نیویارک: وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے عالمی امن، سفارتکاری، مشرق وسطیٰ کی صورتحال، پاک بھارت کشیدگی اور مسئلہ کشمیر سمیت اہم علاقائی و عالمی امور پر پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔
وزیراعظم نے جنرل اسمبلی سے چوتھی مرتبہ خطاب کو 24 کروڑ امن پسند پاکستانی عوام کی نمائندگی کا اعزاز قرار دیا۔ انہوں نے جنرل اسمبلی کے نومنتخب صدر کو مبارکباد اور مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی جبکہ سابق صدر اینالینا بیئربوک کی قیادت اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کی کاوشوں کو سراہا۔
شہباز شریف نے کہا کہ امن کی تلاش انسانیت کی عظیم ترین کاوشوں میں سے ایک ہے، پاکستان اقوام متحدہ کے منشور کے ساتھ کھڑا ہے اور دنیا کے امن و خوشحالی میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ پاکستان نے امریکا اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کردار ادا کیا اور دونوں ممالک کو اسلام آباد میں ایک چھت تلے بٹھایا۔
انہوں نے کہا کہ سفارتکاری کا مطالبہ اب بھی بلند ہونا چاہیے، پاکستان نے امریکا اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کردار ادا کیا اور دونوں ممالک کو اسلام آباد میں ایک چھت تلے بٹھایا۔ وزیراعظم کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کاوشوں سے سفارتکاری کو راستہ ملا۔
مشرق وسطیٰ کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ خطے کی کشیدگی سے عالمی معیشت متاثر ہوئی، آبنائے ہرمز اور باب المندب کھلے رہنے چاہئیں۔
مکہ مکرمہ پر ڈرون حملے کا ذکر کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ حرمین شریفین پر حملہ ریڈ لائن ہونی چاہیے۔ پاکستان برادر سعودی عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مکہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ خطے میں دفاع اور امن کے لیے مشترکہ کوشش ہے۔ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا اتحاد کسی ملک کے خلاف نہیں۔
پاک بھارت کشیدگی پر وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان پر حملہ کیا گیا اور فیلڈ مارشل کی قیادت میں پاکستان نے بھارت کو جواب دیا۔ ان کے مطابق پاکستان نے اقوام متحدہ کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا حق استعمال کیا۔
شہباز شریف نے کہا کہ دو ایٹمی ہمسایہ ممالک آل آؤٹ جنگ کے دہانے پر پہنچ گئے تھے، اس لیے ضروری ہے کہ جنوبی ایشیا دوبارہ ایسی صورتحال سے دوچار نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے مسئلہ کشمیر کا حل ضروری ہے اور اقوام متحدہ کے تحت کشمیر میں استصواب رائے ہونا چاہیے۔
وزیراعظم نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہاں اجتماعی سزا دی جا رہی ہے اور آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔
شہباز شریف نے سندھ طاس معاہدے کا بھی ذکر کیا اور الزام عائد کیا کہ بھارت نے معاہدہ یکطرفہ طور پر ختم کیا ہے۔