دو بڑی جنگوں میں ہونے والی بڑی تباہی اور ایٹم بم چلانے کے بعد یہ سوچا گیا کہ آج ہم نے دنیا کے ایک بڑے حصے اور لاکھوں افراد کو تباہ کیا ہے انہیں موت کی نیند سلا دیا ہے ، کل کو کوئی اور طاقتور ہم پر چڑھ دوڑے لہٰذا اس کا راستہ بند کرنا ضروری ہے اسی سوچ کے تحت اقوام متحدہ جیسے ادارے کی داغ بیل ڈالی گئی اس کا چارٹر یہ تھا کہ مختلف ممالک کے مابین اختلافات اور تنازعات کو میدان جنگ میں حل کرنے کی بجائے گفت و شنید اور مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے یہ خیال تو بہت اچھا تھا لیکن اس خیال کی روح نکال کر سب کچھ چند بڑی طاقتوں کی مرضی ان کے اور ان کے حواریوں کے مفادات کے تحفظ کے لئے کیا جاتا رہا جس سے اس ادارے کے قیام کے مقاصد کماحقہٗ پورے نہیں ہوئے، بہتری کی گنجائش بھی نظر نہیں آتی۔ اقوام متحدہ کا حالیہ اجلاس کئی اعتبار سے اہم ہے اور طویل عرصہ تو یاد رکھا جائے گا اس کے ممبر ممالک کے سربراہان میں سے چند کے خطاب توجہ طلب ہیں لیکن جنہیں سب سے زیادہ توجہ دینی چاہئے ان کی توجہ کا مرکز کچھ اور ہے۔ اقوام متحدہ کا منشور تو ہرگز نہیں۔
امریکی صدر نے اپنی تقریر میں کوئی نئی بات کی، مسائل کا کوئی نیا حل پیش نہیں کیا۔ انہوں نے اپنی پرانی دھمکیوں کو ایک مرتبہ پھر عالمی اجتماع کے سامنے رکھا۔ انہوں نے کیوبا کی حکومت کو ہدف تنقید بنایا جس پر کیوبا کے وفد نے بائیکاٹ کیا ان کا وفد ہال سے باہر نکل گیا پھر انہوں نے اپنے سامنے بیٹھے ایرانی وفد کو دھمکیاں دینا شروع کیں تو وہ بھی بائیکاٹ کرتے ہوئے باہر چلے گئے۔ ہال میں موجود ممبران اقوام متحدہ نے امریکی صدر کی دھمکی کو بغور سنا جس میں انہوں نے ایران کے بارے میں کہا کہ انہیں اب ایک اہم فیصلہ کرنا ہے ایران سے کوئی معاہدہ ہو سکتا ہے یا اسے مکمل تباہ کرنا ہے ان کی دھمکی سے یہ تاثر مضبوط ہوا کہ یہ عالمی پلیٹ فارم مسائل پر بات کرنے ان کا حل نکالنے کے علاوہ اپنے مخالف کو دھمکانے اور انہیں مکمل تباہ کرنے کا پیغام دینے کا ذریعہ بھی ہے۔ اسرائیل وزیراعظم خطاب کے لئے آئے تو بیشتر شرکا ہال سے باہر چلے گئے۔ دو ایٹمی طاقتوں کو شکست دینے کے بعد ایران کو ایک نئی شناخت ملی ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان اس قابل قدر شناخت کے ساتھ اپنے اہم خطاب کے لئے آئے تو تمام وفود نے ان کے ہر لفظ کو بغور سنا اور وہ تاثر لے کر گئے جو اس خطاب کی کامیابی ہے۔
مسعود پزشکیان ایک فاتح کی حیثیت سے آئے، وہ متانت اور سنجیدگی کا نمونہ تھے وہ سربلند تھے لیکن اس میں کسی قسم کا غرور نہ تھا ان کی گفتگو میں نرمی اور عاجزی نظر آئی۔ انہوں نے ہوا میں مکے نہیں لہرائے نہ ہی ان کے منہ سے کف جاری ہوا انہوں نے شرکا اجلاس کو رہبر معظم شہید علی خامنہ ای کی تصویر دکھاتے ہوئے پوچھا کہ امریکہ انہیں دہشت گرد کہتا ہے انہوں نے دنیا میں کیا دہشت گردی کی پھر انہوں نے اپنے ہاتھ میں میناب سکول میں امریکی اور اسرائیلی بمباری سے شہید ہونے والی بچیوں اور ٹیچرز کی تصویریں بلند کرتے ہوئے پوچھا ان بچیوں نے کیا دہشت گردی کی تھی یہ دہشت گرد تھیں یا ان پر بمباری کرنے والے امریکہ اور اسرائیل دہشت گرد ہیں۔ جناب مسعود پزشکیان نے ان بچیوں کی مائوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ان مائوں کا حوصلہ دیکھئے ان کے بچے بے گناہ شہید کر دیئے گئے لیکن اس کے باوجود وہ جھکی نہیں۔ اقوام متحدہ کے اس اجلاس سے قبل ہی ایران پر نئی پابندیوں کا اعلان کیا جا چکا تھا دنیا سے کہا گیا کہ ایران کا کوئی ہوائی جہاز کسی اور ملک کے ہوائی اڈے پر نہ اترے اسی طرح کسی اور ملک کا کوئی جہاز ایران نہ جائے اس پابندی کا مقصد یہ تھا کہ پابندیوں کے خوف سے ایرانی صدر دبائو میں آ جائیں گے لیکن یہ امریکی حربہ بھی ناکام رہا۔ ایرانی صدر نے امریکہ کو اس کے گھر میں بیٹھ کر للکارا اور کہا کہ ہم نے ماضی میں کبھی کسی سامراجی طاقت کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے ہم کبھی اپنی آزادی کے نظریے سے پیچھے نہیں ہٹے ہم آئندہ بھی اپنی آزادی پر سمجھوتہ نہیں کریں گے خواہ اس کے لئے کتنی ہی قربانیاں کیوں نہ دینا پڑیں۔ شرکائے اجلاس اس وقت گہری سوچ میں ڈوب گئے جب ایرانی صدر نے ایک تلخ ترین حقیقت ان کے سامنے رکھی۔ انہوں نے کہا اسرائیل ایٹم بم بنا چکا ہے اس نے این پی ٹی پر دستخط نہیں کئے وہ ایٹمی توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کو اپنے یہاں قدم نہیں رکھنے دیتا وہ مسلمانوں کو اور خصوصاً ایران کو مسلسل دھمکاتا رہتا ہے اس کے مقابلے میں ایران متعدد مرتبہ واضح کر چکا ہے کہ وہ ایٹم بم نہیں بنا رہا۔ عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کو معائنے کی سہولت بھی دیتا ہے لیکن امریکہ اور اس کے اتحادی اسرائیل کو جدید ترین اسلحہ دیتے رہتے ہیں اور ہمیں دہشت گرد کہتے رہتے ہیں دنیا فیصلہ کرے حقیقی دہشت گرد کون ہے اور کس کی پالیسیوں سے عالمی امن کو خطرہ ہے، ایرانی صدر نے واضح کیا کہ ہم ایٹم بم نہیں بنانا چاہتے لیکن پُرامن مقاصد کے لئے دور جدید کی ٹیکنالوجی سے منہ نہیں موڑ سکتے۔
ایرانی صدر نے اپنی لکھی ہوئی تقریر ابتداء میں ہی ایک طرف رکھ دی اور پھر انیس منٹ تک فی البدیہہ اظہار خیال کیا جو مؤثر ترین ہونے کے ساتھ ساتھ ایران پر لگائے جانے والے بے بنیاد الزامات کا بہترین جواب تھا ان کی تقریر کی کاٹ اس قدر شدید تھی کہ اس کا براہ راست ترجمہ کرنے والوں نے اس کے اہم حصے کاٹ دیئے اور انیس منٹ کے خطاب کو فقط چند منٹ کے انگریزی ترجمے کے ساتھ پیش کیا لیکن ایرانی میڈیا نے اس شہرہ آفاق خطاب کو من و عن فارسی کے ساتھ ساتھ انگریزی ترجمے کے ساتھ نشر کیا اور اسے حکومت ایران کی ویب سائٹ پر بھی ڈال دیا اس فعل سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اقوام متحدہ کے دفاتر کا انتظام کن ہاتھوں میں ہے اور کس طرح چلایا جا رہا ہے اور یہ ادارہ اب کس قدر آزاد رہ گیا ہے۔ جناب مسعود پزشکیان کے خطاب کے آخری فقرے امریکی اینٹ کا جواب پتھر تھے انہوں نے پُراعتماد لہجے میں کہا کہ زخمی جانور اپنے زوال کے وقت اپنی پوری طاقت سے آخری حملہ کرتا ہے یہی حالت آج امریکہ کی ہے لیکن تاریخ گواہ ہے ایسے رویے تاریخ کے کوڑے دان میں ہمیشہ کے لئے جگہ پا جاتے ہیں یہ بات اب دنیا کو تسلیم کر لینا چاہئے کہ ایران ناقابل شکست ہے اور دبائو پڑنے پر مزید مضبوط اور متحد ہو جاتا ہے، حقیقی مرد آہن کا خطاب طویل عرصہ یاد رکھا جائے گا۔