آپ تسلیم کریں یا نہ کریں لیکن یہ سچ ہے کہ تحریک انصاف نے ایک ہاتھ سے ریاست کے پاؤں اوردوسرے سے گریبان پکڑ رکھا ہے۔ 2013ء سے لے کرآج تک کے پی کے میں حکومت نہیں صرف وزراء اعلیٰ بدلے ہیں۔ایک سے بڑھ کرایک کارٹون اقتدار میں آیا اورکے پی کے کی عوام کے مسائل میں اضافہ کرکے چلا گیا۔اہم بات یہ ہے کہ وزارت اعلیٰ سے رخصت ہونے والے ازاں بعد عمران نیازی کی گڈبک میں بھی نہیں رہتے۔نہ جانے عمران نیازی انہیں کیاٹاسک دیتا ہے جو کسی سے بھی پورا نہیں ہوتا۔موجودہ وزیر اعلیٰ پنجابی فلم ’’مولا جٹ‘‘ کا پختون ورژن ہے۔نت نئے نعرے ٗ ڈرامے اوربڑھکیں لیکن ’’کھوتی‘‘ آج بھی بوڑ کے نیچے بندھی ہے۔کے پی کے کی عوام آج بھی ایک بدترین زندگی گزاررہے ہیں لیکن یا تو وہ اپنا قبائلی نظام جدید نہیں کرنا چاہتے یا پھر پاکستان دشمن قوتوں کا اثررسوخ وہاں سرایت کرچکا ہے۔ ورنہ کوہاٹ میں پولیس لائنز پرحملے کے بعد کے پی کے حکومت کو اپنی کارکردگی کا جواب دینا چاہیے تھا چہ جائیکہ وہ اسلام آباد کو سومنات بنانے کا اعلان کریں۔مودی کاتعلق گجرات کے سومنات مندر سے بہت گہرا ہے اوریہ درآمد شدہ بیان غیور پختونوں کی سوچ توہرگز نہیں ہوسکتا۔بامیان کے بت توڑنے والوں کو اسلام آباد میں سومنات کی کیا ضرورت پڑ گئی ہے اسے سمجھنے کیلئے زیادہ عقل کی ضرورت نہیں۔یہ وہی لوگ ہیں جنہیں بھارت کے مسلمانوں کیلئے ایک سیکولرانڈیا اورپاکستانیوں کیلئے قرارداد پاکستان والا پاکستان چاہیے۔ یہ قبیلہ نہ تو جدید ریاستوں کے بارے میں کچھ جانتا ہے اور نہ ہی انہیں پاکستان اوراس کی حقیقی طاقت کا علم ہے۔اسلام آباد توبہت دور کی بات ہے یہ افواج پاکستان کی مرضی کے بغیر اپنے گھروں سے باہربھی نہیں نکل سکتے اورسومنات والے بیان کے بعد توانہیں نکلنے کی اجازت بھی نہیں ہونی چاہیے۔اسلام آباد کو فتح کرنے کا خواب ہو یا اسے احتجاج کے نام پر مفلوج کرنے کی کوشش، دونوں صورتوں میں پاکستان کے عام شہری کو نقصان پہنچتا ہے۔ سیاسی کامیابی کا اصل معیار یہ نہیں کہ کون کتنے کنٹینر عبور کرتا ہے یا کون کتنے دن دارالحکومت کو بند رکھتا ہے؛ اصل معیار یہ ہے کہ کون آئین، قانون، معیشت اور عوامی مفاد کے لیے قابلِ عمل راستہ پیش کرتا ہے۔
جماعت اسلامی نے احتجاج کی کال ملتوی کرکے اچھا کیا ورنہ کچھ بعید نہ تھاکہ ’’عشق ِ عمران‘‘ کی وارداتوں میں دھر لیے جاتے یعنی اُن پر وہ سب کچھ پڑجاتا جو انہوں نے نہ کیاہوتا۔میرے خیال کے مطابق موٹروے اورانٹرنیٹ سروس بند کرنا کوئی احسن اقدام نہیں ہے کیونکہ اس سے پی ٹی آئی کے احتجاج کوتقویت ملے گی کیونکہ وہ پاکستانی عوام کیلئے زیادہ سے زیادہ مشکلات پیدا کرکے انہیں یقین دلانا چاہتے ہیں کہ موجودہ حکومت اُن سے خوفزدہ ہے جبکہ میں یقین کامل سے کہہ سکتاہوں کہ پرندہ بھی پر نہیں مارے گا۔کیونکہ میں انہیں جانتا ہی نہیں پہچانتا بھی ہوں اورپھرسہیل آفریدی نے لاہورآ کر حقائق خود دیکھ لئے ہیں کہ اُسے خوش آمدید کہنے والوں کی تعداد کتنی تھی۔البتہ اگر ریاست عمران نیازی کوکسی بھی طرح کا کوئی ریلیف دیتی ہے تو پھر میں بہت پہلے لکھ چکاہوں کہ ’’قبر ایک اورمردے دو ہیں‘‘ اب یہ فیصلہ اُن ریاستی اداروں نے کرنا ہے جن کے دائرہ قدرت میں ہمیشہ این آر او رہا ہے۔ عمران خان کے حوالے سے یہ خوش فہمی بھی کسی کو نہیں ہونی چاہیے کہ اُسے پاکستان سے نکال کر اُس کے یو ٹیوبرز کے سپرد کردیا جائے گااورہر طرف امن اور شانتی کاراج ہوجائے گا۔عمران نیازی جھوٹ بولنے ٗجھوٹا بیانیہ بنانے اور انتہائی ڈھٹائی سے جھوٹ بولنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتا ٗ مغربی میڈیا اُس کے گھرکی لونڈی ہے سو ان حالات میں عالمی سطع پروہ کیاگند پھیلائے کااس کا تصورہی بڑاہولناک ہے۔جہاں تک پاکستان میں موجود ’’عمران لورز گروپ‘‘ کی بات ہے تو یہ’’ون مین شوہیں‘‘ یعنی اپنے گرو رجنیش کے علاوہ کسی کیلئے نکلنے کی زحمت نہیں کریں گے۔پاکستان ایک چو مکھی لڑائی میں پھنسا ہوا ملک ہے اور موجودہ حالات میں حوثیوں کا نیا ’’کٹا‘‘ بھی کھل گیا ہے۔عالمی سیاست کا میدان ہر گزرتے دن کے ساتھ میدان ِ حشر بنتاجا رہاہے یعنی کوئی کسی کے ساتھ نہیں۔ٹرمپ تعریفیں ہماری کرتا ہے اورمعاہدے اسرائیل اوربھارت کے ساتھ۔سوکچھ بعید نہیں کہ آنے والے دنوں میں وہ ایک بار پھر طالبان کے ساتھ کھڑاہو کیونکہ تا حال افغانستان کو ملنے والے ڈالرز کا کوئی اورجوازنظرنہیں آ رہا۔چین اورروس کی بڑھتی ہوئی معاشی اور عسکری طاقت کے سامنے امریکہ کی پالیسی کیابنتی ہے اور اس میں پاکستان کہاں کھڑا ہوتا ہے اس کا جواب تو آنے والاوقت دیدے گا لیکن فی الحال ریاست پاکستان کے اندر موجود ٹی ٹی پی ٗ پی ٹی آئی ٗ بی ایل اے اور پاکستان سے باہر افغانستان میں بیٹھے افغان طالبان جن کی پشت پر’’را‘‘ اوراسرائیل سرعام کھڑے ہیں ایک بڑا مسئلہ ہے۔مجھے یہ لکھنے میں کوئی عار نہیں کہ پی ٹی آئی پاکستان دشمن قوتوں کا پاکستان کے اندرسیاسی چہرہ ہے ورنہ طالبان کو دہشتگردتسلیم کرنے میں کیا قباحت ہے؟ لیکن پی ٹی آئی کی قیادت قیامت کی صبح تک طالبان کو دہشتگرد تسلیم نہیں کریں گے کیونکہ یہی تو وہ حقیقی قوت ہے جس کے بل بوتے پروہ اسلا م آباد کوسومنات بنانے کی باتیں کررہے ہیں۔
پاکستان کو آج ایسے سیاسی رہنماؤں کی ضرورت ہے جو ریاست کی طاقت سے واقف ہونے کے ساتھ ساتھ عوام کے دکھ سے بھی واقف ہوں۔ ایسے حکمرانوں کی ضرورت ہے جو اختلاف کو دشمنی نہ بنائیں اور ایسے سیاسی کارکنوں کی ضرورت ہے جو احتجاج کو تشدد کا مترادف نہ بننے دیں۔فوجی جوانوں کی قربانیاں، عوام کی معاشی مشکلات اور ریاست کے مستقبل کا تقاضا یہی ہے کہ پاکستان کو مسلسل تصادم کی سیاست سے نکال کر قانون، استحکام اور قومی تعمیر کے راستے پر لایا جائے۔ ریاست مضبوط ہوگی تو سیاست بھی محفوظ ہوگی، معیشت بھی سنبھل سکے گی اور عوام کا مستقبل بھی بہتر بنانے کی گنجائش پیدا ہوگی۔پاکستان کو احتجاج کی آگ نہیں، آئینی شعور، سیاسی ذمہ داری اور معاشی تعمیر کی روشنی درکار ہے۔حکومت سیاسی جماعتوں سے رابطہ رکھنا چاہیے لیکن صرف ’’سیاسی جماعتوں‘‘ سے ٗتاکہ تصادم سے بچا جا سکے۔شہریوں کی نقل و حرکت، کاروبار اور طبی سہولتوں کو غیر ضروری رکاوٹ سے محفوظ رکھا جائے۔ تحریک انصاف کو بھی اپنے کارکنوں کے طرزِ عمل، احتجاج کے راستوں، ریاستی املاک کے تحفظ اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے ساتھ برتاؤ کے بارے میں واضح ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔پاکستان کسی ایک جماعت، خاندان، رہنما یا ادارے کی ملکیت نہیں۔ یہ کروڑوں شہریوں کا ملک ہے، جن میں سیاسی اختلاف رکھنے والے بھی شامل ہیں اور وہ لوگ بھی جو سیاست سے دور رہ کر اپنے خاندانوں کے لیے روزی کمانے کی جدوجہد کرتے ہیں۔ریاست کو بچانے کا مطلب یہ نہیں کہ عوام کے سوالات خاموش کرا دیے جائیں۔بہرحال یہ پی ٹی آئی کی آخری کال ہے کیونکہ اس کے بعد سہیل آفریدی فارغ کردیا جائے گا اورجو اس کے بعد آئے گاوہ پی ٹی آئی کی کیاشکل ہوگی یہ بتانے کی ضرورت نہیں ۔