصابی سرگرمیاں اور معلومات ہی در نہیں آئیں وہ سیاسی و علمی معلومات سے بھی آگاہی رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ایک سوچ اور نظریہ کے تحت احتجاج کیا اور اپنی بات منوائی انہیں کاکروچ کہنے والا عوام بیزار عنصر حیران رہ گیا کہ پورے بھارت میں طلبا نے کاکروچ بن کر دکھا دیا جس نے ان کی نیندیں حرام کر دیں اگرچہ ریاستی تشدد بھی ہوا مگر طلبا نے سرنڈر کرنے سے انکار کر دیا ۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ پسماندہ ملکوں کے عوام میں بھی آگہی آرہی ہے اور ان کو حقیر جاننے اور بیوقوف بنانے والوں کو مان لینا چاہیے کہ وہ ارتقائی عمل کو نہیں روک سکتے۔ 
وطن عزیز کے اہل اختیار و اقتدار شاید دنیا میں ہونے والی تبدیلیوں سے بے خبر ہیں وہ پہلے سے بھی زیادہ خود کو مضبوط بنانے کی تگ و دو میں ہیں اس کے لئے انہوں نے ہتھ ہولا نہیں بھاری کر دیا ہے کہ کوئی بھی اپنے بنیادی حقوق کی بات کرے گا تو وہ اس پر ایسا پڑے گا کہ اس کی چیخیں نکل جائیں گی۔ عوام کو اس وقت ٹیکسوں نے بد حال کر دیا ہے مہنگائی بے روزگاری سے وہ پریشان ہیں۔ تیل کی قیمتوں سے ان کی سانسیں اکھڑی جا رہی ہیں بجلی اور گیس کے بلوں نے ان کی گھریلو استعمال کی چیزوں کو فروخت کرانا شروع کر دیا ہے لہٰذا وہ کہتے ہیں کہ وہ کیسے موجودہ حکومت کو شاباش دیں اور اس کے گْن گائیں؟۔
یہاں ہم یہ بھی بتانا ضروری سمجھتے ہیں کہ امریکا جو سٹیٹس کو کا بہت بڑا حمایتی ہے اپنے ملک میں تو شعوری عمل کو نہیں روکتا مگر کمزور ملکوں میں ایسا نہیں چاہتا تا کہ وہ اس کے آشیر بادی حکمرانوں کو ہی تسلیم کریں اور موجود فرسودہ نظام کو ہی بر قرار رکھیں۔ اگر ان میں عوامی تبدیلی آتی ہے تو اس پر چڑھائی کر دیتا ہے جیسا کہ ایران میں رجیم چینج کرکے اپنی طرز کا نظام وحکومت چاہتا ہے مگر وہ اس میں ناکام رہا ہے اس نے اپنی جدید ترین ٹیکنالوجی بھی استعمال کر ڈالی جو کارگر ثابت نہیں ہو سکی کیونکہ عوام نے امریکی چالوں کو سمجھ لیا ہے وگرنہ ان میں شعور پیدا نہیں ہوتا تو وہ فوراً موجودہ حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے مگر نہیں انہوں نے ڈٹ کر اس کا مقابلہ کیا تباہی و بربادی بھی کرا لی مگر اس کے آگے جھکے نہیں لہٰذا بہتر یہی ہے کہ جب دھرتی جاگ جائے تو اس کے آگے رکاوٹیں کھڑی نہ کی جائیں۔
 بہرکیف بہتر یہی ہے کہ بدلتے حالات سے رخ نہ موڑا جائے انہیں دیکھا اور سمجھا جائے ان کا مقابلہ ہمدردی اور ایثار کے ساتھ کیا جائے مگر عام آدمی کی کون سنتا ہے اگر سن لی جائے تو کبھی اضطراب و نفرت جنم نہ لیں اِسے ہی ارتقا کہتے ہیں جو کبھی بھی ایک شکل میں قائم نہیں رہتا دوسری میں تبدیل ہو جاتا ہے اسے روکا بھی نہیں جا سکتا۔ 

ٹیگز: