Wed, September 16, 2026

برطانوی اخبار "ٹیلی گراف" نے پاکستانی-امریکن بزنس مین ضیا چشتی سے معافی مانگ لی

برطانوی اخبار

لندن : برطانیہ کے اخبار "ٹیلی گراف" نے پاکستانی-امریکن بزنس مین ضیا چشتی سے معافی مانگ لی ہے۔ رائل کورٹ آف جسٹس نے فیصلے میں کہا کہ اخبار نے ضیا چشتی پر جو الزامات لگائے تھے وہ جھوٹے تھے۔ اخبار نے یہ تسلیم کیا کہ ان الزامات میں کوئی حقیقت نہیں تھی اور یہ الزامات غیر منصفانہ، جھوٹے اور ہتک آمیز تھے۔

"ٹیلی گراف" نے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی پوزیشن سے دستبردار ہو رہا ہے کہ یہ الزامات درست تھے یا عوامی مفاد میں تھے۔ اخبار نے مقدمے کے آغاز سے پہلے ہی ضیا چشتی کے ساتھ تصفیہ کر لیا اور معافی کو اپنے پرنٹ اور آن لائن ایڈیشنز میں شائع کرنے کا وعدہ کیا۔ اس کے علاوہ، اخبار نے ضیا چشتی کو ہرجانہ اور قانونی اخراجات ادا کرنے کی بھی رضا مندی ظاہر کی ہے۔

ضیا چشتی نے 2021 سے 2023 کے دوران "ٹیلی گراف" میں شائع ہونے والے مضامین پر ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا تھا، جن میں ان پر جنسی ہراسانی اور حملے کا الزام لگایا گیا تھا۔ اس الزام کے بعد ٹاٹیانا اسپوٹس ووڈ نے امریکی کانگریس کو بھی آگاہ کیا تھا، مگر ضیا چشتی کو کانگریس میں اپنا دفاع پیش کرنے کی اجازت نہیں ملی۔

ضیا چشتی نے اس معافی کو ایک مثبت قدم قرار دیا اور کہا کہ وہ ان الزامات کے مرتکب نہیں تھے جن کا ان پر الزام لگایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ساڑھے تین سال ان کے لیے ایک آزمائش تھے، جس کے دوران ان کی ساکھ اور کاروبار کو بڑا نقصان پہنچا۔ ضیا چشتی کے قانونی مشیر ایلن رڈ شووٹز نے کہا کہ اخبار کے تصفیے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ الزامات بے بنیاد تھے۔ ضیا چشتی نے پاکستان میں بھی ایک ہتک عزت کا مقدمہ جیتا تھا۔

اس کے علاوہ، ضیا چشتی نے امریکہ میں ٹاٹیانا اسپوٹس ووڈ اور ان کے وکلا کے خلاف بھی مقدمہ دائر کیا ہے، اور ان کا کہنا ہے کہ وہ امید رکھتے ہیں کہ کانگریس انہیں بھی اپنے دفاع کا موقع دے گی، جیسا کہ الزام لگانے والے کو ملا۔

ضیا چشتی نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا تھا اور ان کی کمپنیاں مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔ "Afiniti" دیوالیہ ہو چکی ہے، اور "ریسورس گروپ" بھی مالی بحران کا شکار ہے۔

ٹیگز: