ہفتہ بھر میں فرد ، خاندان، بستیاں، ممالک ، پورا گلوب ایک یکسانیت سے اپنی اپنی ڈگر پر اپنی سرشت کے مطابق رواں دواں ہے۔ اقبالؔ کو ان کے انقلاب انگیز اشعار و افکار سمیت ہم دفن کر کے مقبرے پر پہرہ بٹھا چکے۔ ورنہ وہ صفحہ در صفحہ حالت ِزار بیان کر چکے۔
نہ سلیقہ مجھ میں کلیم کا نہ قرینہ تجھ میں خلیل کا
میں ہلاکِ جادوئے سامری تو قتیلِ شیوۂ آذری
یعنی نہ مجھ میں اللہ سے ہم کلامی ؍ملاقات (قرآن فہمی) کی آرزو ہے نہ تجھ میں براہیمی ایمان۔ (بین الاقوامی حالات تو مشرق وسطیٰ میں ہم مسلمانوں ہی پر مرتکز ہیں۔ سو یہ اقبال ’میں اور تو‘ بانگِ درا میں شکوہ کناں ہیں۔) اگر میں یہودی جادوگر (سامری) کا پیرو ہوں ، تو ، تو بت گر آذر کا متبع ہے۔ یعنی پوری قوم اسلام سے منحرف ہو چکی۔
گلۂ جفائے وفا نما کہ حرم کو اہلِ حرم سے ہے
کسی بت کدے میں بیاں کروں تو کہے صنم بھی ہری ، ہری
یعنی اے مسلمانو! تم نے اسلام کے ساتھ ایسی بے وفائی کی ہے کہ بظاہر وہ وفا ہے لیکن دراصل جفا ہے۔ زبان سے دعویٰٔ توحید اور عمل دورنگی اور ضعف کا شکار۔ اگر میں تمہاری منافقت کی داستان کا فروں کو سناؤں تو وہ بھی تمہارے طرزِ عمل پر تو بہ توبہ کر اٹھیں!
فلسطین پر 3 سال جو بیتی ، دوارب امت کی کہانی مذکورہ جفائے وفانما ہی تو ہے۔ ان کی تڑپا دینے والی کہانی نے پورے مغربی عوام کو ہلا، دہلا کر رکھ دیا۔ تو بہ توبہ کر اٹھے۔ طلباء نے اپنی ڈگریاں، قیمتی مستقبل ضائع کرنے میں دریغ نہ کیا، یونیورسٹیوں کو احتجاج گاہوں میں بدل ڈالا۔ آج بھی طویل سلسلہ امریکی گوئیے ، میکل مور کے فلسطینیوں کے حق میں مضبوط مؤقف نے مغربی عوام کو ہلا ڈالا۔ اسے نہایت نفع بخش پروگراموں کے ٹؤر سے اسی بناپر نکال دیا مگر اس کی تقاریر گونجتی ، ضمیر جھنجوڑتی رہیں۔ جس پر 4 مزید گوئیے ٹور چھوڑ کر نکل آئے۔ اس نے خود6 فلسطینی مدد گار تنظیموں کو ایک ملین ڈالر عطیہ مدد کو دیا۔ پے در پے دیگر نے بھی بھاری عطیے دیئے۔ حتیٰ کہ ساتھ چھوڑنے والے ساتھی اور نکالنے والے کٹر اسرائیل نواز کرافٹ کو بھی (2 ملین ڈالر) عطیہ شرمندہ ہو کردینا پڑ گیا۔ میکل مور نے تقاریر میں اہلِ غزہ و مغربی کنارے کی تکلیف دہ منظر کشی کی۔کولمبیا یونیورسٹی کے طلباء کو ’ہند ہال‘ (فلسطینی شہید بچی کے نام پر) بنانے اور تعلیمی ، مالی قربانیاں دینے پر خراجِ تحسین پیش کیا۔ اور کہا کہ ’اصل ضرورت سیاسی تبدیلی کی ہے۔‘ ایک گوئیا بھی جانتا ہے کہ ’ھو الحل‘۔حل دنیا میں سیاسی تبدیلی ہے! اسی لیے تو مغرب سیاسی اسلام سے خوفزدہ ہے ، ایسے نوجوانوں ، تنظیموں کو حوالۂ زنداں کرتا ہے۔ اپنے ہی عوام کو فلسطین کے حقوق پر بلند آہنگ مظاہروں پر سزائیں دیں ، نوکریوں سے نکالا۔ فرانسپس البنیز، فلسطینی علاقہ
جات کی ماہر، یو این ترجمان کی شامت لے آیا۔ افغانستان کی جان کو آگیا کیونکہ وہ اسلامی حکومت بنا بیٹھا۔ تکبیر کو ٹیرر نعرہ ( Terror Chant) قرار دینے کی کوشش کی۔ ’اللہ اکبر‘ پر ان کا دم نکلتا ہے کیونکہ یہ دہشت دل پر بٹھاتی ہے۔ حکمراں ہے اک وہی باقی بُتانِ آذری ،کا اعلانِ عام ہے!
فلسطین میں دونوں طرف غزہ ، مغربی کنارہ اسرائیلی دہشت گردی جاری ہے۔ہم مسلمانوں نے گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنے کونام نہاد امن بورڈ بنوا دیا تھا مگر ۔ اب تک غزہ میں جنگ بندی کے بعد سے ساڑھے 13 سو شہید کیے جاچکے ہیں۔ مسلسل دربدری اور پھٹے خیموں میں رہتے اب بے شمار مخدوش بلڈنگوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ جن میں سے ایک گر گئی جس میں کئی خاندان رہ رہے تھے۔ 21 شہید بشمول 6بچے اور 25 زخمی، 60 لاپتہ ہو گئے ملبے تلے! یو این کے مطابق 80 فی صدعمارات تباہ ہو چکیں یا مخدوش حالت میں ہیں۔ حماس پوری درد مندی سے خالی ہاتھوں سے ملبوں میں دبے زخمی نکالتی رہی۔ بھاری مشینری کی اسرائیل اجازت نہیں دیتا۔ بمشکل کہیں ایک آدھ میسر آئی۔ اسرائیلی حملوں سے 61ملین ٹن ملبہ اور کوڑا کرکٹ بنا ہے۔ جس کی صفائی کو یو این کے مطابق 7 سال درکار ہوں گے۔ اس ماہ فلسطینی سول ڈیفنس نے کہا کہ غزہ کے ایک مقام سے 96 اجسادِ خاکی بازیاب ہوئے، جن میں 58 بچے اور 23 خواتین ہیں۔ اسی لیے تو غزہ کا انتظام چلاتی حماس کو نشانہ بنا کر اسرائیل ختم کرنے پر کمر بستہ ہے تاکہ غزہ حکومتی اعتبار سے مکمل یتیم ہو جائے۔ دنیا میں آواز باقی نہ رہے۔ حقائق نہ کھلیں۔
اسی لیے غزہ وزارتِ صحت کے ڈائریکٹر جنرل منیر البرش کے جواں سال بیٹے کو 19 ستمبر کو اسرائیلی حملے میں شہید کیا گیا۔ قبل ازاں بیٹی بھی اسی طرح شہید ہو چکی۔ باپ بیٹا خیمے میں اکٹھے بھی تھے۔ بیٹے نے کہا: ’’بابا!وہ ہم دونوں کو اکٹھا نشانہ بنائیں گے‘۔ باپ نے کہا :’اچھا ہے ہم دونوں اکٹھے جنت جائیں گے‘۔ بیٹا جو نہی باہر نکلا ، اسے ڈرون سے شہید کر دیا گیا۔ یہ ہر دن کی کہانیاں ہیں۔ علاوہ ازیں اسرائیلی وزیر دفاع کاٹز کہہ چکا کہ ہم نے فلسطینیوں کو مکمل یہاں سے نکال پھینکنا ہے صرف جگہ کی تلاش اور امریکی رضامندی چاہیے۔ جنیوا کنونشن کے تحت مقبوضہ مقام سے شہریوں کی جبری بے دخلی جنگی جرم ہے ۔( ہم کشمیر کے لیے یہ نکتہ نوٹ کر لیں۔) انٹرنیشنل کریمنل کورٹ نیتن یا ہو اور پچھلے وزیرِ دفاع کے وارنٹ گرفتاری جنگی جرائم پر جاری کر چکا ہے۔
امریکہ نے اپنے شہریوں کو مشرقِ وسطیٰ جانے پر متنبہ کیا ہے کہ تنازع بڑھ سکتا ہے۔ حوثیوں کے ریاض اور ینبوع میں آرامکو پر حملوں کے تناظر میں۔ یہ تنبیہہ امریکی اسرائیلی عزائم کااظہار بھی ہے۔ لبنان پر اسرائیل حسب ِسابق حملے کر رہا ہے۔ دنیا میں معیشت کی شہ رگ تیل! دوہری دبوچی گئی ہے۔ پہلے صرف ایران حملہ آور تھا، اب دنیا کو تیل سپلائی کرنے والا اہم ملک سعودی عرب حوثیوں کے حملوں کی زد میں بھی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کا پھیلاؤ مسلم ممالک (اورباقی دنیا بھی) کی معیشت پر کاری ضرب ہے۔ مسلمانوں پر یہ نیند کے ماتوں کو جگانے کے تھپیڑے ہیں مگر ہم حسب سابق ہیں۔ فلسطینیوں پر قیامت ٹوٹ رہی تھی اور ہم سبھی مجرمانہ خاموشی اختیار کیے رہے۔ امریکہ ، اسرائیل شہ پا کر اپنے ایجنڈے پورے کرتے چلے جارہے ہیں۔
یمن پر جنگ نے تیسری مرتبہ مسلم عوام کو بے دخلی پر مجبور کر دیا۔ 20 لاکھ یمنی نکل کر مآرب کے صحرا میں ٹینٹوں میں جا بسے ہیں۔ دن کی تپش ، رات ٹھنڈی ، مٹی دھول ، ضروریاتِ زندگی حد درجے محدود۔تیسری مرتبہ کی بے دخلی تکلیف دہ کہانی ہے ، دنیا میں آج کے مسلمانوں کا مقدر! ٹینٹوں میں بچوں کے سکول۔ اس وقت دنیا میں اہم تجارتی آبی گزرگاہوں کی تنگنائے ، دونوں ایران کے بالواسطہ، بلا واسطہ ، تابع آچکی ہیں۔ سعودی 1200 کلومیٹر کی پائپ لائن کا اڑانا عراقی ملیشیا کے ہاتھوں ہو چکا۔ جنگ کا یہ پھیلاؤ ایک طرف یمن میںحوثی ، پورا مشرقِ وسطیٰ ، عراق، ایران ،لبنان، اسرائیل سب طرف ہے۔ امریکہ سعودی عرب کی مدد کے لیے حوثیوں پر حملے کو تیار نہیں۔ جو سعودی معیشت پر اثر انداز ہے اب۔ سفارت کاری ناکام ہی رہی ہے ۔حالیہ جنرل اسمبلی اجلاس کے باوجود عملی پیش رفت کا امکان نہیں۔
اس دوران پاکستان کے داخلی مسائل عروج پر ہیں۔ ملک کنٹینرستان بنا رہتا ہے۔ مظاہروں پر عوام کمر بستہ ہیں۔ تنگ آمد بجنگ آمد۔ اپنے اخراجات حکومت کنٹرول کرنے میں بقدرِ اشک بلبل ہی اقدام کرتی ہے۔ سادگی اپنا نے، غیرپیداواری اخراجات روکنے ، پابندی لگانے کا امکان نہیں۔ ایک بچہ بچانے پر نرس کو ایک کروڑ روپیہ عوام کی جیبوں سے دیا گیا۔ حکمران اپنی پھٹنے کو آئی ٹھنسی جیبوں اور ملکوں ملکوں رکھے بینک اکائونٹ سے ادا کیوں نہیں کرتی ایسے انعامات؟ جل جانے والے معصوم بچوں کی دیت حکمرانوں کے ذمے ہے۔
جان بلب مہنگائی کے مارے اگر خاتونِ پنجاب کی خاندانی شادیاںعوام کی نگاہ سے چھپا لی جاتیں تو کیا بہترنہ تھا؟ نظر لگنے کے اندیشے الگ۔ مغلِ اعظم پشوازوں ، ہیرے جواہرات کی نمائش اور تذکرے ، ماں، بہو ، بیٹی کی تصاویر، وڈیوز۔تقابل میں نالہ لئی کے کچرے بھرے سیلابوں سے بحال ہوتے ناک سڑ سڑاتے ، برہنہ پا، میلے کچیلے، فاقوں سے پٹخے پیٹ لیے ڈوبتے ابھرتے بچے بڑے…؟ ایک طرف’ خوشحال پاکستان‘ کی جھلک ، دوسری طرف غربت کی انتہا، بے روزگاری، کچی آبادیوں میں کیڑے مکوڑوں سی زندگی!نوجوان چوری، ڈاکوں، منشیات کی نذر! موٹر سائیکل پٹرول کو ترستے بمشکل تمام خیراتی پیکیج پر سکھ کا سانس اور ٹھنڈی آہیں بھرتے (باقی اخراجات کے مارے)! یہ بے رحمی اور شانِ بے نیازی زیبا نہیں۔