Thu, September 17, 2026

جعفرایکسپریس اورڈیجیٹل دہشتگرد

جعفرایکسپریس اورڈیجیٹل دہشتگرد

ہندوستان کے جتنے فوجی پاکستان اور چین کے ساتھ جنگوں میں جان سے گئے ہیں اس سے تین گنازیادہ فوجی اپنے ہی ملک میں علیحدگی پسند تحریکوں اور دہشتگردی کی کارروائیوں میں مارے جاچکے ہیں۔ماو¿ باغی اور نکسل وادی گزشتہ سات دہائیوں سے ہندوستان کے خلاف جنگ لڑرہے ہیں ۔2014میں نکسل وادیوں کا ہندوستان کی دس ریاستوں کے ایک سو چھبیس اضلاع میں اثر وسوخ تھا ۔ان ریاستوں میں چھتیس گڑھ ماو¿ باغیوں کا مرکزہے۔اس کے ساتھ ساتھ جھاڑکھنڈ، بہار، مہاراشٹر، مدھیہ پردیش، اڑیسہ، تلنگانااور آندھرا پردیش ہیں۔ مغربی بنگال اور اترپردیش کے کچھ علاقوں میں بھی یہ لڑائی لڑی جارہی ہے۔نکسل واد کے علاوہ ہندوستان اپنے لیے مقبوضہ کشمیراور ناگا لینڈ کو بھی اندرونی سکیورٹی کے لیے سب سے بڑا خطرہ مانتا ہے۔ ناگا لینڈ کی صورتحال تو سب سے مختلف ہے کہ اس نے تو اپنی آزادی کا اعلان بھی کردیا ہے اس نے اپنے لیے اپنا الگ جھنڈاتک بناکرلہرادیا ہے۔ان سارے مسائل کے ہوتے ہوئے ہندوستان کی بے شرمی دیکھیں کہ اس کے نزدیک پاکستان کا بلوچستان دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ ہے ۔
جعفرایکسپریس کو بلوچ دہشتگردوں نے نقصان پہنچانے کی غرض سے ہائی جیک کیا تو ہندوستان کی تو جیسے لاٹری نکل آئی ایسے لگاجیسے ان کی ڈوبی انوسٹمنٹ نے یک دم منافع دینے کا اعلان کردیا ہو لیکن یہ اعلان صرف اعلان ہی رہ گیا کہ پاک فوج کے کمانڈوز نے اس ٹرین کے مسافروں کوبڑے نقصان سے بچالیا۔ہندوستان کے اس قدر پاگل پن اور چیخ وپکار کا ایک فائدہ پاکستان کو یہ ہوا کہ پوری دنیا اس دہشتگردی کے حملے میں پاکستان کے ساتھ کھڑی ہوگئی ۔ امریکا اور یورپ کے ایک ایک ملک نے اس حملے کی مذمت اور پاکستان کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا۔اور اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل تک نے آفیشل بیان میں پاکستان کی حمایت اور بلوچ دہشت گردوں کی مذمت اور مخالفت کرکے اس جنگ میں پاکستان کا کام آسان کردیا ہے۔
ویسے کہا تو جاتا ہے کہ جو انسان خود کسی مسئلے میں پھنسا ہوا ہو اس کو دوسرے کا مسئلہ بھی اپنے جیسا لگتا ہے اور وہ اس احساس کی وجہ سے اس مسئلے میں دوسرے کا ساتھ دیتا ہے لیکن ہندوستان کے ساتھ ایسا بالکل نہیں ہے ۔وہ خود ایسے مسائل سے لتھڑا ہوا ہے لیکن پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لیے ہردم تیاررہتا ہے ۔ہمیں معلوم کہ ہمارا دشمن بے اصولا ہے۔کائر ہے،چھپ کر وار کرتا ہے بغل میں چھری دباکررکھتا ہے اس لیے ہم اس ”بے کرتوتے“دشمن کے لیے مکمل بندوبست رکھتے ہیں۔جعفرایکسپریس کو یرغمال بنانے کا منصوبہ بھی اسی دشمن کی خواہش تھی جسے ناکام بنایا گیا اور اس دشمن کے آلہ کاروں کو پاک فوج کے بہادرجوانوں نے موقع پرہی ختم کردیا۔ ہندوستان کے میڈیا نے جعفرایکسپریس سانحے پر بہت خوشی منائی۔فیک نیوز کا سہارا لےکر حملہ آوروں کی شان میں نغمے گائے گئے ۔یہاں کہا گیا اور درست کہا گیا کہ ہندوستان کو اس مشکل وقت میں ایسا گھٹیا پن نہیں دکھانا چاہئے تھا لیکن میرے نزدیک ہندوستان کا گھٹیا پن اہم نہیں ہے کہ وہ ہمارا دشمن ہے اور آج کل کے ”انفارمیشن وارفیئر“ میں اس کی طرف سے اس طرح کے حملے بنتے تھے۔ میرے جاننے والوں کو معلوم ہے کہ میں پاکستان کا کیس لڑنے کے لیے روٹین میں انڈین چینلز کے شوز میں شریک ہوتا ہوں ۔جعفر ایکسپریس کا سانحہ ہوا تو مجھے ہندوستان کے درجنوں چینلز سے کالز آنا شروع ہوگئیں ، بطور جرنلسٹ مجھے معلوم ہوتا ہے کہ کونسی خبر اصلی ہے اور کتنا جھوٹ بیچا جائے گا اس لیے اس کا بندوبست کرکے جاتا ہوں لیکن اس سانحے پر مجھے معلوم تھا کہ سوائے جھوٹ کے اور کچھ ممکن ہی نہیں ہے اس لیے پورے دودن ہندوستان کے میڈیا کی دعوتوں کے باوجود وہاں سے جانے سے مسلسل انکارکی پالیسی رکھی کہ مجھے اس پروپیگندا وارمیں حصہ دار بننا جرم سا لگ رہا تھا۔
جو کچھ ہندوستان کے میڈیا نے کیا مجھے اس پر ذرا بھی رنج نہیں کہ ان کا کام ہی یہی ہے کہ وہ ہمارادشمن ملک ہے اور یہ ہم سب کو معلوم بھی ہے ۔مجھے تکلیف ان عناصر سے ہوئی اور شدید ہوئی جنہوں نے اس مشکل وقت میں اپنے ملک کی بجائے ہندوستان کے بیانیے کا سا تھ دیا۔ ہم غیرت مندقوم ہیں ۔ہمارے اپنے مسائل ہیں اور بہت زیادہ ہیں۔ہم دن رات ان مسائل سے لڑتے بھی ہیں اور لڑتے بھی رہیں گے لیکن ہماری روایت ہے کہ اپنے 
گھر کے مسائل کے ساتھ ساتھ اگر کوئی باہر سے گھر پر حملہ کرے کوئی بدمعاشی پر اتر آئے تو گھر میں اپنے اپنے مسائل کی وجہ سے ایک دوسرے سے لڑنے والے بھائی بندو بھی اپنی لڑائیاں روک کر باہر کے حملہ آور کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک ساتھ ہوکر مقابلہ کرتے ہیں۔پہلے باہر کے دشمن کو نمٹاتے ہیں اور جب مشکل وقت ٹل جاتا ہے تو پھر اپنے اپنے مسائل کا حل نکالنے میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ لیکن اس ملک کی بدقسمتی دیکھیں اور اس بدقسمتی کی وجہ اب سب کو معلوم ہے کہ دہشتگردملک پرحملہ آور ہیں۔چار سو پاکستانی یرغمال ہیں۔ ہمارے قانون نافذکرنے والے جوان ان سے مقابلہ کرنے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں لیکن دوسری طرف اپنے وقتی غصے اور وقتی ناراضگی کی وجہ سے اپنے ہی لوگ اپنی ہی فوج پر حملہ آور ہوگئے؟ آپ خود بتائیں کہ ٹرین کو روک کر پاکستانیوں کو یرغمال بناکر ہمیں تکلیف پہنچانے والوں اور سوشل میڈیا پر پاک فوج کیخلاف مہم چلاکر ان دہشت گردوں کو فائدہ پہنچانے والوں میں فرق کیا بچ گیا ؟بس یہی فرق تھا کہ ایک طرف ”فیزیکل“ دہشتگردی ہورہی تھی تو دوسری طرف”ڈیجیٹل“ دہشتگردی ہورہی تھی۔آج کل ڈیجیٹل دہشتگردی فیزیکل دہشت گردی سے زیادہ تباہ کن ہے ۔
ہندوستان کا میڈیا بھی پاک فوج پر حملہ آور تھا اور یہاں کے نام نہاد صحافی اور یوٹیوبر بھی اپنا سکور سیٹل کررہے تھے۔ہندوستان کی منافقت تو یہیں سے عیاں ہے کہ ان کو اپنے ملک میں علیحدگی کی لڑائی لڑنے والے دہشت گرد لگتے ہیں اور پاکستان میں ایسا کرنے والے آزادی کے مجاہد نظر آتے ہیں۔ایسی دورنگی سے کام نہیں چلتا۔اگر بلوچ دہشت گرد ہندوستان کے نزدیک ”فریڈم فائٹر“ ہیں تو چھتیس گڑھ میں اپنے حقوق کی لڑائی لڑنے والا نکسل دہشت گرد کیوں ہے؟اس سوال کا جواب کسی ہندوستانی کے پاس نہیں ہے کیونکہ سب کو معلوم کہ منافقت ہے ۔
پاکستان میں ایک بار پھر دہشت گردی عروج پکڑرہی رہے۔گزشتہ سال کے دوران گیارہ سو حملے ہوئے جن میں سے اسی فیصدٹارگٹ پاک فوج تھی۔2025کے پہلے تین ماہ میں صرف خیبر پختونخوا میں تین سو حملے ہوچکے ہیں ۔بلوچستان کا مسئلہ سب کے سامنے ہے ایسے میں دہشتگردی کے جواز تلاش کرکے کالم لکھنے والے ۔ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر مذمت کے ساتھ لیکن لگانے والے اور دہشت گردوں کو ”اپنے لوگ “ کہہ کر ان کی بربریت کو جواز دینے کی کوشش میں مصروف سب ان کے ساتھی ہیں ۔سہولتکار ہیں ان کے ہمدرد ہیں ان کے ساتھ بھی کوئی رعایت نہیںہونی چاہئے۔

ٹیگز: