ابھی یہ زیادہ دور کی بات نہیں۔ سابق نگران حکومت میں بھی اس وقت کے وزیر اطلاعات عامر میر نے بھی چھاپے مارتے ہوئے دس رقاصائوں پر فحش ڈانس کرنے پر پابندی لگائی تھی اور ایک دو تھیٹر بھی بندش میں آئے اور جیسے ہی نگران حکومت گئی تمام معاملات ٹھپ اور ننگا ڈانس پھر زور پکڑنے لگا۔ یہ ایک سال پہلے کے واقعات ہیں۔ میرے نزدیک عظمیٰ بخاری کے ایک دو چھاپوں سے معاملہ رکے گا نہیں کیونکہ ہمارا واسطہ بہت ڈھیٹ قسم کے لوگوں سے پڑا ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے ملک میں فوری طور پر ثقافتی ایمرجنسی لگاتے ہوئے تھیٹر کے اندر عریاں رقص اور فحش مکالمے بازی کو ختم کیا جائے۔ اس ڈانس کے بارے یہ کہا جا رہا ہے کہ رقص تو اعضاء کی شاعری ہے مگر اعضاء ننگے کرنے کا نام شاعری نہیں۔ پوری دنیا میں رقص وہاں کی تہذیبوں کے مطابق ہوتا ہے۔ ہم نے تو اپنی تہذیب ہی کو ننگا کر دیا۔ ہم نے یہاں یہ بھی دیکھا کہ تھیٹر کی پروموشن کے لئے چند بڑے سینئر فنکاروں نے آواز بلند کی کہ خدا کے لئے اس ورثے کو بچالیں ورنہ آپ کی نسلیں اپنی تہذیب و ثقافت سے محروم ہو جائیں گی۔ یہاں ایک اور بات کرتا چلوں کہ ایک دور میں ہم کامیڈی میں بھارت سے بہت آگے تھے اور آج بھارت آپ کی کامیڈی پر حملہ آور ہو رہا ہے جبکہ کامیڈی ہمارے پاس وہ واحد ویپن تھا جس کے ذریعے ہم بہت بڑی ثقافتی جنگ لڑ سکتے ہیں اور ہمارے پاس بھارت کے مقابلے میں بہت بڑی کامیڈی کی کھیپ موجود ہے اور ہم تو پرفارمنگ آرٹ میں کامیڈی کے بہت مضبوط پلر تھے۔ پوری دنیا میں دوسرے تھیٹرز کے علاوہ ایک ڈانسنگ تھیٹر بھی ہوتا ہے جس کے ذریعے وہ اپنے معاشرتی نظام کی وضاحت کرتے ہیں اور آرٹ بھی وہیں سے جنم لیتا ہے۔ اگر ایسا ہی کرنا ہے تو پھر ان تھیٹرز کو ڈانسنگ ہال بنا دیں اور ان کو ناچ گھر کا نام دے دیں مگر خدا کے لئے فحش ڈانس کے ذریعے تھیٹر کی اصل روایات کو تباہ نہ کریں۔ اگر آپ کا تھیٹر بھی ختم ہوگیا تو پھر آپ کی ثقافت بے موت مر جائے گی۔ دوسری طرف بعض اداکارائیں تو یہ کہتی تھکتی نہیں کہ ان کے بغیر لوگ آتے نہیں، مجھے بتایئے کہ گورے پاگل ہیں کہ ان کی فلم ڈانس کے بغیر کامیابی حاصل کر رہی ہے تو کیا آپ اتنے مسکین اور جاہل ہیں کہ آپ جدید دور میں یہ کہہ رہے ہیں کہ رقص کے بغیر ڈرامہ چلتا نہیں۔ آپ ڈرامے کو اس کی اصل روح میں اْتاریں تو سہی کہ لوگوں کو اس کی عادت پڑے۔ ماضی میں ہونے والے تھیٹرز میں تو ڈانس نہیں تھے، پہلے بھی یہ ڈرامہ بہت مقبول تھا۔ میں یہاں ایک مثال افضال احمد (مرحوم) کی دوں گا کہ انہوں نے پاکستان کی تھیڑ کی تاریخ میں ایک طویل ڈرامہ ’’جنم جنم کی میلی چادر‘‘ پیش کیا۔ اس کی کہانی ایک طوائف کے گرد گھومتی تھی اور اس میں ایک طوائف کا مجرا بھی تھا۔ کیا اس وقت کے بیوقوف لوگ تھے جو یہ تصور کر لیتے کہ یہ ڈرامہ صرف رقص کی وجہ سے چلا۔ وہ کہانی بھی ایک رقاصہ کے گرد گھومتی تھی۔ دوسرے پروڈیوسرز نے ڈراموں میں رقص ڈالنا شروع کر دیا جبکہ ڈرامے ’’جنم جنم کی میلی چادر‘‘ میں رقص ایک روایتی سکرپٹ کی ڈیمانڈ تھی۔ اس میں تو اسلام شہابی کے زندہ سیٹ تھے جو خود بولتے، اور اس ڈرامے میں دس بڑے رائٹرز کے ڈائیلاگ تھے۔ افضال احمد اور عرفان کھوسٹ جیسے بڑے ناموں کی ہدایات تھیں لہٰذا میری گزارشات یہ ہیں کہ آپ اپنی کامیڈی کو فحش رقص کے پیروں تلے تو نہ کچلیں۔ ڈرامے کی تباہی کی دوسری بڑی وجہ ہمارے معاشرے میں تعلیم کا بہت فقدان ہے لہٰذا نچلے طبقے نے اس ڈانس کو اپنی تفریح تصور کر لیا جس کا اندازہ بعد میں ہوا کہ لوگوں نے رقاصاؤں پر نوٹ نچھاور کرنا شروع کر دیئے اور جو اصل ڈرامہ تھا وہ لوگوں کی پہنچ سے دور ہوگیا اور تھیٹر کو ہم نے مجرا گاہ بنا دیا۔
دیکھیں ایک چیز کو پروموٹ کرنے کے لئے ایک شخص کا کردار نہیں بلکہ اس کے اردگرد اور بہت سی چیزیں ہوتی ہیں۔ انہی وجوہات کی وجہ سے آپ کی ہیرا منڈی، فلم انڈسٹری اور اب تھیٹر بھی بند ہو گیا۔ یہاں ایک مثال سلطان راہی کی دوں گا کہ جس نے اردوں فلموں کے بعد پنجابی زبان کو زندہ کیا مگر وہ بھی اسی رو میں مار دیا گیا اور اس دور میں فلمسازوں نے ایک ہی گھوڑے پر داؤ لگایا ہوا تھا اور پوری فلم انڈسٹری ایک گھوڑے کے گرد گھومتی تھی اور جب اس گھوڑے کی ٹانگ ٹوٹی تو آپ کی تمام انڈسٹری بڑا لگایا جوا ہارگئی۔ سلطان راہی کے قتل کے بعد انڈسٹری بھی قتل کر دی گئی۔ یہی کہانی تھیٹر پر دہرائی گئی جب سنجیدہ ڈرامہ ختم ہوا تو اس کی جگہ ڈانس کلچر نے لے لی اور اس کو زندہ رکھنے والے فنکاروں نے خود کو اس سے الگ کر لیا۔ بس پھر وہی ہوا جو آپ دیکھ رہے ہیں، حشر اور نشر دونوں موجود ہیں۔
اور آخری بات…
میں نے ایک بار سہیل احمد کا تھیٹر کے حوالے سے ایک تفصیلی انٹرویو کیا تھا اور مجھے ان کا مؤقف جان کر بڑی خوشی ہوئی اگر حکومت آج بھی سہیل احمد جیسے فنکاروں کو جو تھیٹر کو زندہ کرنا جانتے ہیں اور بقول سہیل احمد کے خدارا ہمارے اس برباد ہوتے تھیٹر کو بچائو… یہ ہمارا بہت بڑا ورثہ اور بڑے آرٹ کا گہوارہ ہے۔ اس کے ذریعے ہم براہ راست قوم کو ایجوکیٹ کرتے ہیں۔ مجھے سہیل احمد کی باتوں سے سو فیصد اتفاق ہے۔ یہاں عظمیٰ بخاری سے گزارش ہے کہ وہ ایسے قوانین بنائیں جس میں صرف رقاصائوں کو مجرم نہ ٹھہرائیں بلکہ ان پروڈیوسر اور دوسرے عناصر کو کنٹرول میں لائیں اور سزائوں کو عملی شکل دیں۔ اب معافی نامے نہیں بلکہ تھیٹر کو بچانے کا وقت ہے۔ اس آرٹ کو بچانے کا وقت ہے جس نے تھیٹر کی روایات کو زندہ رکھنا ہے۔