Sun, September 27, 2026

حکمت عملی یاشرمندگی سے بچنے کا ٹوٹکا ؟

حکمت عملی یاشرمندگی سے بچنے کا ٹوٹکا ؟

پاکستان تحریک انصاف اب جو بھی توضیحات پیش کرے لیکن شائد وہ عوام اور میڈیا کو اس بات پر قائل نہ کرسکیں کہ آخر کیوں ستائیس ستمبر کی وہ تاریخ جسے کئی ہفتوں سے حتمی اور ناقابل تبدیل قرار دیا جا رہا تھا، بالآخر پانچ اکتوبر تک موخر کر دی گئی۔ یقینایہ فیصلہ کوئی اچانک تو نہیں ہوا ہو گااور شائد اس کے پیچھے وہی پرانی کہانی ہو جوپی ٹی آئی کی احتجاجی سیاست کا خاصہ بن چکی ہے، یعنی: بلند بانگ دعوے، سخت بیانات، سڑکوں پر نکلنے کی دھمکیاں، اور پھر عین وقت پر پسپائی۔
صوبہ خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع اللہ جان چند دن پہلے تک قوم کو یقین دلا رہے تھے کہ ستائیس ستمبر کی تاریخ میں کسی بھی صورت کوئی تبدیلی نہیں ہوگی، بیس لاکھ سے زائد افراد اسلام آباد کا رخ کریں گے، اور مالی اور لاجسٹک انتظامات حتمی مراحل میں ہیں۔ مگر پارٹی کی اندرونی صفوں میں جو اختلاف پک رہا تھا وہ بالآخر سامنے آ گیا۔ وزیر اعلیٰ ہاؤس پشاور میں ہونے والے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں ایک طبقہ پنجاب کی سرحد پر دھرنا دے کر مرحلہ وار پیش قدمی کا حامی تھا، جبکہ دوسرا دھڑا فوری طور پر اسلام آباد کی طرف بڑھنے پر بضد تھا۔ دو گھنٹے کی طویل بحث کے باوجود اتفاق رائے نہ ہو سکا، اور معاملہ آگے کے مشاورتی اجلاسوں تک ٹلتا چلا گیا، بالآخر پوری تحریک ہی پانچ اکتوبر تک کھسکا دی گئی۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ تاخیر کی کیوں گئی؟ اس کا ایک جواب وہی ہے جو پارٹی ذرائع نے دیاہے ، یعنی حکمت عملی پر اختلاف اور مزید مشاورت کی ضرورت۔ مگر سیاسی مبصرین اور عوامی تاثر میں اس کی دو اور ممکنہ توجیہات بھی ہیں، اور دونوں ہی پارٹی کی اندرونی کمزوریوں کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔
پہلی توجیہہ یہ ہے کہ شاید انتظامات وقت پر مکمل نہیں ہو سکے، اور لوگوں کی شمولیت کے حوالے سے بھی وہ جوش و خروش دیکھنے میں نہیں آیا جس کا دعویٰ کیا جا رہا تھا۔ سہیل آفریدی کی جانب سے بیس لاکھ سے زائد افراد کی شرکت کا اعلان ایک ایسا ہدف بن گیا جسے پورا کرنا ناممکن تھا۔ اگر مقررہ تاریخ پر یہ ہجوم جمع نہ ہو پاتا، تو یہ پارٹی کے لیے شدید سیاسی سبکی کا باعث بنتا۔ ایسے میں تاریخ کو آگے بڑھا کر ایک ایسا راستہ فراہم کر دیا گیا ہے جس سے یقینی ناکامی کو ’حکمت عملی میں تبدیلی‘ کا نام دے کر چھپانے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ پارٹی کے اندر یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ سہیل آفریدی نے تاریخ کا اعلان مکمل مشاورت کے بغیر ہی کر دیا تھا، جس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ فیصلہ جذباتی بنیادوں پر کیا گیا اور بعد میں زمینی حقائق کا ادراک ہونے پر پیچھے ہٹنا پڑا۔ اگر یہی وجہ درست ہے تو یہ پارٹی کی تنظیمی صلاحیت اور عوام سے رابطہ پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے، کیونکہ جو جماعت اتنے بڑے ہدف کا اعلان کرنے سے پہلے اپنی صفوں میں اتفاق رائے اور زمینی تیاری کو یقینی نہ بنا سکے، اسے اتنے بڑے بڑے دعوے کرنے ہی نہیں چاہئیں۔
دوسری توجیہہ اس سے قدرے مختلف اور زیادہ تدبیراتی نوعیت کی ہے۔ کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ تاریخ میں یہ تبدیلی محض ناکامی چھپانے کے لیے نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی چال کے تحت کی گئی، جس کا مقصد حکومت کو مسلسل تیاریوں پر مجبور رکھنا اور اس کے وسائل کو صرف کرانا ہے۔ اس نکتہ نظر کے مطابق، جب تک لانگ مارچ کی دھمکی برقرار رہتی ہے، حکومت کو رینجرز اور فوج کی تعیناتی، شاہراہوں کی بندش، کنٹینرز کی دستیابی، اور دوسرے صوبوں سے منگوائی گئی پولیس کی بھاری نفری جیسے اقدامات جاری رکھنا پڑیں گے، جن کی وجہ سے خاصا مالی و انتظامی بوجھ آئے گا۔ پنجاب حکومت کی جانب سے وفاق کو بھیجے گئے خط میں آرٹیکل دو سو پینتالیس کے تحت پانچ اکتوبر تک کے لیے راولپنڈی، اٹک، جہلم اور میانوالی کے لیے رینجرز کی متعدد کمپنیوں اور ونگز کی تعیناتی مانگی گئی ہے، جسے کابینہ کمیٹی برائے امن و امان نے منظور بھی کر لیا ہے۔ تیس ہزار سے زائد پولیس اہلکار اٹک پہنچائے گئے ہیں، موٹروے اور جی ٹی روڈ کے وسیع حصے بند ہیں، اور صوبے بھر میں دفعہ ایک سو چوالیس نافذ ہے۔ یہ سب اقدامات نہ صرف حکومتی خزانے پر ایک اضافی بوجھ ہیں بلکہ انتظامی مشینری کو بھی مسلسل تھکاوٹ اور دباؤ میں مبتلا رکھنے کا سبب ہیں۔ اگر تاریخ بار بار آگے بڑھائی جاتی رہے تو حکومت کو بار بار وہی سکیورٹی انتظامات دہرانا پڑیں گے، جس سے وسائل کا ضیاع ہوگا اور ریاستی مشینری کی توجہ دیگر اہم امور سے ہٹ جائے گی۔
ان دونوں توجیہات میں سے کون سی زیادہ حقیقت کے قریب ہے،سردست تو اس کا جواب دیناخاصا مشکل ہے، کیونکہ پی ٹی آئی کی جانب سے سرکاری طور پر صرف’حکمت عملی میں تبدیلی‘ اور’مشاورت کی ضرورت‘ کا بیان ہی سامنے آیا ہے۔ مگر جو بھی وجہ ہو، ایک بات واضح ہے کہ اس عمل سے پی ٹی آئی کی سیاسی ساکھ کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔ 
 اس پوری صورتحال کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے بات چیت کی پیشکش بھی سامنے آئی ہے۔ چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا کہ محمود خان اچکزئی اور پارٹی قیادت مذاکرات کے لیے تیار ہیں، مگر ان کا الزام ہے کہ حکومت مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ نہیں۔ دوسری طرف حکومتی مشیر رانا ثناء اللہ نے واضح کر دیا ہے کہ جب تک لانگ مارچ موخر نہیں کیا جاتا کسی قسم کے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے ، شہر میں لگائے گئے کنٹینرز محض حفاظتی اقدام کے طور پر ہیں اور کسی کو بھی اسلام آباد پر چڑھ دوڑنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ یہ بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ دونوں طرف اعتماد کی شدید کمی ہے، اور جب تک یہ خلا پر نہیں ہوتا، شائد بار بار تاریخیں بدلنے اور سکیورٹی اقدامات کو دہرانے کا سلسلہ اسی طرح سے جاری رہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو موجودہ صورتحال ایک بار پھر اسی پرانے سیاسی بحران کی عکاسی کرتی ہے جس میں مذاکرات کے دروازے بند، سڑکوں پر طاقت کے مظاہرے، اور انتظامی سختیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے بار بار احتجاج کی تاریخیں بدلنا، اندرونی اختلافات کا سامنے آنا، اور بیس لاکھ جیسے غیر حقیقی اعداد و شمار دے کر بعد میں پیچھے ہٹ جانا، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پارٹی کے پاس ابھی تک کوئی واضح، مربوط اور قابلِ عمل سیاسی لائحہ عمل موجود نہیں۔ اور اگر یہ سب کچھ محض حکومت کو مصروف اور تھکا کر رکھنے کی چال ہے تو یہ ایک ایسی منفی سیاست ہے جس کا خمیازہ بالآخر عام شہری کو بھگتنا پڑتا ہے، جس کے راستے بند ہوتے ہیں، کاروبار متاثر ہوتا ہے، اور روزمرہ زندگی درہم برہم ہو جاتی ہے۔
پانچ اکتوبر تک کا یہ وقفہ دراصل دونوں فریقین کے لیے ایک آزمائشی مرحلہ ہے۔ اگر اس دوران سنجیدہ مذاکرات کا راستہ نکل آیا تو شاید ملک ایک اور غیر ضروری محاذ آرائی سے بچ سکے، ورنہ پانچ اکتوبر بھی ماضی کی طرح محض ایک اور تاخیر زدہ تاریخ ثابت ہو سکتی ہے، جس کے بعد ایک نئی تاریخ، ایک نیا جواز، اور وہی پرانا چکر دوبارہ شروع ہو جائے گا۔

ٹیگز: