یہ کوئی افسانہ نہیں، نہ میری تخلیق ہے۔ یہ ایک حقیقی واقعہ ہے جو مجھے برسوں پہلے سننے کو ملا تھا۔ وقت گزر گیا، بہت سے واقعات یادداشت سے محو ہوگئے، مگر اس واقعے کا آخری منظر آج تک ذہن میں محفوظ ہے۔ ہمارے ایک دوست چودھری کاظم کے والد چودھری عبدالغفار منڈل تھے۔ ان کا تعلق ہندوستان کے شہر کرنال سے تھا۔ تقسیم کے بعد ہجرت کر کے پاکستان گوجرانوالہ کے سیٹلائٹ ٹان میں آ بسے۔ سیٹلائٹ ٹاو¿ن ان دنوں ایک شاندار اور باوقار بستی سمجھی جاتی تھی۔ ہندوستان میں ان کی جائیدادیں رہ گئی تھیں، جن کے کلیمز اور دوسرے معاملات کے سلسلے میں انہیں عدالتوں کے چکر لگانا پڑتے تھے۔ چودھری صاحب طبیعتاً دبنگ اور بے باک آدمی تھے۔ سماجی اور سیاسی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتے اور کونسلری کا الیکشن بھی لڑتے رہے۔ لیکن انسان ہمیشہ ایک ہی چہرے کا نام نہیں ہوتا۔ چودھری صاحب لاہور کے بازار میں گانا سننے جایا کرتے تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ہیرا منڈی کو آج کے محدود تصور میں نہیں دیکھا جاتا تھا۔ وہاں موسیقی تھی، رقص تھا، شاعری تھی، لباس تھا، زبان تھی، محفل تھی اور اپنے مخصوص آداب تھے۔ بعض خاندانوں میں تعلقات اور معاملات کے کچھ غیر تحریری اصول بھی ہوا کرتے تھے۔ وہاں ایک جملہ مشہور تھا: ہم کبھی کسی شریف کے گھر نہیں گئے، ہمیشہ شرفا ہمارے گھر آیا کرتے ہیں۔ یہ جملہ بظاہر طنز تھا، مگر اس میں معاشرے کے دوہرے معیار پر ایک گہری چوٹ بھی موجود تھی۔ چودھری صاحب وہاں بڑی آزادی سے جاتے تھے۔ گھر میں ان کی بیگم کو بھی اس کا علم تھا۔ کبھی اپنے بیٹے کو بھی ساتھ لے جاتے۔ اس زمانے میں رقم رکھنے کے لیے ایک تھیلی ہوتی تھی۔ چودھری صاحب اسی میں سے پیسے نکالتے اور اپنی محفل کا خرچ کرتے۔ پھر ایک دن چودھری صاحب بیمار پڑ گئے۔ کئی روز تک وہ لاہور نہ گئے تو جن کے ہاں جایا کرتے تھے، کو تشویش ہوئی۔ چودھری صاحب باقاعدگی سے آتے تھے، عزت سے پیش آتے تھے، اچانک کئی دن سے نظر نہیں آئے۔ خیال آیا، کہیں بیمار تو نہیں ہو گئے؟ کوئی پریشانی تو نہیں؟ آخر اس خاندان کی چند عورتوں نے فیصلہ کیا کہ گوجرانوالہ جاکر خود ان کی خیریت معلوم کی جائے۔ وہ سیٹلائٹ ٹاو¿ن میں چودھری صاحب کے گھر پہنچ گئیں۔ دروازہ ان کی بیگم نے کھولا۔ لباس اور انداز سے انہوں نے اندازہ کر لیا کہ یہ لاہور کے بازار سے آئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ چودھری صاحب کی خیریت معلوم کرنے آئی ہیں۔ بیگم صاحبہ نے نہ کوئی سوال کیا، نہ کوئی طعنہ دیا، نہ کوئی ناگواری ظاہر کی۔ صرف اتنا کہا: چودھری صاحب پہلے بیمار تھے اب
ٹھیک ہیں، اپنے عدالتی معاملات کے سلسلے میں کچہری گئے ہوئے ہیں۔ یہ وہ زمانہ تھا جب موبائل فون تو دور کی بات، گھروں میں ٹیلی فون بھی عام نہیں تھے۔ بیگم صاحبہ نے اپنے بیٹے سے کہا: جاو¿، دیکھو ابا عدالت سے واپس آئے ہیں یا نہیں۔ بچہ گیا، مگر چودھری صاحب سے ملاقات نہ ہو سکی اور واپس آ گیا۔ اب بیگم صاحبہ نے ان مہمانوں سے کہا: آپ بیٹھیں۔ اور پھر ایک ایسا منظر سامنے آیا جس نے اس واقعے کو محض ایک قصہ نہیں رہنے دیا۔ گھر میں کھانے پکنے لگے۔ پلا، زردہ، فرنی، مٹن، دیسی مرغ، مچھلی اور کئی طرح کے کھانے تیار ہوئے۔ انہیں عزت سے کھانا کھلایا گیا۔ پھر ہر ایک کو سوٹ دیا گیا، عمدہ کپڑے اور جوتے دئیے گئے اور اس زمانے کے حساب سے خاصی رقم بھی دی گئی۔ ان کے ساتھ آنے والے ملازم کو بھی پیسے دئیے گئے۔ وہ عورتیں حیران تھیں۔ شاید انہوں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ ایک شریف گھرانے کی خاتون ان کے ساتھ اس طرح پیش آئے گی۔ لیکن بیگم صاحبہ نے انہیں ان کے پیشے سے نہیں پرکھا تھا۔ انہوں نے صرف یہ دیکھا کہ یہ عورتیں ان کے شوہر کی خیریت معلوم کرنے کے لیے دور سے چل کر ان کے گھر آئی ہیں۔ ان کے لیے اتنا ہی کافی تھا۔ وہ عزت کے ساتھ واپس چلی گئیں۔ کچھ دیر بعد چودھری صاحب گھر آئے۔ بیگم صاحبہ نے بتایا: آپ کی مہمان آئی تھیں۔ چودھری صاحب چونک گئے۔ پھر غصے میں آ گئے اور بیگم کو ڈانٹنے لگے: تم نے ضرور کوئی بکواس کی ہوگی، ضرور کوئی ایسی بات کی ہوگی جس سے معاملہ خراب ہوا ہو گا۔ بیگم صاحبہ نے بڑے سکون سے جواب دیا: ایسا کچھ نہیں ہوا۔ وہ آپ کی خیریت معلوم کرنے آئی تھیں۔ میں نے جو ان کی خدمت کر سکتی تھی، کی ہے۔ چودھری صاحب خاموش ہوگئے۔ جن عورتوں کو معاشرہ عزت کے قابل نہیں سمجھتا تھا، وہ ان کی بیماری کی خبر لینے کے لیے اتنی دور ان کے گھر تک پہنچی تھیں۔ اور ان کی بیوی نے بھی انہیں ذلت دینے کے بجائے عزت دی تھی۔ چودھری صاحب نے فورا گاڑی لی، ڈرائیور کو ساتھ لیا اور لاہور روانہ ہو گئے۔ وہاں پہنچ کر ان عورتوں سے ملاقات ہوئی۔ انہیں بٹھایا اور پوچھا: میری بیوی نے کوئی بکواس تو نہیں کی؟ وہ حیران ہو گئیں۔ کہنے لگیں: آپ کی بیوی؟ وہ تو اتنی نیک عورت ہیں کہ ہم سوچ بھی نہیں سکتے کہ وہ ہمارے بارے میں کوئی بُری بات کہیں گی۔ پھر ان میں سے ایک نے وہ بات کہی جو آج بھی اس واقعے کو میرے لیے زندہ رکھتی ہے: ہم نے بہت سے لوگ دیکھے ہیں، مگر ایسی نیک اور پاک باز بی بی بہت کم دیکھی ہے۔ اگر ہماری وجہ سے اس کے گھر میں ذرہ بھر بھی خرابی آئے، اگر اس کا ایک پیسہ بھی ہمارے گھر میں آئے، یا ہم آپ سے ایسا کوئی فائدہ لیں جس کا تعلق اس گھر کی کمائی سے ہو تو اللہ تعالی ہماری بخشش نہ کرے۔ ہم ایسی نیک عورت کے ساتھ ظلم نہیں کرسکتے۔ پھر انہوں نے صاف کہہ دیا: آپ کبھی ہماری طرف آنا چاہیں تو آ سکتے ہیں، لیکن آج کے بعد ہم آپ سے ایسا تعلق نہیں رکھ سکتے جس سے اس خاتون کی دلآزاری ہو۔ ہمارا دل کانپ گیا ہے کہ ایسی نیک عورت کی کمائی کا ایک پیسہ بھی ہمارے گھر میں آئے۔ چودھری صاحب کے پاس شاید اس کے بعد کہنے کو کچھ نہیں بچا تھا۔ وہ واپس آ گئے۔ اور پھر کبھی وہاں نہیں گئے۔ یہاں آ کر یہ واقعہ ختم نہیں ہوتا، بلکہ اصل میں شروع ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ شرافت آخر ہے کیا؟ کیا اشرافیہ کا رکن ہونا انسان کے کردار کی ضمانت ہے؟ اچھا لباس، بڑا عہدہ، دولت، شہرت یا معاشرے میں عزت دار کہلانا کیا انسان کے کردار کی ضمانت ہے؟ ہم اپنے اردگرد ایسے لوگوں کو دیکھتے ہیں جن کے نام کے ساتھ شرافت جڑی ہوتی ہے، مگر وہ دوسروں کے اعتماد کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ کسی کی جوانی، کسی کی صلاحیت، کسی کے تعلقات، کسی کی دولت اور کسی کی شہرت سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ضرورت ہو تو تعلق بناتے ہیں، مقصد پورا ہوجائے تو تعلق بھول جاتے ہیں۔ یہ کسی غلط پیشے کو درست قرار دینے کی بات نہیں۔ نہ ہی اس واقعے کا مقصد سماجی اقدار کی نفی ہے۔ بات صرف اتنی ہے کہ اخلاقی کردار اور سماجی مرتبہ ہمیشہ ایک ہی چیز نہیں ہوتے۔ اس واقعے میں ایک طرف وہ عورتیں ہیں جنہوں نے ایک نیک عورت کی عزت کو اپنے مفاد پر ترجیح دی، دوسری طرف وہ بیگم صاحبہ ہیں جنہوں نے اپنے دروازے پر آنے والی عورتوں کو ان کے ماضی یا پیشے سے نہیں، انسان ہونے کی حیثیت سے دیکھا۔ اور درمیان میں ایک ایسا شخص ہے جس نے ایک واقعے سے اپنی زندگی کا ایک باب بند کر دیا۔ شاید شرافت کا اصل امتحان وہیں شروع ہوتا ہے جہاں انسان کے پاس اپنے مفاد کو بچانے اور دوسرے کی عزت کو بچانے کے دو راستے ہوں۔ لباس انسان کو معزز دکھا سکتا ہے، نام اسے معتبر بنا سکتا ہے، منصب اسے طاقت دے سکتا ہے، دولت اسے معاشرے میں مقام دے سکتی ہے، مگر انسان صرف کردار سے بنتا ہے۔ اور کبھی کبھی بازار کے وہ لوگ، جنہیں ہم شرفا کی صف میں کھڑا کرنا گوارا نہیں کرتے، ہمیں شرافت کا وہ سبق دے جاتے ہیں جو اشرافیہ میں بیٹھے ہوئے بہت سے لوگ مدت سے بھول چکے ہوتے ہیں۔ شاید اسی لیے سوال صرف یہ نہیں کہ بازار میں کون بیٹھا ہے؟ اصل سوال یہ بھی ہے کہ شرفا کے درمیان بازار کہاں کہاں بس چکا ہے؟۔