دنیا کی معاشی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی عالمی یا ملکی سطح پر معاشی بحران جنم لیتا ہے تو اس کا سب سے پہلا اور براہِ راست نشانہ وہ عام شہری بنتا ہے جس کی آمدن محدود اور اخراجات لامحدود ہوتے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پے در پے اضافے نے نچلے متوسط طبقے اور دیہاڑی دار افراد کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔ ایسے ماحول میں وزیر اعظم پاکستان کی جانب سے موٹر سائیکل، رکشہ اور 800 سی سی سے کم انجن پاور رکھنے والی چھوٹی گاڑیوں کے لیے خصوصی فیول ریلیف پیکیج کا اعلان اور اس کا ملک بھر میں عملی نفاذ ایک ایسا اقدام ہے جو ان حالات میں عوام کے لیے ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ہے۔ یہ محض ایک کاغذی سکیم نہیں بلکہ اس طبقے کے وجود کو تسلیم کرنے کی جانب ایک عملی قدم ہے جو ملک کا حقیقی پہیہ گھماتا ہے۔وزیراعظم کی اس ریلیف سکیم کی ساخت اور اس کا بنیادی دائرہ کار اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اس بار مراعات یافتہ اشرافیہ کے بجائے معاشرے کے اس طبقے کو ریلیف دیا ہے جسے فلاحی ریاست کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ اسکیم کے تحت ملک کے کروڑوں موٹر سائیکل سواروں، تین پہیوں والے رکشوں اور چنگ چی کے مالکان سمیت ان چھوٹی گاڑیوں کو ایندھن پر نمایاں رعایت فراہم کی جا رہی ہے جن کے انجن کا حجم 800 سی سی یا اس سے کم ہے۔ پاکستان کے دیہات، قصبات اور بڑے شہروں میں چلنے والی یہ گاڑیاں کسی عیاشی یا اسٹیٹس سمبل کا مظہر نہیں بلکہ اسکول جانے والے بچوں، دفاتر میں قلیل تنخواہ پر کام کرنے والے کلرکوں، مختلف تجارتی پلیٹ فارمز سے وابستہ ڈیلیوری رائیڈرز اور مسافروں کو ایک مقام سے دوسرے مقام پر پہنچانے والے رکشہ ڈرائیوروں کی واحد گزرگاہ ہیں۔ ماضی میں سبسڈی کا ایک بڑا حصہ بااثر طبقات اور بڑی پرتعیش گاڑیوں کے ایندھن کی نذر ہو جاتا تھا، مگر موجودہ فارمولے نے یہ اصول طے کیا ہے کہ ریاست کا مالیاتی سہارا ضرورت مند کی دہلیز تک محدود رہے گا۔اس اسکیم کے طریقہ کار کو جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، قومی شناختی ڈیٹا بیس اور نادرا کے مستند ریکارڈ کے ساتھ جوڑنا ایک دانشمندانہ فیصلہ ہے۔ اس نظام میں خرد برد اور جعلسازی کی گنجائش کو ختم کرنے کے لیے موبائل سم کی تصدیق، نادرا بائیو میٹرک اور گاڑی کی رجسٹریشن کی باہمی جانچ کا ایک تیز رفتار مربوط میکانزم اپنایا گیا ہے۔ سبسڈی وصول کرنے والے کے موبائل پر موصول ہونے والے کوڈ کی تصدیق کے بعد فوری طور پر طے شدہ فی لیٹر سبسڈی یعنی 100 روپے فی لیٹر لاگو ہو جاتی ہے۔ ڈیجیٹل گورننس کا یہ امتزاج اس بات کی ضمانت ہے کہ قومی خزانے سے خرچ ہونے والا پیسہ شفافیت کے ساتھ اسی شہری کی جیب میں جائے گا جس کے لیے اسے مختص کیا گیا ہے۔ شفافیت کا یہ عنصر نہ صرف عوام کا حکومتی اقدامات پر اعتماد بحال کرتا ہے بلکہ بین الاقوامی اداروں کے ان خدشات کو بھی دور کرتا ہے جو اکثر سبسڈیز کے غیر شفاف استعمال پر انگلیاں اٹھاتے ہیں۔وزیر اعظم کی اس اسکیم کے عام شہری پر اثرات کا جائزہ لیا جائے تو یہ اعداد و شمار سے بڑھ کر بقا کا سوال ہے۔ ایک عام موٹر سائیکل سوار، جو ماہانہ بیس پچیس ہزار روپے کماتا ہے، اس کی آمدن کا ایک بڑا حصہ صرف موٹر سائیکل میں پیٹرول ڈلوانے میں نکل جاتا تھا۔ اسی طرح ہمارے شہروں میں ایپ بیسڈ رائیڈ ہیلنگ اور فوڈ ڈیلیوری کا کام کرنے والے ہزاروں باہمت نوجوان ہر روز اپنے ایندھن کا حساب لگا کر پریشان ہوتے تھے کہ دن بھر دھوپ، بارش اور تپتی سڑکوں پر خواری کے بعد وہ اپنے گھر کیا لے کر جائیں گے۔ پیٹرول پر فی لیٹر 100 روپے رعایت نے ان نوجوانوں کے روزگار کو بچا لیا ہے، اب اس کے پاس اتنی رقم بچ جاتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کے لیے پھل، دودھ یا اسکول کی کاپیاں خرید سکے۔ اسی طرح 800 سی سی والی گاڑیاں رکھنے والے نچلے سفید پوش طبقے کے لیے، جو عزت نفس کے باعث کسی خیرات کے مستحقین میں کھڑے نہیں ہو سکتے، یہ ریلیف ایک ایسا سہارا ہے جس نے انہیں اپنے سماجی اور خاندانی معمولات کو بحال رکھنے کی طاقت بخشی ہے۔اس ریلیف اسکیم کا دوسرا نمایاں پہلو ملک کے شہری اور دیہی ٹرانسپورٹ کے نظام پر اس کے مثبت اثرات ہیں۔ پاکستان کے بیشتر چھوٹے شہروں اور دور دراز علاقوں میں باقاعدہ پبلک ٹرانسپورٹ نیٹ ورک مفقود ہے اور وہاں موٹر سائیکل اور چنگ چی رکشے ہی عام لوگوں کے سفر کا بنیادی ذریعہ ہیں۔ ایندھن کی قیمت کم ہونے سے مسافروں پر کرایوں کے بوجھ میں براہ راست استحکام آئے گا، جس کے اثرات مقامی منڈیوں، دیہی طلبہ کی تعلیم اور طبی سہولیات تک عام رسائی پر مرتب ہوں گے۔ جب سڑکوں پر چلنے والی سستی سواری کے اخراجات قابو میں رہیں گے تو روزمرہ اشیا کی ترسیل کے مقامی اخراجات میں بھی خود بخود توازن پیدا ہوگا، جس سے افراط زر کے دبا کو جزوی طور پر ہی سہی، تھمنے میں مدد ملے گی۔اس کے علاوہ ملک کے وسیع تر مالیاتی توازن اور بیرونی قرض دہندگان، خصوصا بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ طے شدہ معاہدات کے تناظر میں بھی اس اقدام کو بیلنس کرنا ایک بڑا امتحان ہوگا۔ آئی ایم ایف روایتی طور پر بلا تفریق سبسڈیز پر سخت تحفظات رکھتا ہے کیونکہ اس سے مالی خسارے میں بے پناہ اضافہ ہوتا رہا ہے۔ لیکن اس اسکیم کا دفاع اس اصول کے تحت کیا جا سکتا ہے کہ یہ کوئی عام سبسڈی نہیں بلکہ ایک مخصوص اور انتہائی پسماندہ طبقے کے لیے سماجی تحفظ کا براہِ راست اقدام ہے۔ جیسے احساس یا بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت نقد رقوم منتقل کی جاتی ہیں، اسی طرح ایندھن کا یہ کوٹہ بھی ایک ہدف شدہ مالی معاونت ہے جو پیداواری صلاحیت کو رواں دواں رکھنے کے لیے ناگزیر
ہے۔یہاں یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ ایندھن پر ریلیف وقتی طور پر زخموں پر مرہم تو رکھ سکتا ہے مگر یہ مستقل علاج نہیں۔ پاکستان کو توانائی کے شعبے میں طویل المدتی اور پائیدار اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ صوبائی حکومتیں موٹر سائیکلوں اور رکشوں کو فوری طور پر الیکٹرک گاڑیوں میں تبدیل کرنے کے لیے اقدامات کریں، ہر چھوٹے بڑے شہر میں سستی، محفوظ اور باعزت ماس ٹرانزٹ بسوں کا جال بچھائیں اور پبلک ٹرانسپورٹ کو ترجیح بنائیں۔ عام شہری سستی اجتماعی سواری کے ذریعے ہی ایندھن کی قیمتوں کے اتار چڑھا سے محفوظ رہسکتا ہے۔مجموعی طور پر وزیراعظم پاکستان کی جانب سے 800 سی سی تک کی گاڑیوں، رکشوں اور موٹر سائیکلوں کے لیے ریلیف پیکج کا نفاذ ایک ایسا بروقت اور عوام دوست فیصلہ ہے جس نے غریب عوام کو امید کا دامن تھامنے کا حوصلہ دیا ہے۔ یہ اسکیم اس بات کا مظہر ہے کہ اگر حکومتی ترجیحات درست ہوں اور دل میں نچلے طبقات کے لیے ہمدردی موجود ہو تو محدود وسائل میں بھی عوامی فلاح کے راستے تلاش کیے جا سکتے ہیں۔