’’ دلی یا ڈھاکہ ؟ ڈھاکہ ، ڈھاکہ ‘‘ اور ’’ ہمی کے تمی کے ہادی ہادی‘‘ یہ نعرے ان دنوں بنگلہ دیش کے ہر گلی کوچے میں گونج رہے ہیں۔ بنگلہ دیش کے لاکھوں نوجوان سڑکوں پر نکل کر طلبہ تحریک کے انقلابی رہنما شریف عثمان ہادی کی شہادت پرسراپا احتجاج ہیں اور وہ مسلسل بھارت کیخلاف اپنے جذبات کا اظہار کررہے ہیں۔ بنگالی نوجوانوں کا ماننا ہے بھارت ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت بنگلہ دیش میں حالات خراب کر رہا ہے اور اس کا مقصد آئندہ انتخابات میں رکاوٹ ڈالنا ہے کیونکہ بھارت کو یقین ہے کہ ان انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونیوالی حکومت بھارت نواز نہیں ہو گی اور وہ اپنے فیصلے خود کرے گی۔ بھارت برس ہا برس سے بنگلہ دیش کے اندرونی حالات میں مداخلت کرتا رہا ہے اور وہ اسے اپنی ایک کالونی بنانے کا خواہاں رہا ہے لیکن بنگالی نوجوان اپنی اسلامی شناخت ہر ممکن حد تک برقرار رکھنے کے متمنی ہیں۔
گزشتہ برس بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ واجد کا تقریباً 16سالہ اقتدارکا سورج ڈوبا اور وہاں فوج نے ایک عبوری حکومت کے قیام کا اعلان کیا ۔ ملک میں ہفتوں جاری رہنے والے ہنگاموں کے بعد 5اگست 2024ء کو شیخ حسینہ واجد مستعفی ہو کر انڈیا فرار ہو گئیں اور ابھی تک وہیں مقیم ہیں۔ بنگلہ دیش میں5اگست سے قبل بہت سے لوگ شاید سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ برس ہا برس برسرِاقتدار رہنے والی وزیراعظم اس طرح ملک سے فرار ہوجائیں گی اور وزیراعظم بھی وہ جسے ایک دور میں لوگ ’خاتونِ آہن‘ کہا کرتے تھے۔اس میں اہل اقتدار کیلئے سبق ہے بقول شاعر
صبح کے تخت نشیں شام کو مجرم ٹھہرے
ہم نے پل بھر میں نصیبوں کو بدلتے دیکھا
شیخ حسینہ واجد نے اپنے طویل دورِ اقتدار میں مخالفین کو دبانے کا ہر حربہ استعمال کیا۔اس کا واضح جھکائو بھارت کی طرف تھا جو ملک کے کئی حلقوں کو پسند نہیں تھا، اس کے دورِ اقتدار میں جماعت اسلامی کے کئی بزرگ رہنمائوں کو پھانسی چڑھا دیا گیا، اپوزیشن جماعت بنگلہ دیش نیشلسٹ پارٹی ( بی این پی) کی رہنما خالدہ ضیاء پابندِ سلاسل رہیں۔ شیخ حسینہ واجد شاید سمجھ رہی تھی کہ شاید اب موت ہی اسے اقتدار سے علیحدہ کر سکتی ہے لیکن پھر ایک مزاحمتی تحریک کا آغاز ہوا۔ شیخ حسینہ واجد نے سرکاری ملازمتوں میں 1971ء کی جنگ میں لڑنے والوں کے خاندانوں کیلئے تیس فیصد کوٹہ کا اعلان کیاتو اس کیخلاف طلبہ نے احتجاجی تحریک کا آغاز کیا۔ حسینہ واجد نے کوٹہ سسٹم پر تنقید کرنے والوں پر طنز کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر سرکاری ملازمتوں میں آزادی کے لیے لڑنے والوں کے پوتے پوتیوں کو کوٹا نہیں دیا جائے گا تو کیا ’رضاکاروں‘ کے پوتے پوتیوں کو دیا جائے گا۔اس کے جواب میں طلبہ نے ’’تم کون ہم کون، رضا کار رضا کار‘‘ کا نعرہ لگایا اور بنگلادیش میں حسینہ واجد حکومت کا دھڑن تختہ کرنے والی طلبا تحریک میں یہ نعرہ مزاحمت کی علامت بنا رہا۔بنگالی طلبہ نے یہ نعرہ ایک طعنہ ’رضاکار رضاکار‘ حسینہ واجد کو مظاہروں کے دوران بھی خوب سنایا۔یہ حسینہ گورنمنٹ اور اسٹیبلشمنٹ کا مخالفین کیلئے ایک قومی طعنہ بھی سمجھا جاتا تھا مگر اسی سیاسی نعرے نے حسینہ واجد کو فارغ کر دیا ۔
بنگلہ دیش جو دسمبر 1971ء سے قبل پاکستان کا حصہ تھا اور اسے مشرقی پاکستان کہا جاتا تھا ۔ اب ایک نسل جوان ہو گئی اور ہماری نئی نسل کو شاید ہی معلوم ہو کہ اہل بنگال بھی ہمارے ملک کے باشندے تھے۔ تحریک پاکستان میں اہل بنگال نے نمایاں حصہ لیا۔ مسلم لیگ کا قیام بھی ڈھاکہ میں عمل میں آیا جبکہ 1940ء کی مشہور قرارداد پاکستان بھی ایک بنگالی رہنما مولوی اے کے فضل الحق نے پیش کی تھی۔ تحریک پاکستان ایک ایسی عوامی تحریک تھی جس میں مسلمانان برصغیر نے مسلکی، گروہی اور علاقائی تعصبات کو بالائے طاق رکھ کر آل انڈیا مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے بھرپور حصہ لیا۔ اس تحریک کے دوران ’’ پاکستان کا مطلب کیا… لا الٰہ الا اللہ ‘‘برصغیر کے گلی کوچوں میں گونجتا تھا۔ یہ نعرہ مسلمانوں کے جو ش وخروش میں کئی گنا اضافہ کردیتااور وہ پاکستان کی خاطر اپنا تن من دھن قربان کرنے کیلئے تیار ہو گئے۔ سب سے پہلے یہ نکتہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مسلمانوں کو الگ وطن کی ضرورت کیوں پیش آئی ؟ 1857ء کی جنگ آزادی میں ناکامی کے بعد انگریز حکومت نے مسلمانوں کو ہر شعبہ ہائے زندگی میں پیچھے کی طرف دھکیل دیا۔ چونکہ انگریزوں نے اقتدار مسلمانوں سے چھینا تھا اس لیے ان کے زیر عتاب زیادہ تر مسلمان ہی تھے۔ ان حالات سے چھٹکارا پانے کیلئے مسلمانوں نے متعدد تحریکیں چلائیں ۔ 1906ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام عمل میں آیا ، قائداعظم پہلے پہل ہندومسلم اتحاد کے سفیر قرار دیئے گئے لیکن ہندو ذہنیت کو قریب سے دیکھنے پر انہیں یقین ہو گیا کہ یہ دونوں قومیں کبھی اکٹھے نہیں رہ سکتی ہیں ۔ 1940ء کے تاریخی جلسہ میں آپ نے خطاب کرتے ہوئے کہا ’’ لفظ’قوم‘ کی تعریف کسی طرح بھی کی جائے مسلما ن ہر لحاظ سے ایک قوم ہیں جن کو ایک وطن، ایک سرزمین، ایک ریاست ملنی چاہئے۔‘‘ 17ستمبر 1944ء کو قائداعظم نے کہا ’’ آپ کسی بھی کسوٹی پر پرکھیں ، ہندو اور مسلمان (برصغیر کی) دو بڑی اقوام ہیں ۔ ہم دس کروڑ پر مشتمل ایک قوم ہیں جس کی اپنی جداگانہ ثقافت ہے، تہذیب وتمدن ہے، زبان و ادب ہے، فنونِ لطیفہ اور طرزِ تعمیر ہے ۔ ہمارے نام بھی مختلف ہیںاور نام دینے کی وجوہات بھی دوسریاقوام سے الگ ہیں۔ مسلمانوں کی اپنی اقدار ہیں اور موزوں یا غیر موزوں کا مخصوص احساس ہے ، اپنے قوانین اور اخلاقیات ہیں، اپنے رسم و رواج ہیں اور اپنی تقویم ہے۔ ہماری تاریخ اور روایات ، ہمارے رویے اور خواہشات، مختصر یہ کہ زندگی کا اور زندگی کے بارے میں ہمارا نقطہ نظر دوسروں سے ممتاز کیا جا سکتا ہے۔ بین الاقوامی قانون کی ہر شق کے حوالے سے ہم ’’قوم‘‘ کی تعریف پر پورا اترتے ہیں۔‘‘
پاکستان دوقومی نظریہ کی بنیاد پر ہی معرض وجود میں آیا تھا۔ دسمبر 1971ء میں مشرقی پاکستان ہم سے الگ ہو کر بنگلہ دیش بن گیا تو بھارتی وزیراعظم اندراگاندھی نے کہا تھا ’’ہم نے دوقومی نظریہ آج خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہے‘‘ ۔ بنگلہ دیش سے شیخ حسینہ واجد کا اقتدار سے الگ ہوکر بھارت فرار ہو جانا اور آج بنگلہ دیش میں لگنے والے یہ نعرے ’’ دلی یا ڈھاکہ ؟ ڈھاکہ ، ڈھاکہ ‘‘ اور ’’ ہمی کے تمی کے ہادی ہادی‘‘ اس امر کی دلیل ہے کہ دوقومی نظریہ آج بھی زندہ ہے اور بنگلہ دیش میں جیت دراصل دوقومی نظریہ کی ہی ہوئی ہے اور یہ بات وقت ثابت کرے گا۔