تاریخ بتاتی ہے کہ شخصیت پرستی اور لیڈر پرستی جہاں بھی آئی، اپنے ساتھ تباہی لائی مگر تاریخ کا یہ جملہ صرف ہٹلر، سٹالن یا ماؤ کی کتابوں میں محفوظ نہیں ہے بلکہ اس کی پرچھائیاں ہمارے اپنے صحن میں بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔ہم نے شاید کبھی سنجیدگی سے یہ سوچنے کی کوشش ہی نہیں کی کہ آخر ہمیں ہر چند برس بعد ایک نجات دہندہ کی ضرورت کیوں پڑ جاتی ہے؟
پاکستان کی تاریخ میں 1958 سے لے کر بعد کے مارشل لا ادوار تک بار بار یہ منظر سامنے آیا کہ آئینی اور نمائندہ ادارے کمزور ہوئے اور اقتدار ایک مرکز میں سمٹتا گیا۔ 1977 اور 1999 بھی محض ایک شخص کے اقتدار میں آنے کا واقعہ نہیں تھا، یہ اس ذہنیت کا اظہار بھی تھا جس میں اداروں کے پیچیدہ راستے کے مقابلے میں ایک طاقتور فرد کے ذریعے مسائل حل کرنے کا تصور زیادہ آسان محسوس ہونے لگتا ہے۔ان ادوار کے آئینی احکامات خود اس بات کا ریکارڈ ہیں کہ کس طرح ایک شخص اور اس کے اختیار کو معمول کے آئینی بندوبست پر فوقیت حاصل ہوئی۔کیونکہ کوئی بھی شخصیت خلا میں طاقتور نہیں بنتی اس کے پیچھے ہمیشہ ایک ماحول ہوتا ہے۔ کچھ لوگ طاقت کی طرف دیکھ کر تالیاں بجاتے ہیں، کچھ خوف سے خاموش رہتے ہیں، کچھ اپنے مفاد کے لیے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں، کچھ اس امید میں حمایت کرتے ہیں کہ شاید اب واقعی سب ٹھیک ہو جائے گا اور کچھ لوگ واقعی یہ سمجھتے ہیں کہ اس ملک کو بس ایک مضبوط آدمی چاہیے، پھر سب مسئلے خود بخود حل ہو جائیں گے۔
یہ "مضبوط آدمی" کی خواہش شاید ہماری سیاسی نفسیات کا سب سے پرانا فریب ہے۔ہم اداروں کو مضبوط بنانے کی تکلیف نہیں اٹھانا چاہتے، ہمیں اداروں کے اوپر ایک طاقتور شخص چاہیے۔ ہمیں قانون کی بالادستی کا طویل اور مشکل راستہ پسند نہیں، ہمیں ایک ایسا آدمی چاہیے جو ایک فون کرے اور کام ہو جائے۔ ہمیں پارلیمانی بحث کی طوالت سے الجھن ہوتی ہے، ہمیں ایک ایسا حکمران چاہیے جو کہے اور فیصلہ ہو جائے جبکہ ہمیں اختلاف کی تہذیب مشکل لگتی ہے، ہمیں ایک ایسا لیڈر چاہیے
جس کے مخالفوں کو خاموش کرا دیا جائے۔یہ تضاد صرف سیاست دانوں میں نہیں، ہمارے اندر بھی ہے۔ہم اصولوں کے نہیں، اکثر اپنے فریق کے وفادار ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں شخصیت پرستی نے سیاسی اختلاف کو نظریاتی اختلاف سے نکال کر شخصی دشمنی میں بدلنے میں بڑا کردار ادا کیا۔ ایک شخص کے حامی دوسرے شخص کے حامیوں کو صرف سیاسی مخالف نہیں سمجھتے، انہیں اپنے قومی تصور کا دشمن سمجھنے لگتے ہیں۔ پاکستانی سیاست میں ہم نے یہ منظر بار بار دیکھا ہے۔ ایک زمانے میں ایک شخصیت کے نام پر پورا سیاسی خواب کھڑا ہوا، پھر دوسری شخصیت اس خواب کی نفی بن کر سامنے آئی۔ کبھی بھٹو صاحب کو عوامی سیاست کی ایک بڑی علامت بنایا گیا، پھر ان کے گرد بننے والی عقیدت نے سیاسی بحث کو ایک نئے انداز میں متاثر کیا۔ بعد کے برسوں میں بے نظیر بھٹو اور نواز شریف جیسے بڑے سیاسی نام بھی اپنی اپنی جماعتوں اور ووٹرز کی شناخت کا مرکزی حوالہ بنتے گئے۔ پھر ایک نئی نسل کے لیے عمران خان محض ایک سیاسی جماعت کے سربراہ نہیں رہے بلکہ تبدیلی کی علامت بن گئے۔
ان سب شخصیات کے تاریخی کردار، کامیابیاں، ناکامیاں، فیصلے اور سیاسی ورثے اپنی اپنی جگہ بحث کا موضوع ہیں۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ ہم شخصیت کو اصول سے بڑا کب بنا دیتے ہیں۔بھٹو سے محبت اپنی جگہ مگر آئین بھٹو سے بڑا ہونا چاہیے۔بے نظیر کی جدوجہد اپنی جگہ مگر جمہوری ادارے کسی ایک خاندان سے بڑے ہونے چاہئیں۔ نواز شریف کے سیاسی تجربے اپنی جگہ، مگر ریاست کسی فرد کے سیاسی مستقبل سے بڑی ہونی چاہیے۔عمران خان کے حامیوں کے لیے ان کی اندھی تقلید اپنی جگہ مگر قانون، آئین اور ادارے کسی بھی مقبول رہنما سے بڑے ہونے چاہئیں ،یہی بات ہر جماعت، ہر رہنما اور ہر دور کے لیے یکساں ہونی چاہیے۔
یہاں ایک سوال بہت ضروری ہے کہ اگر ایک جماعت اپنے قائد کے بغیر اپنی سمت متعین نہیں کر سکتی تو کیا وہ واقعی ایک سیاسی ادارہ ہے؟اگر کارکن قائد سے اختلاف نہیں کر سکتا تو کیا وہ کارکن ہے یا مرید؟ہمیں یہ سمجھنے میں شاید ابھی بہت وقت لگے گا کہ جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں۔ جمہوریت اس شعور کا نام ہے جس میں ہم اپنے پسندیدہ لیڈر کو بھی غلط کہنے کی اخلاقی جرأت رکھتے ہوں۔ آج ہمیں شاید سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے سیاسی ہیروز کو انسان رہنے دیں۔ ان کی غلطیوں پر بحث کیجیے، ان کے تاریخی کردار کا تجزیہ کیجیے مگر انہیں اتنا بڑا مت کیجیے کہ ان کے آگے ریاست چھوٹی پڑ جائے۔کیونکہ پاکستان کسی ایک شخص کا نہیں ، یہ ان کروڑوں لوگوں کا ملک ہے جو اس ملک میں پیدا ہوئے، جنہوں نے اس کے لیے قربانیاں دیں، جو آج بھی مہنگائی، بے روزگاری، پانی، تعلیم، صحت، امن اور انصاف کے سوالوں کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔
ہمیں اب یہ سمجھنا ہوگا کہ لیڈر کا سب سے بڑا امتحان اس کے جلسوں کا ہجوم نہیں، اس کے بعد بچ جانے والا نظام ہے۔ وہ اپنے پیچھے کس حد تک مضبوط ادارے چھوڑتا ہے ؟ باشعور شہری چھوڑتا ہے یا اندھے پیروکار؟ اختلاف کی گنجائش چھوڑتا ہے یا خوف کی روایت؟۔
تاریخ نعروں کا شور اپنے ساتھ نہیں لے جاتی، وہ صرف یہ دیکھتی ہے کہ اقتدار کس نے کیسے استعمال کیا، اختلافی رائے کے ساتھ کیا سلوک ہوا، قانون کہاں کھڑا رہا۔پاکستان کو اب کسی نجات دہندہ کی نہیں، ایسے سیاسی شعور کی ضرورت ہے جو پاکستان کو شخصیت، مقبولیت،آئین اور جماعت سے بڑا سمجھ سکے۔ ایسے رہنما کی ضرورت ہے جو اپنے حامیوں کو مرید نہیں، باشعور شہری بنائے اور ایسے شہریوں کی بھی، جو اپنے محبوب لیڈر سے محبت کرتے ہوئے بھی اس سے سوال کرنے کا حق اپنے پاس رکھیں۔کیونکہ اختلاف غداری نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی اختلاف ہی وہ آخری چراغ ہوتا ہے جو اندھی عقیدت کے اندھیرے میں جلتا رہتا ہے۔جس دن قوم نے اس چراغ کو بھی بجھا دیا، پھر تباہی کو کسی دشمن کی ضرورت نہیں رہتی۔ تاریخ صرف یہ نہیں پوچھتی کہ لیڈر کون تھا۔وہ یہ بھی پوچھتی ہے کہ جب ایک شخص کو بہت بڑا بنایا جا رہا تھا، تب قوم کہاں تھی؟اور شاید اس سوال کا جواب ہی کسی قوم کے عروج یا زوال کی اصل کہانی ہوتا ہے۔