سیلاب میں زندگی بچانے والی کشتی الٹی اور نو لاشیں پانی کی قبر میں دفن ہو گئیں۔ ہر فوت ہونے والا ریاست کا ضرور ملزم ہو گا، مجرم ہو گا یا باغی ہو گا مگر دو سالہ بچہ سلیمان سیال اور سات سالہ فیضان سیال تو ابھی ریاست کی نگاہ میں معصوم ہی تھے۔ دونوں بھائی اپنے ابا فیاض کی آنکھوں کے تارے ہونگے مگر آفات بھلا کب کسی ماں کی گود یا باپ کے خواب دیکھتی ہیں۔ جلالپور پیر والا تھانے کی طرف سے سیلابی قبروں میں دفن ہونے والوں کے ناموں پر مشتمل جاری شدہ فہرست بظاہر ایک قانونی تقاضا ہے مگر اس واقعہ کی ایف آئی آر درج کر کے تفتیش کی جاتی تو سیلاب کی کوکھ سے کئی سوال اگلتے، ایسے سوال جن کے جواب تیسری دنیا کے کسی بھی ملک میں اپنا جواب ڈھونڈتے ڈھونڈتے دم توڑ جاتے ہیں۔ تفتیش کی جاتی تو دریائی پلوں کو پانی کی مقدار سے بہت کم سائز میں ڈیزائن کرنے والے کسی اندرونی ضمنی میں نامزد ہوتے۔ دریائی گزرگاہوں پر کالونیاں بنانے والے بھی حوالات سے جھانک کر دیکھتے اور کئی اور پردہ نشینوں کے نام گنواتے۔ تفتیشی ایماندار ہوتا تو دریائی بندوں کو مرمت کرنے کے نام پر سالانہ کروڑوں روپے ہڑپ کرنے والے عبوری ضمانتوں پر ہوتے۔ پولیس آزادانہ تفتیش کرتی تو متعلقہ ایکسیئن، ایس ڈی اوز اور ٹھیکیدار فرار ہو چکے ہوتے۔ تفتیشی ضمنی چیخ چیخ کر بتاتی کہ بیراجوں اور ہیڈز کو آپریٹ کرنے والے پانی کی شدت کو دیکھ کر نہیں سیاسی مہروں کا نقصان دیکھ کر سیلاب کا رخ موڑتے رہے۔ سوال اٹھایا جاتا کہ جب دریا خشک ہوتے ہیں تو پل مضبوط دکھائی دیتے ہیں اور جب پانی آتا ہے تو پل اس لیے ٹریفک کے لیے بند کر دئیے جاتے ہیں کہ کہیں گر نہ جائیں۔ سوال پوچھا جاتا کہ یہ کیسا نظام ہے جس میں خشک دریاو¿ں کے گرد بند قائم ہیں اور اگر کچھ پانی آ جائے تو بند توڑنا پڑتا ہے۔ موٹر وے ہمارا جنگی رن وے بھی ہے مگر یہ کیسا نظام ہے جس میں موٹر ویز کو بھی کاٹ دیا جاتا ہے۔ اچھا ہوا سوال نہیں پوچھا جاتا کیونکہ تیسری دنیا کے ممالک مجرموں کے لیے دارالامان ہوتے ہیں جہاں آفات غریبوں کے لیے عذاب اور امیروں کے لیے بزنس ہوتی ہیں۔ میں نے خود اپنی آنکھوں سے لاشوں کو لاوارث پڑے دیکھا۔ لوگوں کی جانیں بچانے کے عوض کشتی والے ملاحوں کو لاکھوں روپے کرایہ پر بضد پایا۔ ہیڈ سدھنائی پر توڑے گئے مائی صفوراں بند پر گئے تو حیرت دکھ میں ڈوب گئی جہاں جانور، فصلیں اور گھر سب کچھ بہہ گئے۔ اپنی کارپوریشن کے ساتھ حمزہ چودھری، دانش علی اور شیری کو دیکھا کہ وہ ملتان سے ہیڈ سدھنائی پہنچے جہاں ضرورت مندوں کو ایک وقت کے لیے سہی کچھ ڈھارس بندھائی۔ ہر چند سال بعد آنے والے سیلاب کی کہانیاں ذرا بھی مختلف نہیں ہوتیں اور تباہیاں پہلے سے بھی زیادہ۔ جدت کی طرف ڈھل چکی دنیا ابھی وہیں پر کھڑی ہے جہاں سڑکوں کو کٹ لگا کر پانی کا پریشر کم کیا جاتا ہے، جہاں ہجرت کا درس دیا جاتا ہے، جہاں اپنی نااہلی کو اللہ کے عذاب کا نام دے کر صبر کرنے کا سبق پڑھایا جاتا ہے۔ یہ رپورٹ آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے کہ ملتان کی تحصیل جلالپور پیروالا شہر کے قریب اوچ شریف روڈ پر شگاف ڈالنے کے فیصلہ کی ٹیکنیکل کمیٹی نے مخالفت کی لیکن اس کے باوجود سیاسی فیصلہ کر کے اس میں شگاف ڈال دیا گیا جس کے نتیجہ میں درجنوں بستیاں پانی کی زد میں آئیں اور اس کے ساتھ ایم 5 موٹروے بھی بری طرح متاثر ہونے پر اسکو بھی بند کرنا پڑ گیا۔ ٹیکنیکل کمیٹی کے ذرائع کے مطابق سیاسی قائدین کو یہ بات باور کرائی گئی تھی کہ دریائے چناب کے پانی میں کمی واقع ہو جائے گی عجلت میں یہ شگاف نہ ڈالا جائے اس سے 20 مربع کلومیٹر کا علاقہ متاثر ہو گا، دریائے ستلج کے پانی کا لیول اگر بڑھ گیا اور پانی واپس آنا شروع ہو گیا تو تباہی زیادہ ہو گی اور ایسا ہی ہوا۔ روڈ پر ڈالے جانے والے شگاف سے اب پانی واپس جلالپور شہر کی جانب بڑھنے لگا ہے، نوراجہ بھٹہ کا بند بھی پانی کا دباو¿ برداشت نہ کر سکا اور ٹوٹ گیا جس سے جلالپور لودھراں روڈ پر وہاڑی پل بُری طرح متاثر ہوا اور ٹریفک کے لیے اسکو بند کرنا پڑ گیا۔ یہی نہیں پانی موٹروے انٹر چینج کے چاروں طرف آ گیا اور انٹرچینج کو پہلے بند کرنا پڑا لیکن بعد میں موٹروے کے متاثر ہونے پر فوری طور پر این ایچ کی ہدایت پر ایم فائیو موٹروے کو بھی بند کر دیا گیا موٹروے کے متاثرہ حصہ پر این ایچ کی جانب سے مرمت کا کام جاری ہے لیکن پانی کا بہاو¿ زیادہ ہونے کے باعث کام کرنے میں شدید دشواری ہو رہی ہے۔ اہل علاقہ کے مطابق شگاف ڈال کر ایک ایم پی اے کی خواہش کو پورا کیا گیا اور درجنوں بستیوں کو اجاڑ دیا گیا، شگاف ڈالنے سے متاثر ہونے والی بستیوں میں چک 87 ایم، بستی سادات، بستی مکھن والا، شمیر والا، بستی مکھے والا، بستی نکا آرائیں، بستی حجانہ، بستی لانگ، بستی ڈیپال، بستی بہادر پور چک 88، بستی بیلے والا، بستی قریشیاں، بستی کنہوں اور بہادر پور قصبہ شامل ہیں۔ اس بارے ڈپٹی کمشنر وسیم سندھو نے بتایا کہ ڈسٹرکٹ ملتان کی ٹیکنیکل کمیٹی کے وہ سربراہ ہیں اور ضلع بھر میں کسی بھی جگہ شگاف ڈالنے کا فیصلہ انہوں نے محکمہ انہار کے افسران کی رائے کی روشنی میں کرنا تھا لیکن اوچ شریف روڈ پر شگاف ڈالنے کا فیصلہ سینئر سیاسی قیادت کی سربراہی میں کیے جانے والے اجلاس میں کیا گیا۔ اس فیصلہ نے ملتان انتظامیہ کو مزید مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ دریائے چناب کا پانی کم ہونے کے باوجود جلالپور پیروالا میں تباہی کا نہ رکنے والا سلسلہ جاری ہے جس سے افسران شدید ذہنی اضطراب کا شکار ہیں۔