ڈونلڈ ٹرمپ بڑی امیدوں سے چین کے دورہ پر گئے تھے لیکن وہ اس دورے سے جو کچھ حاصل کرنا چاہتے تھے اسے حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں ۔ امریکہ دنیا کی ایک بڑی معیشت ہے اور دنیا بھر سے یہاں کاروباری سرگرمیاں دیکھنے کو ملتی ہیں اور ٹرمپ نے اسی ایک کمزوری سے دنیا کو بلیک میل کرنے کے لئے ٹیرف کا ہتھیار استعمال کیا بلکہ بے دریغ استعمال کیا اور دنیا بھر کے ممالک نے اپنے کاروباری مفادات کو دیکھتے ہوئے ٹرمپ کی ٹیرف بلیک میلنگ کے آگے سر جھکا دیا ۔ ہندوستان پر ٹیرف بڑھایا تو اسے روس سے تیل کی خریداری بند کرنی پڑی ۔ وینزویلا میں کھلی غنڈا گردی کے ذریعے اس کے صدر کے بیڈ روم کے دروازے توڑ کر وہاں کے صدر اور ان کی بیوی کو زبردستی گرفتار کر کے امریکہ لے جا کر ان پر منشیات اسمگلنگ کا مقدمہ بنایا گیا جو ان پر اب بھی چل رہا ہے اور وہ پابند سلاسل ہیں ۔ اس ساری بد معاشی کی ایک ہی وجہ تھی کہ وینزویلا جو دنیا کے تیل پیدا کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے اس کے تیل کے ذخائر پر کنٹرول حاصل کیا جائے جو کہ اب امریکہ کے کنٹرول میں ہیں ۔ امریکہ اس سے پہلے یہی کام عراق اور لیبیا میں بھی کر چکا ہے ۔ یہ جتنے بھی ممالک تھے یہ سب امریکہ کے لئے تر نوالہ ثابت ہوئے تھے اور یہی سوچ کر اس نے ایران پر حملہ کر دیا تھا ۔ ٹرمپ اور نیتن یاہو کی بڑی زبردست حکمت عملی تھی اس لئے کہ ایران کے عرب ریاستوں کے ساتھ کوئی بہت زیادہ مثالی تعلقات نہیں تھے اور ان دونوں کو پورا یقین تھا کہ عرب ریاستیں کہ جہاں پر امریکن اڈے ہیں وہاں سے بھی اگر ایران پر میزائل فائر کئے جائیں گے تو ایران کیا کوئی بھی ملک ایک ساتھ امریکہ جیسی سپر پاور اور اسرائیل جیسی انتہائی مضبوط جنگی صلاحیت کے حامل ملک کے ساتھ مزید آدھی درجن سے زیادہ ملکوں کے ساتھ محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہو سکتا اور یہ بات خود ٹرمپ بھی کہہ چکے ہیںکہ انھیں امید نہیں تھی کہ ایران عرب ممالک پر بھی حملے کرے گا لیکن ایران نے جس طرح خلیج میں امریکن اثاثوں کی تباہی پھیری اور پھر خاص طور پر اس کے بغل بچے اسرائیل کو جو نقصان پہنچایا یہ بات ٹرمپ اور نیتن یاہو کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھی ۔ ان کا تو یہی خیال تھا کہ چند روز میں ایران شکست تسلیم کرتے ہوئے امریکہ کے قدموں میں گر جائے گا اور اس کے بعد وینزویلا کی طرح ایران کے تیل کے ذخائر پر بھی امریکہ کا مکمل کنٹرول ہو گا ۔
بات ڈونلڈ ٹرمپ کے چین کے دورے کی ہو رہی تھی لیکن کسی اور طرف چل نکلی تو چند گذارشات مزید عرض کرتے جائیں کہ صرف ایران کی وجہ سے ٹرمپ اور نیتن یاہو نے ایک مہذب دنیا کو کس طرح غیر مہذب راستے پر ڈال کر صدیوں پہلے دور ملوکیت کی یادیں تازہ کر دی ہیں ۔ ٹرمپ ایک سے زائد بار یہ بیان دے چکے ہیں کہ انھیں کردوں نے بہت مایوس کیا ہے کہ جنھیں ایران میں رجیم تبدیلی کے لئے ڈالر اور اسلحہ دونوں دیئے لیکن انھوں نے نتائج نہیں دیئے ۔ اس کے علاوہ وہ ایران میں حکومت مخالف مظاہرین کی حوصلہ افزائی بھی کرتے رہے اور جب جنگ کے آغاز میں ہی آیت اللہ خامینائی کو شہید کیا گیا تو اس کے بعد بھی ایرانی عوام سے موجودہ رجیم کے خلاف نکلنے کی اپیلیں کرتے رہے لیکن جب تمام امیدیں اور اندازے غلط ثابت ہو گئے بلکہ اس کے بر عکس دنیا بھر میں اور خود امریکہ میں ایران کی فتح اور امریکہ کی شکست کی باتیں ہونے لگیں تو مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق امریکہ نے آبنائے ہرمزکو بند کر دیا اور اس کی ایک وجہ تو ایران کی معاشی ناکہ بندی تھی اور دوسری وجہ جو ممالک ایران سے تیل خریدتے تھے انھیں امریکہ سے تیل خریدنے پر مجبور کرنا تھا اور یہ بیان بھی ٹرمپ کی جانب سے دیا گیا کہ آبنائے ہرمز بند کرنے کے بعد دنیا ان سے دھڑا دھڑ تیل لے رہی ہے ۔
دامن کالم میں گنجائش کم رہ گئی ہے لہٰذا ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ چین کی ناکامی پر مختصر بات کرنی پڑے گی ۔ دورہ چین کی ناکامی پر ہم اپنی رائے نہیں دیں گے بلکہ چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے بعد ٹرمپ نے جو بیان دیا وہی اس دورے کی ناکامی کے لئے کافی ہے ۔ ٹرمپ نے کہا کہ چین ایران سے تیل کی خریداری جاری رکھنا چاہتا ہے ۔ یہ ذہن میں رہے کہ امریکہ نے چین پر پابندیاں لگا رکھی ہیں ۔ اس کے علاوہ چین آبنائے ہرمز کو کھولنے کے حق میں ہے ۔ چین ایران کے خلاف مزید کسی اقدام کے خلاف ہے۔ چین فوری مستقل جنگ بندی چاہتا ہے ۔ تائیوان کے مسئلہ پر جو کہ امریکہ اور چین کے درمیان ایک بہت بڑا مسئلہ ہے اس پر بھی چین نے امریکہ کی کسی بات کو ماننے سے انکار کر دیا ہے ۔ چین جنگ بندی کے لئے مدد کرنے کو تیار ہے ۔ صرف ایک بات کی جا رہی ہے لیکن یہ ٹرمپ یا کسی اور امریکن آفیشل کی جانب سے نہیں بلکہ امریکن میڈیا میں کہا جا رہا ہے کہ چین ایران کو جنگی ساز و سامان نہیں بیچے گا ۔ ٹرمپ کو ایک کامیابی ملی ہے اور وہ بھی ابھی ٹرمپ کے دعوے تک محدود ہے کہ چین امریکہ سے دو سو بوئنگ طیارے خریدے گا ۔ یہ کب ہو گا کوئی پتا نہیں لیکن چین کے اس ایک عمل سے امریکہ ایران کے ساتھ جنگ میں ایک نہیں بہت سی باتیں ماننے پر مجبور ہو جائے گا ۔ چین کے دورے کے نتائج کا یہ ایک مختصر جائزہ تھا جس کے بعد امید ہے کہ امریکہ جنگ میں ایران کے خلاف مزید من مانیاں کرنے سے باز رہے گا۔