Sat, September 19, 2026

پاکستان مخالف قوتیں

پاکستان مخالف قوتیں

وطن عزیز کو اگر مملکت خدا داد کہا جاتا ہے تو غلط نہیں کہا جاتا اس لئے کہ قیام پاکستان سے لے کر آج تک اسے اندرونی اور بیرونی دشمنوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے لیکن اس کے باوجود بھی اگر میرا وطن نہ صرف یہ کہ قائم ہے بلکہ اپنے سے آٹھ گنا بڑے دشمن کا مقابلہ بھی کر رہا ہے اور صرف مقابلہ نہیں کر رہا بلکہ ایک سے زیادہ مرتبہ اسے شکست فاش بھی دے چکا ہے جس کا تازہ ترین ٹریلر گذشتہ سال مئی 2025میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں دکھایا گیا تھا ۔ ہم نے گذشتہ سال کی فتح مبین کو ٹریلر اس لئے کہاکہ دنیا کی جنگی تاریخ میں فقط 4گھنٹے کے قلیل ترین وقت میں اتنی شاندار فتح کو ٹریلر ہی کہہ سکتے ہیں اور دشمن اس ٹریلر کی بھی تاب نہیں لا سکا اور ڈھیر ہو گیا ۔ اندازہ کریں کہ فیلڈ مارشل اگر پوری فلم چلا دیتے تو پھر دشمن کا کیا انجام ہوتا ۔ ہمارے اس ازلی دشمن کو اور پاکستان مخالف تمام قوتوں کو اس بات کا بخوبی اندازہ ہو چکا ہے کہ کھلی جنگ میں پاکستان کو شکست نہیں دی جا سکتی اسی لئے انھوں نے پاکستان کو اندرونی طور پر کمزور کرنے کی سازشیں شروع کر رکھی ہیں ۔ یہ سازشیں قیام پاکستان کے فوری بعد سے شروع ہو چکی تھیں لیکن دور حاضر میں جیسے جیسے پاکستان کو دنیا میں عزت و احترام ملتا گیا تو اس کے ساتھ ساتھ ان سازشوں میں بھی تیزی آتی چلی گئی ۔ ان سازشوں میں پاکستان کو مذہبی ، مسلکی ، لسانی تقسیم کرنا ملک دشمن قوتوں کی اولین ترجیح رہی ہے ۔ گذشتہ تیس چالیس سال پر نظر ڈالیں تو کبھی لسانی تقسیم کی سازش سے پاکستان کے معاشی حب کراچی کے امن کو تباہ کیا گیا اور پھر مذہبی اور مسلکی تقسیم سے پاکستان میں دہشت گردی کے ذریعے 80ہزار بے گناہ پاکستانیوں کو مارا گیا اور اس کے نتیجہ میں پاکستان کی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچایا گیا ۔ ملک دشمن قوتوں کے ہاتھ میں دہشت گردی ایک ایسے نسخہ کیمیا کے طور پر ہاتھ لگا کہ پہلے کراچی میں لسانی پھر ملک بھر میں مذہبی دہشت گردی اور اب ایک صوبے خیبر پختون خوا میں فتنہ الخوارج مذہبی دہشت گردی کر رہے ہیں اور بلوچستان میں فتنہ الہندوستان لسانی اور صوبائی تعصب کے ذریعے دہشت گردی پھیلا رہے ہیں ۔ 
پاکستان میں انتشار پھیلانے کے لئے افغانستان کی سرزمین کو پورری طرح استعمال کیا جا رہا ہے لیکن انتہائی حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ طالبان کہ جو بہت سارے معاملات میں مغرب کو قابل قبول نہیں ہیں لیکن پاکستان دشمنی میں اب طالبان کو بھی قبول کیا جا رہا ہے اور طالبان خوشی خوشی ان کے ہاتھوں میں کھیلنے کو ہر وقت تیار نظر آتے ہیں ۔ یہ بات کوئی راز نہیں ہے بلکہ اس حقیقت سے بچہ بچہ واقف ہے کہ پاکستان نے افغانوں پر کتنے بڑے احسان کئے ہیں ۔ چالیس سال تک دنیا کی تاریخ میں سب سے زیادہ چالیس لاکھ افغان مہاجرین کو پاکستان میں پناہ دی گئی اور صرف پناہ ہی نہیں دی گئی بلکہ ان کے ناز نخرے بھی اٹھائے گئے ۔ ان کی وجہ سے پاکستان میں کلاشنکوف اور ہیروئن کلچر کی بنیاد پڑی ۔ان کی وجہ سے پاکستان کا معاشرہ تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ۔ یہ سب کچھ پاکستان نے اسلامی بھائی چارے کے تحت کیا لیکن طالبان کی جانب سے پاکستان کے ان احسانوں کا بدلہ دشمنی کی شکل میں دیا گیا اور بغیر کسی وجہ کے پاکستان میں دہشت گردی شروع کر دی اور جو لوگ خیبر پختون خوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کرتے ہیں ان کی مکمل سرپرستی بھی کرتے ہیں اور افغان سرزمیں میں ان کے ٹریننگ کیمپ بھی ہیں اور انھیں وہاں سے ہر طرح کا اسلحہ اور دیگر ساز و سامان بھی ملتا ہے لیکن طالبان رجیم اکیلے اس قابل نہیں ہیں کہ وہ پاکستان کے خلاف اتنی سازشیں کر سکیں لہٰذا اس کے لئے سیدھا جا کر ہندوستان کی گود میں بیٹھ گئے اور پاکستان دشمنی میں ہندوستان اور یورپین میڈیا ایک پیج پر ہیں ۔ 
ایک طرف یہ عالمی سازشیں ہیں اور دوسری جانب پاکستان محافظ قوتیں ہیں کہ جو اس دہشت گردی جنگ میں دشمنوں کو منہ توڑ جواب دے رہے اور اس جنگ میں پاکستان کی افواج کے بہادر اور غیور اہل کار اپنی جانیں دے کر جام شہادت نوش کر رہے ہیں ۔ ایک جانب یہ سازشیں اور ساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ کی صورت حال کی وجہ سے ملک میں پیٹرول اور گیس کا ایک طرح سے بحران بھی نظر آ رہا ہے ۔ اس بحران میں پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتیں تو سب کو نظر آ رہی ہیں لیکن یہ اصل بحران نہیں ہے بلکہ اصل بحران تو بڑے ہی خطر ناک انداز میں آگے بڑھ رہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے بعد اب باب المندب پر حوثیوں نے کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور تاریخ میں سعودی عرب کی تیل کی سپلائی کم ترین سطح پر ہے اور سعودی عرب کی جانب سے یورپ کو تیل کی سپلائی بند ہو چکی ہے تو اصل بحران آنے والے دنوں میں پٹرولیم مصنوعات کی پوری دنیا میں جو قلت پیدا ہونے جا رہی ہے وہ اصل بحران ہو گا اس لئے کہ پاکستان میں بجلی کی زیادہ تر پیداوار پٹرول سے ہوتی ہے اور آنے والے دنوں میں اگر کسی طرح کی قلت پیدا ہوتی ہے پاکستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میںتوانائی کا بحران جنم لے رہا ہے اور اگر خلیج کے حالات بہتر نہ ہوئے تو جو نظر آ رہا ہے اس میں تو ماحول بہتر ہونے کی بجائے مزید خراب ہو رہا ہے اور اس کے ذکر کا اصل مقصد یہ ہے اس سے دہشت گردی کی جنگ بھی متاثر ہو سکتی ہے لیکن خدا نے چاہا تو پاکستان کی حفاظت کرنے والی قوتیں پہلے بھی کامیاب تھی اور اب بھی سر خرو ہوں گی۔

ٹیگز: