اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا پلیٹ فارم دنیا بھر کے ممالک کے لیے صرف تقاریر کرنے کی جگہ نہیں بلکہ عالمی سیاست کے آئندہ رخ کا اندازہ لگانے کا ایک اہم موقع بھی ہوتا ہے۔ اس سال اقوام متحدہ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے خطابات نے بالخصوص دنیا کی توجہ حاصل کی، کیونکہ دونوں رہنماؤں نے ایک ہی بحران کو دو مختلف زاویوں سے دنیا کے سامنے رکھا۔ ایک طرف واشنگٹن کی طرف سے طاقت، دباؤ اور فوجی کارروائی کو ایران کے خلاف امریکی پالیسی کا جواز قرار دیا گیا، جبکہ دوسری طرف تہران نے جنگ، پابندیوں اور دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے مذاکرات اور سفارت کاری کا راستہ کھلا رکھنے کی بات کی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ سے خطاب میں ایران کو اپنے لیے ایک بڑے خطرے کے طور پر پیش کیا اور امریکی فوجی کارروائی کا دفاع کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ لیکن اسی خطاب میں امریکی صدر نے یہ بھی اشارہ دیا کہ ایک معاہدے کی گنجائش موجود ہے اور مذاکرات کے ذریعے معاملہ حل ہو سکتا ہے۔ اس کے باوجود ایران کے خلاف ان کی انتہائی سخت زبان، بالخصوص ایران کو تباہ کرنے کی دھمکی، عالمی سطح پر اس سوال کو ضرور جنم دیتی ہے کہ کیا دھمکی اور مذاکرات بیک وقت ایک مؤثر سفارتی حکمت عملی بن سکتے ہیں۔
دوسری طرف ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ میں کھڑے ہو کر امریکی مؤقف کا بھرپور جواب دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران دباؤ کے سامنے سر نہیں جھکائے گا، تاہم ایران مذاکرات اور سفارت کاری کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ بات چیت طاقت اور دھمکی کی زبان کے بغیر ہو۔ پزشکیان نے امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کو ایران کے خلاف جارحیت قرار دیتے ہوئے شہری ہلاکتوں کا حوالہ دیا اور یہ مؤقف پیش کیا کہ ایران نے جنگ مسلط نہیں کی بلکہ اپنے دفاع کی کوشش کی ہے۔
ایرانی صدر کے خطاب کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ انہوں نے مزاحمت کے ساتھ مذاکرات کی گنجائش بھی برقرار رکھی۔ یہی وہ نکتہ ہے جسے عالمی سیاست میں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ایک فریق کہہ رہا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کرے گا لیکن ساتھ ہی مذاکرات کے لیے دروازہ کھلا رکھتا ہے تو عالمی برادری کے لیے سوال یہ بنتا ہے کہ اس دروازے کو بند کرنے کے بجائے اسے مذاکرات کی میز میں کیسے تبدیل کیا جائے۔ دوسری جانب امریکہ کا کہنا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام اور علاقائی سرگرمیوں سے متعلق خدشات حقیقی ہیں اور انہیں کسی قابلِ اعتماد معاہدے کے ذریعے حل کرنا ضروری ہے۔
یہاں اسرائیل کا پہلو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ٹرمپ انتظامیہ مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے ساتھ قریبی تزویراتی تعلق رکھتی ہے اور ایران کے خلاف امریکی پالیسی میں اسرائیل کے ساتھ شراکت ایک نمایاں عنصر ہے۔
اسی دوران پاکستان کا کردار خاص طور پر قابلِ توجہ ہے۔ پاکستان نہ صرف ایران کا ہمسایہ ملک ہے بلکہ امریکہ کے ساتھ بھی اس کے اہم تعلقات ہیں۔ اسلام آباد نے ابتدا ہی سے کوشش کی ہے کہ وہ کسی ایک فریق کے ساتھ کھڑا ہونے کے بجائے دونوں کے درمیان رابطے اور مذاکرات کا راستہ کھلا رکھے۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی بحالی کے لیے مسلسل کوششیں کر رہا ہے۔ اسلام آباد نے واضح کیا ہے کہ دونوں ممالک کے ساتھ اس کے اپنے آزادانہ تعلقات ہیں اور یہی اعتماد اسے سہولت کاری اور ثالثی کا کردار ادا کرنے کی گنجائش دیتا ہے۔
اقوام متحدہ کے موجودہ اجلاس میں بھی پاکستان خاموش تماشائی نہیں رہا۔ وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مختلف عالمی رہنماؤں سے ملاقاتوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی راستہ برقرار رکھنے کی کوششیں جاری رکھیں۔ پاکستانی سفارت کاری کو اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان نے بھی اہم قرار دیا اور کہا کہ پاکستان کی کوششیں دونوں فریقوں کو مذاکرات کی طرف واپس لانے میں اہم ہیں۔
پاکستان کے لیے یہ کردار صرف عالمی سفارت کاری کا معاملہ نہیں بلکہ براہِ راست قومی مفاد بھی ہے۔ ایران پاکستان کا ہمسایہ ہے، خلیج میں کشیدگی پاکستان کی تجارت، توانائی، سمندری راستوں اور خطے کی مجموعی سلامتی کو متاثر کر سکتی ہے۔ پاکستان پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ وہ ایران اور امریکہ دونوں کے ساتھ اپنے تعلقات برقرار رکھتے ہوئے کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی بحالی کے لیے کردار ادا کرے گا۔
اس سارے منظرنامے میں اقوام متحدہ سے آنے والی تین مختلف آوازیں نمایاں ہوتی ہیں۔ ٹرمپ طاقت کے ذریعے ایران پر دباؤ ڈالنے کی بات کرتے ہیں، پزشکیان مزاحمت اور خودمختاری کے ساتھ طاقت کے بغیر مذاکرات کی پیشکش کرتے ہیں، جبکہ پاکستان دونوں کے درمیان بات چیت کا راستہ نکالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان تینوں مؤقف میں اختلاف اپنی جگہ ہے، مگر ایک حقیقت سب کے سامنے ہے کہ جنگ کا دائرہ بڑھنے کی صورت میں نقصان صرف امریکہ یا ایران تک محدود نہیں رہے گا۔
دنیا کو آج جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ ایسے راستے کی تلاش ہے جس میں کسی ملک کی خودمختاری پامال نہ ہو، جوہری پھیلاؤ کا خطرہ کم ہو، شہری جانیں محفوظ رہیں اور اختلافات جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر حل ہوں۔ ٹرمپ کا خطاب طاقت کا پیغام تھا، پزشکیان کا خطاب مزاحمت کے ساتھ سفارت کاری کا پیغام، جبکہ پاکستان کا کردار دونوں کے درمیان رابطے کا ہے۔ اب اصل امتحان یہ ہے کہ الفاظ کب عملی مذاکرات میں تبدیل ہوتے ہیں اور مذاکرات کب ایک ایسے معاہدے تک پہنچتے ہیں جو خطے کو ایک اور طویل جنگ سے بچا سکے۔