Wed, September 16, 2026

ایران کے سخت تیور نرم، پاکستان میں امریکہ سے "گرینڈ مذاکرات" کی بڑی پیشکش

ایران کے سخت تیور نرم، پاکستان میں امریکہ سے

واشنگٹن/تہران: مشرقِ وسطیٰ میں جاری تناؤ کے درمیان ایک حیرت انگیز موڑ سامنے آیا ہے۔ امریکی جریدے 'وال سٹریٹ جرنل' نے انکشاف کیا ہے کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ دشمنی ختم کرنے کے لیے اپنی شرائط میں بڑی لچک پیدا کر لی ہے اور پاکستان کے ذریعے واشنگٹن کو 14 نکاتی امن فارمولا بھجوا دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران نے اپنی کئی دہائیوں پر محیط سخت گیر پالیسی میں تبدیلی لاتے ہوئے درج ذیل تجاویز پیش کی ہیں۔  ایران نے پیشکش کی ہے کہ وہ آئندہ ہفتے پاکستان میں امریکہ کے ساتھ براہِ راست بات چیت کے لیے تیار ہے۔ تہران اب معاشی ناکہ بندی کے فوری خاتمے کے مطالبے سے دستبردار ہو گیا ہے، جو کہ ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت ہے۔
 ایران کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ پابندیوں میں نرمی کرے تو وہ اپنے جوہری امور پر بات چیت کا آغاز کر سکتا ہے، تاہم میزائل اور جوہری پروگرام کو فی الحال ابتدائی مذاکرات کے ایجنڈے سے الگ رکھا گیا ہے۔یہ پیش رفت ایک ایسے نازک موڑ پر ہوئی ہے جب امریکی صدر کی جانب سے ایران پر حملے کی 60 روزہ قانونی مہلت آج ختم ہو رہی ہے۔ وائٹ ہاؤس نے پہلے ہی کانگریس کو خط لکھ کر کشیدگی کے خاتمے کا اشارہ دے دیا ہے، اور اب ایران کی جانب سے پاکستان کے ذریعے مذاکرات کی پیشکش نے جنگ کے خطرات کو ٹالنے کے لیے ایک ٹھوس بنیاد فراہم کر دی ہے۔
بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ذریعے ان تجاویز کی ترسیل سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان پسِ پردہ رابطے کامیاب رہے ہیں۔ اگر امریکہ اس پیشکش کو قبول کر لیتا ہے تو آئندہ ہفتہ خطے کی تاریخ کا اہم ترین ہفتہ ثابت ہو سکتا ہے جہاں پاکستان ایک بار پھر عالمی امن کے لیے "ثالث" کے طور پر سامنے آئے گا۔

ٹیگز: