کراچی: ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ پاکستان میں زیادہ سے زیادہ انتظامی یونٹس قائم کیے جانے چاہئیں، کیونکہ بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر نئے انتظامی یونٹس ناگزیر ہوچکے ہیں۔
کراچی میں پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ موروثی اور خاندانی سیاست کے خاتمے کا وقت آگیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جاگیردارانہ جمہوریت پاکستان کا مستقبل نہیں ہوسکتی اور ملک کو موجودہ طرزِ حکمرانی کے ساتھ مزید نہیں چلایا جاسکتا۔
انہوں نے ایم کیو ایم کی گزشتہ روز ہونے والی ریلی کو عوامی ریفرنڈم قرار دیتے ہوئے کہا کہ کراچی کے عوام نے تمام رکاوٹوں اور پروپیگنڈے کے باوجود سڑکوں پر نکل کر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا اور اپنا فیصلہ سنا دیا۔
خالد مقبول صدیقی نے دعویٰ کیا کہ کراچی سندھ کی آبادی کا تقریباً 57 فیصد ہے، جبکہ اسے 37 فیصد قرار دیا جاتا ہے۔ انہوں نے سندھ کے عوام کو مبینہ طور پر مصنوعی اکثریت کے ذریعے دبانے کا سلسلہ ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
ایم کیو ایم رہنما نے کراچی کے ساتھ گزشتہ 18 برس کے دوران ہونے والی مبینہ ناانصافیوں کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ انتظامی یونٹس کے مطالبے پر خون کی ندیاں بہانے کی باتیں کی جارہی ہیں، تاہم عوام کو اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے سے نہیں روکا جاسکتا۔ خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ کراچی کے عوام نے اپنا احتجاج ریکارڈ کراکے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔