امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا یہ حالیہ بیان کہ "امریکا اپنی مشرقِ وسطیٰ کی خارجہ پالیسی کو اسرائیل کے تابع نہیں بنا سکتا" اور یہ اشارہ کہ صدر ٹرمپ امریکی مفادات کی خاطر نیتن یاہو سے راہیں جدا کرنے کے لیے تیار ہیں، بین الاقوامی اسٹریٹجک صف بندی میں ایک بہت بڑی اور تاریخی تبدیلی کا پیش خیمہ ہے۔ دہائیوں سے امریکی خارجہ پالیسی کا یہ غیر متزلزل اصول رہا ہے کہ اسرائیل کا تحفظ اور اس کی ترجیحات واشنگٹن کے لیے مقدم رہیں گی، چاہے اس کے لیے امریکا کو خطے میں کتنی ہی بڑی عسکری یا سیاسی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے۔ لیکن اب، امریکی اقتدار کے ایوانوں سے اٹھنے والی یہ آوازیں اس بات کی گواہی دے رہی ہیں کہ تل ابیب کی اندھی حمایت کا دور اپنے انجام کو پہنچ رہا ہے۔ یہ صورتحال محض ایک سیاسی بیان نہیں، بلکہ اسرائیل کی بڑھتی ہوئی عالمی تنہائی اور زوال کی طرف قدرت کا ایک واضح اشارہ ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب کوئی ریاست اپنی بقا کے لیے اخلاقیات، بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی تمام حدیں پار کر لیتی ہے، تو وہ بتدریج اپنے مخلص ترین دوستوں کے لیے بھی ایک بوجھ بن جاتی ہے۔ اسرائیل نے غزہ، لبنان اور پورے مشرقِ وسطیٰ میں جس بیدردی اور جارحیت کا مظاہرہ کیا ہے، اس نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کو جنگ کی آگ میں دھکیلا بلکہ خود امریکی مفادات کو بھی شدید ترین دھچکا پہنچایا ہے۔ حال ہی میں مشرقِ وسطیٰ میں واقع امریکی فوجی اڈوں پر ہونے والے تباہ کن ایرانی میزائل اور ڈرون حملے، جن میں اربوں ڈالر کا امریکی فوجی ساز و سامان اور جدید انٹیلی جنس طیارے راکھ کا ڈھیر بن گئے، اس بات کا ثبوت ہیں کہ اسرائیل کے تحفظ کی قیمت اب امریکی فوجیوں کی جانوں اور ان کے تزویراتی اثاثوں کی شکل میں چکانی پڑ رہی ہے۔ واشنگٹن کے پالیسی ساز اب یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ اسرائیل کی ہٹ دھرمی کی خاطر وہ اپنے عالمی اثر و رسوخ کو داو¿ پر نہیں لگا سکتے۔
دوسری جانب، قدرت کا نظام مسلم دنیا کو ایک منفرد تاریخی موڑ پر لے آیا ہے، جہاں اسرائیل کے خلاف ایک مضبوط اور غیر علانیہ اتحاد ابھرتا دکھائی دے رہا ہے۔ ایران نے عسکری میدان میں کھل کر
مزاحمت کی قیادت کی ہے اور فرنٹ لائن پر آ کر امریکی و صیہونی رعب کو مٹی میں ملا دیا ہے۔ ایرانی افواج نے اپنے میزائل دفاعی نظام اور متبادل عسکری حکمتِ عملی کے ذریعے یہ ثابت کر دیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اب مغرب کی جاگیر نہیں رہا۔ عسکری دباو¿ کے اس ماحول میں، ترکیہ نے سیاسی اور معاشی محاذ پر اسرائیل کی ناک میں دم کر رکھا ہے۔ صدر رجب طیب اردگان نے بین الاقوامی فورمز پر اسرائیل کو مسلسل ایک "دہشت گرد ریاست" قرار دے کر مغربی دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑا ہے اور صیہونی تجارتی شہ رگوں کو کاٹ کر اسے شدید معاشی بحران کا شکار کر دیا ہے۔
اس پوری صورتحال میں پاکستان کا کردار اس کی روایتی نظریاتی اور عسکری ساکھ کے مطابق انتہائی اہم ہے۔ پاکستان نے نہ صرف سفارتی سطح پر مظلوم فلسطینیوں کی آواز کو عالمی ایوانوں تک پہنچایا، بلکہ مسلم ممالک کے درمیان سیکیورٹی اور تزویراتی تعاون کے لیے ایک اہم پل کا کام بھی کیا ہے۔ پاکستان کی دفاعی صلاحیت اور مسلم امہ کے حقوق کے لیے اس کا دو ٹوک مو¿قف اسرائیل اور اس کے سرپرستوں کے لیے ہمیشہ ایک بڑا تزویراتی خوف رہا ہے۔
ان تمام پیش رفتوں کے درمیان سب سے اہم سنگِ میل سعودی عرب کا تزویراتی شفٹ ہے۔ صیہونی ریاست یہ امید لگائے بیٹھی تھی کہ وہ خطے میں مسلم طاقتوں کو آپس میں لڑا کر اپنا وجود برقرار رکھے گی، لیکن مکہ مکرمہ کی سرزمین سے ابھرنے والے "مکہ معاہدے" نے ان تمام سازشوں پر پانی پھیر دیا۔ سعودی عرب کی دوراندیش قیادت نے مکہ معاہدے کے ذریعے خطے کے دیرینہ حریفوں، بالخصوص سعودی عرب اور ایران کو ایک میز پر بٹھا کر تاریخی مفاہمت کی بنیاد رکھی۔ اس مکہ معاہدے نے مسلم امہ کے دفاعی اور سیاسی اتحاد کو وہ مضبوطی فراہم کی جس کا اسرائیل نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا۔ سعودی عرب کا یہ واضح مو¿قف کہ فلسطین کے مستقل حل اور القدس کے دارالحکومت بننے تک اسرائیل کے ساتھ کسی قسم کے تعلقات قائم نہیں ہو سکتے، صیہونی سفارت کاری کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوا۔
اس تاریخی مکہ معاہدے کے بعد مشرقِ وسطیٰ کی معیشت نے ایک بالکل نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ اب تک مغرب اور اسرائیل کی یہ مشترکہ معاشی حکمتِ عملی تھی کہ مسلم بلاک کو اندرونی خلفشار میں مبتلا رکھ کر خطے کے وسائل، خصوصاً تیل اور گیس کی دولت پر اپنا کنٹرول برقرار رکھا جائے۔ تاہم، پاکستان ، سعودی عرب، ترکیہ کے درمیان معاشی و سفارتی ہم آہنگی نے واشنگٹن اور تل ابیب کے اس معاشی تسلط کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہے۔اس تاریخی مکہ معاہدے کے بعد مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی معیشت نے ایک بالکل نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے مکہ معاہدے نے مسلم دنیا کے دفاعی اور سفارتی محاذ کو ایک نئی طاقت دی ہے۔ اب تک اسرائیل کی یہ حکمتِ عملی تھی کہ مسلم ممالک کو اندرونی خلفشار میں مبتلا رکھ کر خطے کی معیشت کو مفلوج رکھا جائے، تاہم ان تینوں بڑی طاقتوں کی سیکیورٹی اور معاشی ہم آہنگی نے تل ابیب کے صیہونی تسلط کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ اب یہ خطہ جنگ اور دفاعی اخراجات کے روایتی چکر سے نکل کر پاک سعودی تجارتی راہداریوں، ترکیہ کے دفاعی اور صنعتی انفراسٹرکچر، اور مشترکہ ترقیاتی منصوبوں کی طرف گامزن ہو رہا ہے۔ مکہ معاہدے کے تحت ابھرتے ہوئے اس نئے معاشی و دفاعی بلاک نے اسرائیل کو خطے کی معاشی دوڑ میں بالکل تنہا اور سیاسی طور پر مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔
یہ پوری صورتحال اس امر کی دلالت کرتی ہے کہ قدرت کا نظام مظلوموں کی پکار کو کبھی رائیگاں نہیں جانے دیتا۔ اسرائیل اس وقت نہ صرف مسلم دنیا اور عالمی رائے عامہ کی نظر میں مکمل طور پر الگ تھلگ ہو چکا ہے، بلکہ اب اس کی اپنی بقا کا ضامن ملک، یعنی امریکا، بھی اس سے فاصلہ اختیار کر رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ میں اسرائیل کے خلاف آنے والی قراردادیں، عالمی عدالتِ انصاف کے فیصلے اور اب امریکی ایوانِ نمائندگان کی جانب سے ایران کے خلاف جنگی اختیارات کو محدود کرنے کی قرارداد کا منظور ہونا، یہ تمام کڑیاں اس بات کو واضح کرتی ہیں کہ دنیا اب اسرائیل کی جنگوں کا حصہ بننے کے لیے تیار نہیں ہے۔ مکہ معاہدے کے تحت مسلم بلاک کا یہ معاشی و سیاسی ابھار اور امریکا کا اپنے قدم پیچھے ہٹانا اسرائیل کے سیاسی، معاشی اور جغرافیائی زوال کا نکتہ آغاز ثابت ہو چکا ہے، جہاں وہ عالمی افق پر تنہا کھڑا اپنی بقا کی آخری اور ناکام جنگ لڑ رہا ہے۔