کولمبو : روایتی حریفوں پاکستان اور انڈیا کے درمیان کل ہونے والے ٹاکرے سے قبل میدانِ جنگ کی بساط بچھ چکی ہے۔ جہاں دنیا بھر کی نظریں اس ہائی وولٹیج مقابلے پر جمی ہیں، وہیں کرکٹ کے اعداد و شمار ایک حیران کن کہانی سنا رہے ہیں۔ ماہرین کا دعویٰ ہے کہ بھارتی بلے بازوں کی حالیہ 'سپن کمزوری' اور پاکستانی سپنرز کی بپھری ہوئی فارم اس بار گرین شرٹس کو ایک ایسا سنہری موقع فراہم کر رہی ہے جو شاید پہلے کبھی نہیں ملا۔
بھارتی کرکٹ ٹیم، جو کبھی دنیا کے بہترین سپنرز کو تگنی کا ناچ نچاتی تھی، اب خود سپن کے جال میں پھنستی دکھائی دے رہی ہے۔ حالیہ میچوں میں نمیبیا کے کپتان جیرارڈ ایراسمس نے محض 20 رنز دے کر انڈیا کے چار بڑے سورماؤں (ایشان کشن، ہاردک پانڈیا، تلک ورما اور اکشر پٹیل) کو پویلین کی راہ دکھائی۔ صرف نمیبیا ہی نہیں، بلکہ امریکہ کے لیگ سپنر محمد محسن اور ہرمیت سنگھ نے بھی بھارتی بیٹنگ لائن کے بخیے ادھیڑ کر رکھ دیے تھے۔ سوشل میڈیا پر بھارتی شائقین خود اعتراف کر رہے ہیں کہ ان کی ٹیم سپنرز کے خلاف دباؤ کا شکار ہو جاتی ہے۔پاکستان، جو روایتی طور پر اپنی فاسٹ باؤلنگ کے لیے مشہور رہا ہے، اس بار ایک مختلف روپ میں نظر آ رہا ہے۔
نیدرلینڈز اور امریکہ کے خلاف گذشتہ دو میچوں میں پاکستانی سپنرز نے مجموعی طور پر 13 وکٹیں حاصل کیں، جو ان کی خطرناک فارم کا ثبوت ہے۔بھارتی آف سپنر آر ایشون نے خود خبردار کیا ہے کہ عثمان طارق کا منفرد اور 'وقفے' والا باؤلنگ ایکشن انڈیا کے لیے سب سے بڑا 'ٹرمپ کارڈ' ثابت ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس ایکشن کو سمجھنا بھارتی ٹاپ آرڈر کے لیے ایک ڈراؤنا خواب بن سکتا ہے۔بھارتی بیٹنگ کا یہ بحران نیا نہیں ہے۔ 2024 میں ہوم گراؤنڈ پر نیوزی لینڈ سے عبرتناک شکست اور جنوبی افریقہ کے سپنر سائمن ہارمر کے ہاتھوں 17 وکٹیں گنوانا اس بات کی مہر ہے کہ بھارتی سورما اب گیند کے گھومنے پر حواس کھو دیتے ہیں۔ آر ایشون نے تلخ اعتراف کرتے ہوئے کہاکہ اس وقت ہمارا بیٹنگ یونٹ سپنرز کا سامنا کرنے میں دنیا میں شاید سب سے خراب ہے۔ ایان سمتھ (سابق کرکٹر): "بھارتی بلے باز اب خود پر شک کر رہے ہیں، ان کا سپنرز کے خلاف اعتماد ختم ہو چکا ہے۔
کل کا میچ کولمبو میں شیڈول ہے، جہاں کی پچیں روایتی طور پر سپنرز کی 'جنت' سمجھی جاتی ہیں۔ یہاں گیند نہ صرف ٹرن ہوتی ہے بلکہ رک کر بھی آتی ہے، جو پاکستان کے متنوع سپن اٹیک (لیگ سپن، آف سپن اور مسٹری سپن) کے لیے بہترین کنڈیشنز ہیں۔ اگر پاکستانی کپتان نے اپنے سپنرز کا درست استعمال کیا، تو 15 فروری کا دن انڈیا کے لیے ایک بڑی عبرت بن سکتا ہے۔