Wed, September 16, 2026

بلوچستان: دہشت گردی کے پیچھے اصل ہاتھ اور ریاست کا ناگزیر جواب

بلوچستان: دہشت گردی کے پیچھے اصل ہاتھ اور ریاست کا ناگزیر جواب

بلوچستان میں جاری دہشت گردی کو اب سادہ بدامنی، داخلی ناراضی یا محرومی کا مسئلہ بنا کر پیش کرنا خود ایک خطرناک فریب ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان آج ایک منظم، بیرونی سرپرستی میں چلنے والی دہشت گردی کی زد میں ہے، جس کا مقصد نہ حقوق کا حصول ہے اور نہ ہی اصلاح بلکہ پاکستان کو اندر سے عدم استحکام کا شکار کرنا ہے۔
جو عناصر عام مسافروں، مزدوروں، ٹرینوں اور بسوں کو نشانہ بنائیں، جو شناخت پوچھ کر گولیاں ماریں، جو لاشوں کو پیغام بنائیں وہ کسی صورت سیاسی کارکن یا ناراض شہری نہیں ہو سکتے۔ یہ کھلی دہشت گردی ہے، اور دہشت گردی کا واحد جواب ریاستی طاقت، قانون کی سخت عملداری اور فیصلہ کن کارروائی ہے۔
اب یہ بات ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ بلوچستان میں سرگرم دہشت گرد گروہوں کے تانے بانے سرحدوں سے باہر جا ملتے ہیں۔ بھارت خطے میں ریاستی دہشت گردی کا پرانا کھلاڑی ہے، جو پاکستان کو کمزور کرنے کے لیے پراکسیز استعمال کرتا رہا ہے۔ بلوچستان میں تشدد، اسلحے کی فراہمی، مالی معاونت اور منصوبہ بندی کے شواہد بارہا اس حقیقت کی نشاندہی کر چکے ہیں کہ یہ سب کچھ محض داخلی معاملہ نہیں۔ 
اس پورے نیٹ ورک میں افغانستان کا کردار بھی مسلسل سوالیہ نشان بنا ہوا ہے۔ وہاں موجود دہشت گرد قیادت، محفوظ ٹھکانے اور سرحد پار سہولت کاری ایک تلخ حقیقت ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ جس ملک نے پاکستان کی قربانیوں سے فائدہ اٹھایا، وہی آج اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے دے رہا ہے۔ جب تک افغان سرزمین دہشت گردوں کے لیے محفوظ رہے گی، خطے میں امن ایک خواب ہی رہے گا۔
بلوچستان کی بدامنی کے پیچھے ایک اور مکروہ حقیقت مجرمانہ معیشت ہے۔سمگلنگ، غیر قانونی تیل، منشیات اور اسلحہ۔ اربوں روپے کے اس غیر قانونی کاروبار کو جب ریاست نے نشانہ بنایا تو اس کا جواب بندوق سے دیا گیا۔ یوں قوم پرستی کے نعرے دراصل جرائم کے تحفظ کا ہتھیار بن گئے۔ یہ لوگ نظریاتی نہیں، معاشی دہشت گرد ہیں، جن کے مفادات خون سے جڑے ہیں۔
یہ کہنا کہ بلوچستان وسیع ہے اس لیے رِٹ قائم کرنا مشکل ہے، دراصل ریاستی کمزوری کو جواز فراہم کرنے کے مترادف ہے۔ ریاست یا اپنی رِٹ قائم کرتی ہے یا پھر دہشت گرد خلا پُر کر لیتے ہیں۔ کسی تیسرے راستے کی گنجائش نہیں ہے۔ سیاسی اختلاف آئین کے دائرے میں قابل قبول ہے، مگر بندوق اٹھانا اعلانِ بغاوت ہےاور بغاوت کا انجام ہمیشہ ایک ہی ہوتا ہے۔
ترقی، وسائل اور حقوق کی بات تب ہی بامعنی ہوتی ہے جب امن ہو۔ بندوق کے سائے میں نہ سکول چلتے ہیں، نہ ہسپتال محفوظ رہتے ہیں اور نہ ہی عوام کی زندگی معمول پر آتی ہے۔ اس لیے اگر امن کے قیام کے لیے سختی ضروری ہے تو یہ جبر نہیں، ریاست کی ذمہ داری ہے۔
آج پاکستان کو کسی ابہام کی نہیں بلکہ واضح پیغام کی ضرورت ہے کہ بلوچستان پاکستان کا حصہ ہے،ہمیشہ رہے گا، اور جو بھی بھارت یا کسی اور طاقت کا آلہ بن کر اس حقیقت کو چیلنج کرے گا، اس سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ صرف سکیورٹی فورسز کی نہیں بلکہ پوری قوم کی جنگ ہے۔یہ فیصلہ کن وقت ہے۔ یا تو ریاست مضبوط ہو گی یا پھر دشمن مضبوط ہو گا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جو ریاستیں فیصلہ نہیں کرتیں، فیصلے ان کے خلاف ہو جاتے ہیں۔۔                    پاکستان ہمیشہ زندہ باد۔

تحریر: بلال حیدر چٹھہ

نوٹ:  یہ بلاگر کی ذاتی رائے ہے اس سے ادار ے کامتفق ہوناضروری نہیں ہے۔

ٹیگز: