یوں تو اسرائیلی مظالم پر بہت سی فلمیں بن چکی ہیں اور آسکر ایوارڈ بھی جیت چکی ہیں، جن میں قابل ذکر فلم ’’فرح‘‘ دارین سلام نے نکبہ فلسطینیوں کی 1948 میںہجرت اور بربادی کے پس منظر پر بنائی تھی،جس کا مرکزی خیال گائوں کی ایک لڑکی کی کہانی تھی ،جس کے خاندان پر صہیونی فوج نے حملہ کیا، وہ قیامت خیز منظر تھا اور یہ لڑکی اسکی چشم دید گواہ تھی، اس نے اپنی آنکھوں سے بے بسی کے عالم اس ظلم کو ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔
اسی طرح No other Land تھی یہ ویسٹ بنک کی تباہی سے متعلق ہے، جہاں اسرئیل کے بلڈوزر فلسطین کے باشندوں کے گھروں کو مسمار کر رہے ہیں، معصوم بچے اپنے والدین کی بے بسی دیکھ کر رو رہے ہیں، والدین نم آنکھوں سے انکو تسلی دیتے ہیں،اسرائیلی فوج نہتے شہریوں پر تشدد کرتے نظر آتے ہیں،ایک اور فلم The Present ہے اسکی ڈائریکٹرفرح نابلسی ہیں، یہ فلم ایک باپ اور بیٹی کی کہانی پر مشتمل ہے،جو مقبوضہ علاقہ جات میں روزانہ کی بنیاد پر روزمرہ کی زندگی کے دوران اسرائیلی فوج کی چیک پوسٹوں اور سخت ترین پابندیوں کے ساتھ ان کے ناگوار رویوں کا سامنا کرتے ہوئے گزرتے ہیں۔مائی مصری کی ہدایت کاری میں بننے والی ڈرامہ فلم 3000 نائٹس کے عنوان سے بنی ہے،یہ بھی ایک مظلوم فلسطینی خاتون کی کہانی ہے ،جسے جھوٹے الزامات میںاسرائیل میں قید کر دیا جاتا ہے، جہاں وہ ایک بچے کو جنم دیتی ہے،اور صہیونی جیل میں وحشیانہ ظلم کو برداشت کرتی اور جبر کے نظام کا مقابلہ کرتی ہے۔
اس وقت عالمی میڈیا میںجس دستاویزی فلم کی دھوم مچی ہے اس کا نام ’’نازا‘‘ ہے، عبرانی زبان سے یہ لفظ عبارت ہے،اس اصطلاح کو فوجی حملوں میںشہریوں کی اجتماعی ہلاکتوں کے تخمینہ کے لئے استعمال کیا جاتا ہے،اس اعتبار سے دستاویزی فلم کانام رکھا گیا ، اس فلم کا پس منظر غزہ میں شہریوں کی اسرائیلی فوج کے ہاتھوں نسل کشی سے متعلق ہے، اسرائیل کی سرزمین سے اس فلم کے دو ڈائریکٹرز
ہیں،جن میں ایک خاتون بھی ہے، فلم کی دنیا سے وابستہ اور صحافت سے بھی تعلق ہے۔
اس فلم کو ’’ وینس فیسٹیول‘‘ میں ایوارڈ بھی مل چکا ہے، اس کو آسکر ایوارڈ کے لئے بھی پیش کئے جانے کی توقع ہے، انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس فلم کی عوامی سطح پر نمائش کا مطالبہ بھی کیا ہے، فلم ساز یووال ابراہام اورریچل زار ہیں، اسکی پذیرائی کا یہ عالم ہے کہ ناظرین نے25 منٹ تک ایڑیوں کے بل کھڑے ہو کر تالیوں کی صورت میں فلم میکرز کو داد دی اس کو حقیقت پر مبنی فلم قرار دیا ہے۔ اسرائیل میں اب تک بننے والی فلموں میں سب سے مقبول ترین فلم مانی جارہی ہے، اسرائیل کے وزیر تقافت نے فلم سازوں کی شہریت منسوخ کرنے جبکہ وزیر اعظم نے نئی قانون سازی کے ذریعہ ان پر غداری کا مقدمہ چلانے کا عندیہ دیا ہے۔
اس فلم کی خاص بات یہ ہے ، یہ فلم ہی نہیں بلکہ اسرائیلی فوج کی جانب سے اہل غزہ پر ڈھائے جانے والے مظالم کا اعتراف جرم ہے، 80 منٹ کے دورانیہ کی اس فلم نے پوری دنیا کے سامنے اسرائیل کی ریاستی دہشت گردی کو بے نقاب کیا ہے۔ مذکورہ دستاویزی فلم اسرئیل حکومت کے خلاف ایک چارج شیٹ ہے ہر عالمی فورم پر اسکو پیش کیا جا سکتاہے۔
قابل ذکر یہ ہے کہ فلم میکرز نے اے آئی اسٹنٹ ٹول کی مدد سے24اسرائیلی فوجیوں کے انٹرویو کئے ہیں، جن میں زیادہ تر کا تعلق خفیہ ادارہ سے تھا، انہوں نے غزہ میں سویلین کو مارنے والے ایک میکانزم کا انکشاف کیا ہے کہ وہ کس طرح انکے اپارٹمنٹ، گھروں کو ہٹ کرتے تھے، ان کو مارنے کے لئے ٹارگٹ دیا جاتاتھا، حماس کے حریت پسندکے ساتھ پانچ سو شہریوں کو مارنے کا حدف پورا کرنا لازم تھا،فلم ڈائریکٹرز نے عالمی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فوجیوں نے 200 فلسطینی صحافیوں کو شہید کرنے کا بھی اعتراف کیا ہے،یہ فلم ایک دستاویزی شہادت ہے جس نے اسرائیلی کی سرکاری ،دفاعی مشینری کو عالمی سطح پر بری طرح عیاں کیا ہے، ان کا یہ جھوٹ بھی پکڑا گیا ہے کہ وہ عام شہریوں کو دانستہ ہلاک نہیں کرتے۔
فلم کے آن ائر ہونے کے بعدچند افرادنے فلم سازوں کے گھروں کے باہر احتجاج کیا ،فلم کو اسرائیل پر حملہ قرار دیا،مقامی یونیورسٹی کے پروفیسر نے انٹرویو دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ یورپی یونین اور وہ لوگ جو صہیونی لابی کے خلاف ہیں وہ ایسے پراجیکٹ کی فنڈنگ کر رہے ہیں،تاہم اسرائیل میں میڈیا، فلم سے منسلک 1500افراد نے اس فلم کو بہترین کہا اور اسکی حمایت کی ہے۔فلم سازوں نے اسرائیلی شہریوں اور اُن ممالک کے عوام سے فلم دیکھنے کو کہا جنکی ریاستیں اسرائیل کو فنڈز اور اسلحہ فراہم کرتی ہیں،تاکہ وہ عام لوگوں کا قتل عام کریں۔
امت کے زعما ء پر ذمہ داری اب یہ عائد ہوتی ہے ، اہل غزہ کو انصاف دلوانے، انکی شہادتوں کا تاوان وصول کرنے،مالی نقصان کا ازالہ کروانے کے لئے مذکورہ فلم کو عالمی عدالت میں بطور ثبوت پیش کریں، نیز دستاویزی فلم کی شہادتوں کی بدولت سلامتی کونسل سے مطالبہ کرے کہ وہ اسرائیل کو دہشت گرد ریاست قرار د ے اور ان مما لک کو بھی کٹہرے میں لائے، جو اسرائیلی ریاست کو فنڈز اور اسلحہ دیتے رہے۔
9/11 واقعہ کی آڑ میں مسلم ریاستوںمیں بھی قتل عام ہواہے، امریکہ سکالرز نے اس سانحہ کو مسلمانوں کے خلاف مبینہ گہری سازش کہا تھا ضرورت اس امر کی ہے کہ سرد جنگ کے خاتمہ کے بعد مسلم ممالک پر غیر منصفانہ حملوں پر بھی فلمیںضروربننی چاہئے جوعالمی کرداروں اور ارباب اختیارات کو بے نقاب کریں، جنہوںنے امت کے وسائل پر قبضہ کرنے کی آڑ میں خون کی ہولی کھیلی ،عراق، افغانستان ،شام،لبنان، لیبیا، یمن،پاکستان کے عوام ان حملوں میں سب سے زیادہ متاثر ہوئے ۔اسرائیلی فلم میکرز یووال اور ریچل زار نے فلم بنا کر اسرائیلی افواج کے ہاتھوں انسانیت پر روا ظلم کو بے نقاب کر کے عملی جہاد کیا ، ان کا نام سنہری حروف میں لکھے جانے کے قابل ہے۔