ڈھاکہ : بنگلہ دیش کی سیاست نے ایک مکمل دائرہ مکمل کر لیا ہے۔ سترہ سالہ طویل جلاوطنی، قید و بند کی صعوبتوں اور سنگین الزامات کا سامنا کرنے والے طارق رحمان اب ملک کے اگلے وزیراعظم بننے کے لیے تیار ہیں۔ عام انتخابات کے نتائج نے ثابت کر دیا ہے کہ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) اب بھی عوامی مقبولیت میں سب سے آگے ہے۔
حالیہ انتخابات میں بی این پی اور اس کے اتحادیوں نے 299 میں سے 212 نشستیں حاصل کر کے پارلیمنٹ میں بھاری اکثریت حاصل کر لی ہے۔ بنگلہ دیش الیکشن کمیشن کے مطابق بی این پی نے اکیلے 181 نشستیں جیتیں، جبکہ اس کی اتحادی جماعت اسلامی 61 نشستوں کے ساتھ دوسرے بڑے گروپ کے طور پر ابھری ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حسینہ واجد کی حکومت گرانے میں اہم کردار ادا کرنے والی نوجوانوں کی تنظیم 'نیشنل سٹیزن پارٹی' (NCP) صرف 5 نشستیں ہی حاصل کر سکی۔
طارق رحمان کا سیاسی سفر کسی فلمی داستان سے کم نہیں۔ وہ بنگلہ دیش کے سابق صدر ضیا الرحمان اور سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کے بڑے صاحبزادے ہیں۔ 2007 میں کرپشن الزامات کے تحت گرفتاری اور تشدد کے بعد وہ 2008 میں علاج کے لیے لندن چلے گئے تھے، جہاں انہوں نے 17 سال جلاوطنی میں گزارے۔دسمبر 2025 میں ان کی واپسی نے بی این پی کے کارکنوں میں نئی روح پھونک دی، جس کا نتیجہ حالیہ انتخابی کامیابی کی صورت میں نکلا۔
اگرچہ طارق رحمان کے لیے یہ کامیابی بڑی خوشخبری ہے، مگر اقتدار سنبھالتے ہی انہیں کٹھن چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا، مہنگائی اور معاشی ابتری نے ملک کو جکڑ رکھا ہے۔ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا اور ملکی صنعت کو دوبارہ پیروں پر کھڑا کرنا اولین ترجیح ہوگی۔
بنگلہ دیش کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کہلانے والی گارمنٹس کی صنعت کو عالمی مارکیٹ میں دوبارہ مستحکم کرنا ہوگا۔ حسینہ واجد کے طویل دور کے بعد انتظامیہ اور بیوروکریسی میں توازن پیدا کرنا اور انتقامی سیاست سے بچنا ایک بڑا امتحان ہوگا۔ الیکشن کے ساتھ ہونے والے ریفرنڈم کے نتائج کی روشنی میں نئے قوانین اور آئینی تبدیلیاں لانا بھی نئی حکومت کی ذمہ داری ہوگی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طارق رحمان اب پہلے سے کہیں زیادہ سنجیدہ اور پختہ سیاستدان کے طور پر ابھرے ہیں۔ انہوں نے جلاوطنی کے دوران لندن سے اپنی پارٹی کو جس طرح متحد رکھا، وہ ان کی قائدانہ صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ اپنی اس "پختگی" کو ملک کی ترقی اور استحکام کے لیے کس طرح استعمال کرتے ہیں۔