Wed, September 16, 2026

اے آئی کے بڑھتے خطرات پر عالمی تشویش میں اضافہ

اے آئی کے بڑھتے خطرات پر عالمی تشویش میں اضافہ

کیلیفورنیا:  مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تیز رفتار پیش رفت نے دنیا بھر میں اس کے ممکنہ نقصانات اور خطرات کے حوالے سے تشویش بڑھا دی ہے، جبکہ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اے آئی مستقبل میں انتہائی سنگین خطرات کا باعث بن سکتی ہے اور اس کی ترقی کو محفوظ حدود میں رکھنے کی ضرورت ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق 1300 سے زائد کمپیوٹر سائنس دانوں نے مشترکہ طور پر جاری کیے گئے ایک کھلے خط میں حکومتوں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی تیاری اور استعمال کے لیے مؤثر حفاظتی قوانین اور ضوابط وضع کیے جائیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی کے غیر معمولی تیز پھیلاؤ سے پیدا ہونے والے ممکنہ بڑے خطرات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ان کے مطابق اس ٹیکنالوجی کی نگرانی اور ذمہ دارانہ استعمال کے لیے مضبوط نظام ضروری ہے، تاہم امریکی حکومت کی جانب سے اس حوالے سے ابھی تک مؤثر قانون سازی اور جامع ریگولیٹری اقدامات دیکھنے میں نہیں آئے۔

ادھر ٹرمپ انتظامیہ نے اے آئی سے متعلق خدشات کو بعض مخالف حلقوں کی جانب سے بڑھا چڑھا کر پیش کیا جانے والا معاملہ قرار دیا ہے۔ امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں عالمی برتری حاصل کرنے والا ملک بین الاقوامی سطح پر اپنی سبقت برقرار رکھنے میں کامیاب رہے گا۔

مصنوعی ذہانت کے میدان میں عالمی طاقتوں کے درمیان جاری مسابقت کے ساتھ ہی اس ٹیکنالوجی کی محفوظ ترقی اور نگرانی کا معاملہ بھی زیادہ اہمیت اختیار کرگیا ہے، جس کے باعث ماہرین کی جانب سے سخت حفاظتی اصول، مؤثر نگرانی اور ذمہ دارانہ پیش رفت کے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں۔

ٹیگز: