Wed, September 16, 2026

برکس اجلاس اور ڈالر

برکس اجلاس اور ڈالر


برکس کااٹھارواں سربراہی اجلاس دنیاکو کئی سوالات کے جوابات دیے بغیر نئی دہلی میں ختم ہوگیا ہے کیا برکس واقعی امریکہ اور مغرب کے مقابل ایک نئے عالمی محاذ کی شکل اختیار کررہا ہے ؟کیا ڈالر کی دہائیوں پر محیط بالا دستی کو چیلنج کرنے کا خواب اب حقیقت بننے کے قریب ہے؟اور کیا چین ،روس ،ایران ،بھارت،سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے مختلف مفادات رکھنے والے ممالک ایک ایسا معاشی نظام تشکیل دے سکتے ہیں جو مغربی مالیاتی نظام کا متبادل بن سکے؟۔
اِن سوالات کاجواب اگر نعروں کے بجائے حقائق کی روشنی میں تلاش کیا جائے تو واضح ہوتاہے کہ برکس امریکہ کے خلاف کوئی متحدہ محاذنہیں بن سکا مگر محض اِس وجہ سے ناکام کہنابھی درست نہیں ہوگا حقیقت یہ ہے کہ برکس ایک ایسے عالمی نظام کی تلاش میں ضرورہے جس میں طاقت کا مرکز صرف ایک ملک یا ایک خطہ نہ ہو لیکن اِس منزل تک پہنچنے کے راستے میں خود اِس کے ارکان کے درمیان کئی فاصلے اختلافات کی صورت میں موجود ہیں ۔
برکس کی بڑھتی اہمیت سے انکار نہیں دنیاکی بڑی آبادی ،وسیع ذخائر،وسیع جغرافیہ،توانائی کے بے پناہ ذخائر،معدنی وسائل اور بڑی معیشتیں اِس تنظیم کا حصہ ہیں چین اور بھارت دنیا کی بڑی معیشتوں میں شمار ہوتے ہیں روس توانائی اور دفاعی طاقت رکھتا ہے ایران کے پاس تیل اور گیس کے وسیع ذخائر ہیں جبکہ خلیجی ممالک عالمی توانائی کی منڈی میں غیر معمولی اہم ہیں یہی وجہ ہے کہ برکس اب محض ایک اقتصادی تنظیم سے زیادہ عالمی طاقت کے بدلتے توازن کی علامت بن چکی ہے تاہم برکس کے بارے میں سب سے زیادہ مبالغہ ڈالر کے معاملے میں ہے ہر اجلاس سے پہلے یہ تاثر دیاجاتا ہے کہ شاید اب ڈالر کی بادشاہت ختم ہونے والی ہے اوریوروکی طرح کی کوئی نئی مشترکہ کرنسی دنیا کے سامنے آنے والی ہے جبکہ حقیقت اِس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے نئی دہلی کے حالیہ اجلاس سے ایسا تاثر بناہے کہ فیصلوں کے حوالے سے اِس تنظیم کی رفتارکچھ زیادہ ہی سُست ہے۔
برکس نے مشترکہ کرنسی متعارف کرانے کا فوری فیصلہ نہیں کیا البتہ رُکن ممالک کے درمیان مقامی کرنسیوں میں تجارت اور سرحد پار ادائیگیوں کے متبادل طریقوں کو فروغ دینے کی سوچ دی ہے یہ بظاہر ایک معمولی قدم لگتاہے لیکن اگر اِسے مستقل مزاجی سے آگے بڑھایا جائے تو اثرات دور رس ہو سکتے ہیںیہاں ایک بنیادی فرق سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ڈالر کوختم کرنا اور ڈالر پر انحصار کم کرنا ایک ہی بات نہیں ۔برکس فی الحال دوسری سمت میں بڑھ رہا ہے اور اِس کی کوشش یہ ہے کہ اگر چین روس سے خریداری کرے بھارت کسی خلیجی ملک سے تجارت کرے یا ایران کسی دوسرے رُکن ملک کو اپنی مصنوعات فروخت کرے تو ہر لین دین کے لیے امریکی ڈالر اور مغربی مالیاتی نظام پر مکمل انحصار ضروری نہ رہے لیکن اِس راستے میں مشکلات بھی کم نہیں ڈالرصرف امریکی کرنسی نہیں بلکہ یہ عالمی تجارت ،عالمی بینکاری، سرمایہ کاری اور مرکزی بینکوں کے ذخائر کا ایک بڑا ستون ہے لہذا اِس کے مقابل کوئی متبادل نظام بنانے کے لیے صرف سیاسی خواہش کافی نہیں بلکہ مضبوط مالیاتی ڈھانچہ،باہمی اعتماد،مستحکم کرنسیاں اور ایسا ادائیگی کا نظام درکار ہے جس پر تمام بڑے رُکن ممالک اعتماد کر سکیں لیکن ایسا اعتماد برکس میں کہیں موجوونہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں برکس کی طاقت اور کمزوری دونوں ایک ساتھ سامنے آتی ہیں نئی دہلی اجلاس میں سعودی عرب کی موجودگی اگر خاصی معنی خیز تھی توریاض کا محتاط رویہ بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا سعودی ولی عہد محمد بن سلیمان خود اجلاس میں شریک نہیں ہوئے بلکہ سعودیہ کی نمائندگی وزیرِ خارجہ فیصل بن فرحان نے کی سعودی عرب ایک طرف چین کے ساتھ معاشی تعلقات کو غیر معمولی وسعت دے رہا ہے تو دوسری طرف امریکہ سے بھی دیرینہ دفاعی اور اقتصادی تعلقات برقرار رکھناچاہتا ہے چنانچہ سعودی عرب سے یہ توقع کرنا کہ وہ اچانک امریکی نظام سے منہ موڑ کر برکس کے کسی واضح مغرب مخالف کیمپ کاحصہ بن جائے گا شاید حقیقت پسندانہ نہیں ہوگا سعودی عرب اپنی خارجہ پالیسی میں اب ایک ہی دروازے پر کھڑے رہنے کی بجائے کئی دروازے کھلے رکھنا ترجیح ہے اسی طرح بھارت کا کردار بھی برکس کی اصل تصویر سمجھنے میں مدد دیتا ہے نئی دہلی چین کے کے ساتھ سرحدی اور علاقائی اختلافات رکھتا ہے لیکن روس کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات بھی قائم رکھنا چاہتا ہے اُس کی امریکہ اور مغرب کے ساتھ شراکت داری مسلسل بڑھ رہی ہے رواں برس یورپی یونین سے آزاد تجارتی معاہدہ بھی کرچکاجبکہ امریکہ ،جاپان اورآسٹریلیا کے ساتھ الگ تزویراتی شراکت داری ہے اسی بناپر بھارت برکس کو امریکہ مخالف اتحاد بنانے کی بجائے اِسے اپنے لیے ایک اضافی سفارتی اورمعاشی میدان کے طورپر استعمال کرتا دکھائی دیتا ہے۔ ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان ہونے والی ملاقات اجلاس کا ایک اہم پہلو ضرور تھی دونوں ممالک کے درمیان اختلافات اور خطے کی پیچیدہ صورتحال کے باوجودایک ہی فورم پر رابطہ اِس بات کی علامت ہے کہ برکس صرف تجارت اور کرنسی کی بحث تک محدود نہیں ۔اگر مختلف سیاسی اور علاقائی مفادات رکھنے والے ممالک ایک دوسرے کے ساتھ مکالمے کاماحول رکھ سکیں تو یہ برکس کی ایک بڑی کامیابی سمجھی جائے گی۔برکس اتحاد کی طاقت اِس کی وسعت اور تنوع ہے لیکن یہی تنوع اُسے ایک متحد سیاسی محاذ بننے سے روکتاہے۔
یہاں چین کاکردار سب سے زیادہ نمایاں ہے بیجنگ برکس کو ایک ایسے عالمی نظام کے لیے اہم پلیٹ فارم سمجھتا ہے جس میں امریکہ اور مغرب کی فیصلہ کُن برتری کم ہو لیکن چین یہ بھی اچھی طرح جانتا ہے کہ عالمی مالیاتی نظام کو ایک دن میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا اسی لیے اُس کی حکمتِ عملی بظاہر انقلاب سے زیادہ بتدریج تبدیلی کی ہے اب سوال یہ ہے کہ برکس اجلا س دہلی کی کامیابی کتنی ہے؟اگر کامیابی کا معیار یہ ہو کہ برکس نے ڈالر کو شکست دے دی۔ امریکہ کے مقابل نیامالیاتی عالمی نظام قائم کردیایا مشترکہ کرنسی جاری کردی تو یقیناََ ایسا کچھ نہیں ہوا۔برکس کے حالیہ اجلاس کی کامیابی کاکوئی پہلو ہے تو وہ گیارہ ممالک کا ایک اعلامیے پر دستخط کرناہے جو ایران اور متحدہ عرب امارات کی طرف سے مشترکہ اعلامیے کی حمایت سے ممکن ہوا۔ دنیامیں جاری متعدد جنگوں، تجارتی کشمکش، پابندیوں، توانائی کے بحران اور امریکہ وچین کے درمیان بڑھتی مسابقت کے تناظر میں یہ پیش رفت معنی خیز ہے۔

ٹیگز: