ایک اور محبِ وطن کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا تھا۔ اْس وقت فضا میں ایک عجیب سی خاموشی تھی۔ نہ ایوانوں میں شور اٹھا، نہ سفارت خانوں کے دروازے زور سے کھٹکھٹائے گئے۔ چند رسمی بیانات ضرور آئے مگر ان میں وہ درد نہیں تھا جو ایک نظریاتی ریاست کے لہجے میں ہونا چاہیے۔ سفید بالوں والے بزرگ، جنہوں نے اپنی جوانی ایک نظریے کے نام کردی، تختہ دار پر جھولتے رہے اور ہم سفارتی مصلحتوں کے کاغذ الٹتے پلٹتے رہے۔
یہ کہانی صرف چند افراد کی نہیں تھی، یہ ہماری اجتماعی بے بسی کی داستان تھی۔
بنگال وہ سرزمین ہے جہاں سے تحریکِ پاکستان نے سیاسی توانائی حاصل کی۔ 1946ء کے انتخابات میں مسلم لیگ کی کامیابی نے قیام پاکستان کے مطالبے کو فیصلہ کن موڑ دیا۔ مگر تاریخ کا پہیہ گھوما تو وہی بنگال ہم سے جدا ہوگیا۔ سقوطِ ڈھاکہ ایک سانحہ تھا، مگر اس سے بڑا سانحہ شاید وہ رویہ تھا جو اس کے بعد اختیار کیا گیا۔ کچھ لوگ تھے جنہوں نے بدلتے حالات کے باوجود اپنی نظریاتی وابستگی نہیں چھوڑی۔ انہوں نے بنگلہ دیش کو تسلیم کیا، اس کی تعمیر و ترقی میں حصہ لیا، مگر اپنے ماضی سے لاتعلق نہ ہوئے۔ پھر اچانک نام نہاد ٹریبونلز قائم ہوئے اور دہائیوں پرانے مقدمات کھول کر پھانسیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔
عبدالقادر ملا، علی احسن مجاہد، مطیع الرحمن نظامی یہ نام تاریخ کے صفحات پر درج ہوگئے۔ سوال یہ نہیں کہ وہ کون تھے، سوال یہ ہے کہ ہم کون تھے؟ ہم کہاں کھڑے تھے جب یہ سب کچھ ہورہا تھا؟
اْس وقت بھی پاکستان میں ن لیگ کی حکومت تھی۔ میاں نواز شریف وزیراعظم تھے اور شہباز شریف پنجاب کے وزیراعلیٰ۔ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر آوازیں اٹھیں کہ بنگلہ دیش میں ہونے والی کارروائیوں پر مؤثر سفارتی احتجاج کیا جائے، عالمی فورمز پر معاملہ اٹھایا جائے، سہ فریقی معاہدے کی یاد دہانی کرائی جائے جس میں انتقامی کارروائیوں سے گریز کا وعدہ تھا۔ مگر ہمارے دفتر خارجہ نے چند محتاط جملوں پر اکتفا کیا ’’یہ انسانی حقوق کا مسئلہ ہے‘‘، ’’ہمیں تشویش ہے‘‘۔ تشویش کا یہ لفظ شاید ہماری پوری خارجہ پالیسی کا استعارہ بن گیا تھا۔
اسی دوران دنیا کا دوہرا معیار بھی سامنے آیا۔ پاکستان میں اگر کسی دہشت گرد کو عدالتی تقاضے پورے کرکے سزا دی جاتی تو انسانی حقوق کے علمبردار شور مچا دیتے۔ مگر بنگلہ دیش میں متنازع ٹریبونلز کے ذریعے دی جانے والی سزاؤں پر عالمی ضمیر زیادہ بیدار نظر نہ آیا۔ OIC جیسی تنظیم بھی خاموش رہی۔ بھارت کھل کر شیخ حسینہ کی حکومت کے ساتھ کھڑا تھا اور پاکستان کو سفارتی سطح پر تنہا کرنے کی کوششیں جاری تھیں۔
یہ سب ماضی کا قصہ ہے زیادہ پرانا بھی نہیں۔
پھر وقت نے کروٹ لی۔ بنگلہ دیش میں طلبہ تحریک اٹھی۔ نوجوان سڑکوں پر نکلے۔ گولیوں کا سامنا کیا، جانوں کی قربانیاں دیں۔ بالآخر شیخ حسینہ کو اقتدار چھوڑنا پڑا۔ ایک نیا سیاسی منظرنامہ تشکیل پا رہا ہے۔ انتخابات اپنے آخری مراحل میں ہیں۔ جماعت اسلامی، طلبہ تنظیمیں اور دیگر جماعتوں کے اتحاد مقبولیت حاصل کر رہے ہیں، دوسری طرف بی این پی کا اتحاد ہے۔ بنگلہ دیش کی سیاست ایک نئے موڑ پر کھڑی ہے۔
اور اب دیکھیے اسلام آبادکا لہجہ بدل چکا ہے۔
وہی سیاسی جماعت جو ماضی میں محتاط خاموشی کی چادر اوڑھے بیٹھی تھی، آج بنگلہ دیش کے حالات پر خاصی متحرک دکھائی دیتی ہے۔ بیانات میں تیزی ہے، سفارتی رابطوں میں سرگرمی ہے، سیاسی تبصروں میں جوش ہے۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا اصول بدل گئے ہیں یا حالات؟ کیا ماضی میں مظلوموں کا درد کم تھا اور آج زیادہ ہوگیا ہے؟ یا پھر یہ سب بدلتے سیاسی مفادات کا کھیل ہے؟
خارجہ پالیسی اصولوں پر استوار ہوتی ہے، وقتی مصلحتوں پر نہیں۔ اگر بنگلہ دیش میں ہونے والی انتقامی کارروائیاں اْس وقت بھی ظلم تھیں اور یقیناً تھیں تو پھر ہماری آواز اتنی مدھم کیوں تھی؟ اگر سہ فریقی معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی تھی تو اسے عالمی سطح پر بھرپور انداز میں کیوں نہ اٹھایا گیا؟ اور اگر آج ہم بنگلہ دیش میں جمہوری عمل اور سیاسی مفاہمت کی بات کرتے ہیں تو کیا یہ مؤقف ماضی میں نہیں اپنایا جاسکتا تھا؟
تاریخ کا حافظہ کمزور نہیں ہوتا۔ وہ نوٹ کرتی ہے کہ کون کب بولا اور کون کب چپ رہا۔ مسئلہ صرف بنگلہ دیش کا نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ کیا ہم اصولوں کی سیاست کریں گے یا حالات کی؟ اگر ہم نے اس سوال کا دیانت دار جواب نہ ڈھونڈا تو کل کوئی اور محبِ وطن تختہ دار پر ہوگا اور ہم پھر کسی نئی مصلحت کے پیچھے چھپے ہوں گے۔