1948ء میں اسرائیلی ریاست کے قیام کے بعد فلسطینیوں کو جبری طور پر ان کے گھروں سے بے دخل کر دیا گیا تو اقوام متحدہ نے جبالیہ کے مقام پر ایک پناہ گزین کیمپ قائم کیا۔ آغاز میں یہ ایک خیموں کی بستی تھی لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ ایک گنجان آباد علاقہ کی صورت اختیار کر گیا۔ 1996ء میں اسی جبالیہ کیمپ میں ایک بچہ پیدا ہوا جو بچپن سے ہی آزادی کے خواب دیکھ رہا تھا۔ وہ یہاں موجود لوگوں کا احساس محرومی اور اسرائیلی مظالم دنیا تک پہنچانا چاہتا تھا چنانچہ اس نے شعبہ صحافت کا انتخاب کیا اور اپنی صلاحیتوں کی بدولت آگے بڑھنے لگا۔ اس نے الجزیرہ جیسے بڑے چینل میں شمولیت اختیار کی اور اکتوبر 2023ء میں شروع ہونیوالے واقعات کے بعد سے وہ الجزیرہ کے سب سے نمایاں فیلڈ رپورٹرز میں سے ایک تھا۔ وہ اکثر بم دھماکے کی جگہوں یا قریبی علاقوں سے براہ راست نشریات میں نظر آتا تھا۔ اس نے دسمبر 2023ء میں اپنے 65 سالہ والد کو ایک بم دھماکے میں کھو دیا تھا۔ اس دھماکے میں اس کے خاندان کے گھر کو نشانہ بنایا گیا تھا تاہم اس نے صحافتی مشن جاری رکھا۔ 2024ء کے دوران شاتی پناہ گزین کیمپ پر ایک فضائی حملے میں اس کے قریبی دوست اسماعیل الغول اور رامی الریفی بھی شہید ہوئے، اس نے اس واقعے کو بھی رپورٹ کیا تھا۔ غزہ کے اس بہادر صحافی کا نام انس الشریف تھا۔ اتوار کو غزہ کے مشرقی حصے میں الشفا ہسپتال کے قریب ایک خیمے پر اسرائیلی حملے میں انس الشریف اپنے تین ساتھی صحافیوں اور ایک اسسٹنٹ کے ہمراہ شہید ہو گئے۔ وہ محاذِ جنگ سے سچ دکھانے اور اپنی قوم کی آواز دنیا تک پہنچانے کیلئے جانے جاتے تھے۔ اپنی شہادت سے قبل انس نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک پیغام چھوڑا تھا، جو انہوں نے وصیت کے طور پر لکھا تھا، تاکہ اگر وہ شہید کر دئیے جائیں تو دنیا تک پہنچایا جا سکے۔ اسرائیل کے ہاتھوں شہید ہونے والے الجزیرہ کے بہادر صحافی انس الشریف کے آخری پیغام نے پڑھنے والوں کے دلوں کو ہلا کر رکھ دیا ۔ انس الشریف نے لکھا: ’’یہ میری وصیت اور آخری پیغام ہے، اگر یہ الفاظ آپ تک پہنچیں تو جان لیں کہ اسرائیل نے مجھے قتل کر کے میری آواز خاموش کر دی ہے۔ سب سے پہلے آپ پر سلامتی ہو، اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں۔ اللہ جانتا ہے کہ میں نے اپنی تمام طاقت اور کوشش صرف کی کہ اپنی قوم کا سہارا بنوں، ان کی آواز بنوں، جب سے میں نے جبالیہ کے پناہ گزین کیمپ کی گلیوں میں آنکھ کھولی، مجھے امید تھی کہ اللہ مجھے اتنی مہلت دے گا کہ میں اپنی فیملی اور پیاروں کے ساتھ اپنے آبائی شہر مقبوضہ عسقلان (المجدل) واپس لوٹ سکوں، مگر اللہ کی مرضی مقدم ہے، اور اس کا فیصلہ حتمی۔ میں نے دکھ کو اس کی ہر شکل میں جیا، درد کو بارہا چکھا، لیکن کبھی سچ بولنے میں ہچکچاہٹ یا خوف محسوس نہیں کیا، اسے بگاڑا نہ چھپایا تاکہ اللہ ان لوگوں کے خلاف گواہ بنے جو خاموش رہے، جنہوں نے ہمارے قتل کو قبول کیا، جو ہماری سانسیں گھونٹتے رہے، جن کے دل ہماری عورتوں اور بچوں کی کٹی پھٹی لاشیں دیکھ کر بھی نہ پگھلے اور جنہوں نے اس قتلِ عام کو روکنے کے لیے کچھ نہ کیا جو ہماری قوم ڈیڑھ سال سے جھیل رہی ہے۔ میں فلسطین کو آپ کے سپرد کرتا ہوں، وہ سرزمین جو مسلم دنیا کے تاج کا نگینہ ہے، وہ سرزمین جو دنیا کے ہر آزاد انسان کے دل کی دھڑکن ہے، میں تمہیں اس کے لوگوں کے سپرد کرتا ہوں، ان معصوم اور مظلوم بچوں کے سپرد جو کبھی خواب دیکھنے یا پُرامن زندگی گزارنے کا موقع نہ پا سکے، جن کے پاکیزہ جسم ہزاروں ٹن اسرائیلی بموں اور میزائلوں تلے روند دئیے گئے، اور جن کے اعضا دیواروں پر بکھر گئے۔ میں آپ کو تلقین کرتا ہوں کہ زنجیروں کو اپنی آواز بند کرنے نہ دیں، سرحدوں کو اپنی راہ میں رکاوٹ نہ بننے دیں، آپ آزادی کی طرف جانے والے پل بنیں ، جب تک کہ عزت اور آزادی کا سورج ہماری چرائی گئی سرزمین پر طلوع نہ ہو جائے۔ میں اپنی فیملی کو آپ کے سپرد کرتا ہوں۔ میں اپنی پیاری بیٹی شَم کو آپ کے سپرد کرتا ہوں، جو میری آنکھوں کا نور ہے، جسے میں ویسے بڑھتا دیکھنے کا خواب پورا نہ کر سکا جیسا میں نے چاہا تھا۔ میں اپنے بیٹے صَلاح کو آپ کے سپرد کرتا ہوں، جسے میں زندگی میں سہارا دینا اور ساتھ لے کر چلنا چاہتا تھا، یہاں تک کہ وہ میرا بوجھ اٹھانے کے قابل ہو جاتا اور میرے مشن کو آگے بڑھاتا۔ میں اپنی محترم والدہ کو آپ کے سپرد کرتا ہوں، جن کی برکت بھری دعاؤں نے مجھے اس مقام تک پہنچایا، جن کی دعائیں میرا قلعہ تھیں، جن کے نور نے میرا راستہ روشن رکھا، میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ ان کو صبر دے اور ان کے لیے میری طرف سے بہترین بدلہ لکھ دے۔ میں اپنی شریکِ حیات ام صلاح کو آپ کے سپرد کرتا ہوں، جس سے جنگ نے مجھے طویل دنوں اور مہینوں کے لیے جدا رکھا، وہ اپنی جگہ ایک زیتون کے درخت کے تنے کی مانند مضبوط ثابت ہوئیں، صابرہ، اللہ پر توکل کرنے والی، اور میری غیر موجودگی میں تمام ذمہ داریاں پورے ایمان اور قوت سے اٹھانے والی۔ میں آپ سے کہتا ہوں: ان کے ساتھ کھڑے رہنا، اللہ کے بعد ان کا سہارا بننا۔ اگر میری موت واقع ہو گئی، تو میں اپنے اصولوں پر ثابت قدمی سے مرا، میں اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں اس کے فیصلے پر راضی ہوں، اس سے ملاقات کا یقین رکھتا ہوں، اور جانتا ہوں کہ اللہ کے پاس جو کچھ ہے وہ بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔ اے اللہ! مجھے شہداء میں شامل فرما، میرے اگلے پچھلے گناہوں کو معاف فرما، اور میرے خون کو میرے لوگوں اور میرے خاندان کے لیے آزادی کا چراغ بنا دے۔ اگر مجھ سے کوئی کوتاہی ہوئی ہو تو معاف فرما دینا، اور میرے لیے دعا کرنا کہ اللہ مجھے معاف کرے اور قبول فرما لے کیونکہ میں نے اپنا وعدہ پورا کیا، نہ بدلا اور نہ خیانت کی۔ غزہ کو مت بھولنا… اور مجھے بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھنا … بخشش اور قبولیت کے لیے۔‘‘
انس الشریف کے اس آخری پیغام کے الفاظ پڑھ کر ہر آنکھ اشکبار ہو گئی۔ اس پیغام کو پڑھنے والے ایک سوشل میڈیا صارف نے لکھا، ’میں مسلمان نہیں ہوں، پھر بھی یہ پڑھتے ہوئے میرے ہاتھ کانپ رہے ہیں‘۔ ایک اور صارف نے لکھا، ’جنت انتظار کر رہی ہے‘۔ غزہ کے ملبے تلے گونجتی انس کی یہ وصیت دنیا بالخصوص عالم اسلام سے یہی کہہ رہی ہے: ’’غزہ کو نہ بھولنا‘‘۔