Wed, September 16, 2026

حضرت مولانا کے تیور، قومیتوں کے کھیل تماشے

حضرت مولانا کے تیور، قومیتوں کے کھیل تماشے

بھانت بھانت کی بولیاں، بولنے والے قسم قسم کے لوگ، جمہوریت کا حسن گہنا گیا، بدنما چہرہ سامنے، اظہارِ رائے کی آڑ میں گالم گلوچ کا کلچر پروان چڑھنے لگا۔ کوئی محفوظ نہیں، ساری ریڈ لائنیں کراس، دنیا کے کس ملک میں ایسا ہوتا ہے۔ سیاستدان بے لگام بڑوں کو بے نقط سنانے لگے۔ اب کسے رہنما کرے کوئی، قومیتوں کے اول فول مطالبات صوبوں میں کھیل تماشے، قوم غائب، معاشرے کی ساری گندگی ریلیوں اور دھرنوں کی شکل میں سڑکوں پر تعفن پھیلانے لگی، وہ تعفن ہے کہ جی جانتا ہے۔ ایسے میں سوال اٹھ گئے کہ ہمارے ہاتھ سے معاملات کیوں نکلتے جا رہے ہےں، بنیادی وجہ سخت فیصلوں پر عملدرآمد میں تاخیر، کیا ہمارا سیاسی نظام زوال پذیر ہے۔ اتحادیوں میں کھلی جنگ، تصادم کا خطرہ۔ اچھی خبروں کو کان ترس گئے، کیا جولائی واقعی کسی بڑی تبدیلی کا مہینہ ثابت ہوگا، امریکہ ایران جنگ بندی کا ایم او یو ختم، آبنائے ہرمز پر قبضے کی لڑائی پھر شروع ہوگئی، تیل مہنگا، اپنے ملک میں ہر روز قیمت کا تعین کیا جائے گا، پیٹرول پمپوں اور خریداروں میں بے چینی، پچھلے دنوں 299 روپے لیٹر پر ”عوام کا جشن“ مکمل نہیں ہوا تھا کہ پھر سے پیٹرول 316 روپے 15 پیسے اور ڈیزل 354 روپے 35 پیسے لیٹر ہو گیا، عوام کیا کریں حکومت کیا کرے؟ سوال کا جواب، عوام صبر کریں اچھے دنوں کے خواب دیکھیں۔ حکومت لیوی میں کمی کردے دیگر اخراجات کم کر کے پیٹرول کی قیمت کو مستحکم ہونے دے، پیٹرول، ڈیزل اور مہنگائی کا چولی دامن کا ساتھ ہے، آزاد کشمیر میں حالات کشیدہ صورتحال سنگین، راولا کوٹ سیل پانچ دس ہزار دھرنا دیے بیٹھے ہیں، جگہ جگہ پولیس چوکیاں قائم لیکن پولیس رینجرز اور سیکورٹی ادارے محفوظ نہیں، بھارتی خفیہ ایجنسی را کے بارہ چودہ جاسوس گھنی جھاڑیوں سے نکل کر جدید اسلحہ سے اہلکاروں پر فائرنگ کر کے غائب ہو جاتے ہیں، کشمیری نوجوانوں کو کنٹرول لائن کے اس پار امید کی موہوم کرن اور آزادی کی دھندلی روشنی نظر آرہی ہے، اسد امان اور خواجہ مہران جیسے وطن فروشوں کو مفت آٹا اور بجلی نہیں آزادی چاہیے۔ سردار امان نے کھلے عام بھارت سے مدد طلب کی کیا لاکھوں کشمیری شہیدوں مجاہدوں ماو¿ں بہنوں بیٹیوں کی قربانی رائیگاں گئی، کالعدم کمیٹی نے آزادی اور خودمختاری کے خواب دکھا کر کم و بیش پانچ دس ہزار افراد اکٹھے کر لیے، دوبارہ عرض کریں کہ ان میں 80 فیصد 9 مئی والے ہیں، ہم کتنے رحمدل اور متحمل مزاج ہیں کہ ان دو چار لیڈروں کی گرفتاری کا فیصلہ نہیں کر پائے، سیکیورٹی اہلکاروں نے اسکول کے بچوں اور ان کی ماو¿ں کی آڑ میں دھرنا دینے والوں کا گھیرا تنگ کر دیا ہے۔ لانگ مارچ کیسے کریں گے 5 جولائی سے 9، 9 جولائی سے 15 اور 15 جولائی سے 21 مظفر آباد کا لانگ مارچ مو¿خر، مذاکرات کے لیے منت سماجت لندن سے خط آنے لگے، اسی دوران پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو 27 جولائی کے انتخابات کی مہم کے لیے مظفر آباد پہنچ گئے، دھرنے والوں کو مذاکرات کی دعوت دی، ٹروتھ اینڈ ری کنسی لی ایشن کمیشن بنانے کی تجویز پیش کی تاہم کہا کہ بندوق کے زور پر 12 سیٹوں میں کمی یا ختم کرنے کی آئینی ترمیم نہیں ہو سکتی، افواج پاکستان ہماری ریڈ لائن، فیلڈ مارشل کا کردار ہمارے سامنے ہے، بلاول بھٹو کی ساری باتیں شاندار حب الوطنی پر مبنی لیکن جن سے امید وفا وہ الحاق پاکستان کے مخالف، ایک خطہ پر دھرنا ختم کر کے بغیر مذاکرات پر آمادہ، مذاکرات نہ ہونے کی صورت میں 22 جولائی کو مظفر آباد کی طرف لانگ مارچ، مارچ آسان نہیں، ”ڈھیر لگ جائیں گے راستے میں گر بیانیوں کے“ اہم سوال کیا 27 جولائی کو الیکشن ہوں گے؟ جواب ففٹی ففٹی، دباو¿ کے تحت الیکشن ملتوی ہوگئے تو پی پی سکھ کا سانس لے گی۔ مذاکرات کی ناکامی کا 90 فیصد امکان، پی ٹی آئی والوں نے چپکے سے صوبہ بنانے کی شرلی چھوڑ دی گویا پاکستان اپنی شہ رگ کاٹ لے۔ سن رکھو ایسا کبھی نہیں ہو گا۔
حضرت مولانا غیظ و غضب کے عالم میں ریڈ لائن کراس کر گئے، قصور میں اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے شہیدوں کو تنخواہ دار قرار دے کر گویا دفاعِ وطن کے لیے جان قربان کرنے والے شہداءاور مورچوں میں بیٹھے لاکھوں مجاہدوں غازیوں، ان کے ماں باپ اور 25 کروڑ عوام کی توہین کے مرتکب ہوئے، کیا حالات تھے جن کی وجہ سے وہ 
سب کچھ کہنے پر آمادہ یا مجبور ہوئے۔ گذشتہ سالہا سال کے واقعات پر گہری نظر رکھنے والوں کو حضرت مولانا کی ہرزہ سرائی پر تعجب ہوا، ان کا کہنا تھا کہ مولانا اور بڑوں میں بیک وقت محبت اور نفرت کا دیرینہ رشتہ ہے، کبھی تعریفیں پیار کبھی للکار، کبھی اقتدار کی کشتی میں سوار کبھی کشتی میں سوراخ کرنے کے در پے۔ بیک وقت میز پر بیٹھے مزہ نہ آیا تو میز الٹنے پر آمادہ، اتحادی حکومت بچانے، 26 ویں آئینی ترمیم کی منظوری میں بعض ترامیم کے ساتھ پیش پیش، بجٹ کی منظوری کے لیے ووٹ دیے۔ ان کا سیاست کا انداز نرالا نظر انداز کیے جائیں تو گردن ناپنے سے گریز نہیں کرتے، بڑوں نے کبھی ان کی باتوں کا برا منایا نہ ہی جواب دیا، لیکن ملک خدا داد کے دفاع میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں کو ہدف تنقید بنانے پر خلق خدا تڑپ اٹھی، ان کے بزرگ قیام پاکستان کے ”گناہ“ میں شریک نہیں تھے تاہم حضرت مولانا ان کے بھائیوں بیٹوں کو اسی ملک نے ہر دور میں نوازا، توہین آمیز تقریر پر حکومتی وزیروں سیاستدانوں، تجزیہ کاروں اور غیر جانبدار مبصرین نے انتہائی محتاط الفاظ میں معانی یا معذرت کر لینے کی اپیل کی، حضرت مولانا سیخ پا ہو گئے اور پارلیمنٹ کو بھی رگڑ دیا۔ سیانوں نے کہا پسند نہیں تو استعفے دے دیں۔ چند نے اندرون اور بیرون ملک اثاثوں کا ذکر چھیڑا، نیب کے نوٹس بھی زیر بحث آئے، شریفوں نے سنا کچھ نہیں کہا، تاہم شہداءکی بے حرمتی پر پوری قوم غمزدہ ہوئی روزنامہ نئی بات کے ایڈیٹر اور ممتاز تجزیہ کار محترم نجم ولی خان نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ ملکی آئین کے تناظر میں ہمیشہ راستہ نکالنے والے مولانا فلسفہ شہادت کو کیوں متنازع بنا بیٹھے، مائیں بہنیں بیٹیاں اپنے شہیدوں کے جنازوں پر فخر محسوس کرتی ہیں، آپ نے لاکھوں ماو¿ں بہنوں کو ہی دکھ نہیں دیا بلکہ قرآنی علم کو بھی نظر انداز کیا ہے کہ اللہ کے راستے میں جان دینے والے شہداءزندہ ہیں تمہیں شعور نہیں ہے۔ آپ ہمیشہ اقتدار میں رہے، حکومتوں کے اتحادی رہے، گذشتہ سالوں کے دوران لفٹ نہ ملنے پر اتنا غصہ، خارجیوں کو راہ پر لانے کے لیے آپ نے بذاتِ خود افغانستان کے دورے کئے مگر خارجی ہمارے بچوں بڑوں اور بزرگوں کے قاتل ہیں ان کا مقابلہ کرتے ہوئے جان کا نذرانہ پیش کرنے والوں کو تنخواہ دار ملازم قرار نہ دیجئے ورنہ یہی شہداءآپ کو جنت کے دروازے پر روک لیں گے۔ مولانا عبدالغفور حیدری نے مولانا کے خلاف کارروائی پر جی ایچ کیو پر دھرنا دینے کی دھمکی دی‘ ان سے مودبانہ گزارش حضرت ایسا مت کیجئے گا عمر بھر پچھتاوا رہے گا۔

ٹیگز: