اسلام آباد پولیس نے کم و بیش ہر علاقے میں ایک دعا خانہ قائم کیا ہے۔ آپ چوری، ڈاکے، حادثے یا کسی بھی نقصان کی صورت میں وہاں سے دعائیں لے سکتے ہیں۔ علم الاعداد کی مدد سے پولیس نے حساب کتاب لگا کر کچھ نمبر فراہم کیے ہیں۔ مثلاً دل کو سکون پہنچانے کے لیے آپ 15 کا ورد کر سکتے ہیں اور گلے شکوے کے لیے 1715 ملا سکتے ہیں۔ علاؤہ ازیں ہر دعا خانے کا الگ سے نمبر بھی فراہم کیا جاتا ہے۔ آپ ان نمبروں پر ہیلو ہائے کر کے دل کا غبار نکال سکتے ہیں پرانے زخموں پر مرہم لگا سکتے ہیں اور خدا کو یاد کر سکتے ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ پولیس کے دعا خانوں میں عنقریب تربیت یافتہ ملنگ بھی بھرتی کیے جائیں گے۔ یہ ملنگ ہمیں رہبانیت کی روش پر یونانی فلسفی ڈائیوجنیز سے ملا دیں گے اور منصور حلاج کے انجام سے قریب تر کرنے میں بھی معاونت کریں گے۔ مزید یہ کہ گھریلو ٹوٹکوں، چلوں اور مراقبوں سے گمشدہ چیزوں کی تلاش اور چوروں ڈاکوؤں کی زیارت کے نایاب نسخے بھی آسانی سے فراہم کریں گے۔
یہ صاحبان آپ کا نقصان ہونے کی صورت میں اس میں پوشیدہ حکمت بتائیں گے اور دنیاوی دولت سے بیزاری اختیار کرنے کی تاکید کے ساتھ آپ کو مطمئن کر کے گھر بھیج دیا کریں گے۔ خاکسار کو اسلام آباد پولیس کے اس روحانی مقام و مرتبے کا اندازہ نہیں تھا۔ اس معرفت کے حصول کے لیے خاکسار نے اپنی گاڑی کھنہ پل کے قریب موجود ایک ہوٹل کے سامنے کھڑی کی۔ اچانک موت کے کنویں کے مقابلے کے دو کامیاب ڈرائیور سرکس سے سیدھا ادھر کو آ نکلے۔ سروس روڈ پر اتنی بھیڑ میں رفتار صرف 100 کے قریب ہو گی۔ تیز میوزک پر گاڑی سے ذرا سا ٹھمکا لگایا اور بے قابو ہوتے ہوئے ہماری سائیڈ پر کھڑی گاڑی سے بغلگیر ہو گئے۔ ملنسار لوگوں نے ایک ہی گاڑی سے سلام دعا کافی خیال نہ کی بلکہ دو چار اور کو ٹکریں مارتے ہوئے ڈھول کی تھاپ پر اچھل کود کے ساتھ نکلنے لگے۔ اسی دوران ایک شخص کی ٹانگ زخمی ہو گئی۔خاکسار نے گاڑی کا تعاقب کیا اور اسے روکنے کی کوشش کی تا کہ ڈاکو بھائیوں سے چائے پانی پوچھا جا سکے لیکن گاڑی کے اندر جھانکنے سے معلوم ہوا کہ یہ بازی گر چائے سے شغف نہیں رکھتے۔ گاڑی میں موجود 5 بازیگروں نے گلاس، شراب کی بوتلیں اور اسلحہ نہایت شرافت سے پکڑا ہوا تھا۔ خاکسار نے گاڑی کا نمبر نوٹ کیا، موقع پر کچھ تصاویر لیں اور اسلام آباد پولیس کے دعائیہ نمبر 15 پر کال کی۔ انھوں نے بڑی دعائیں دیں۔ پھر کھنہ پولیس دعائیہ مرکز کا نمبر نوٹ کرایا تاکہ میں خیر و برکت حاصل کیے بغیر گھر نہ لوٹ جاؤں۔ میں نے دو چار بار ان سے بھی دعائیں وصول کیں اور 15 پر بھی ان دعاؤں کا فیض واپس پہنچاتا گیا۔ 15 والوں نے مزید دعاؤں کے حصول کے لیے 1715 کی درگاہ کا نمبر دیا۔ خاکسار نے نہایت خوبصورت آواز کی حامل خاتون سے بات کی جنھوں نے عطاللہ عیسیٰ خیلوی کی آواز سے درد کشید کرتے ہوئے تسلی دی اور گزرے ہوئے زمانے کی مانند کبھی رابطہ نہیں کیا۔ اب ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم نیکیوں میں اضافے کے لیے اور رہبانیت اختیار کرنے کی غرض سے ایک بار کھنہ پولیس دعائیہ سٹیشن ضرور جاتے ہیں۔ وہاں کے سب انسپکٹر صاحب بڑے کنجوس ثابت ہوئے۔ موصوف نے کہا کہ یہی روداد ہمیں کل آ کر بتانا ہم پھر دعائیں دیں گے۔ مجھے فوراً پی۔کے فلم کا تپسوی مہاراج یاد آ گیا جو مریضوں کی عرضی سننے کے بعد کڑی تپسیا کرا کر وہی عرضی دوبارہ سنا کرتا تھا۔ دعا خانے میں درخواست دینے والوں میں دو وکیل صاحبان بھی موجود تھے جن میں سے ایک نے اپنا کارڈ/لائسنس نکال کر دکھایا۔ دیکھتے ہی موصوف سے تھانیدار نے " تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر" کے مصداق سلوک کیا۔ خاکسار کو گمان گزرا کہ اسلام آباد کے وکیلوں نے درویشی اختیار کر لی ہے۔ مجھے خیال آیا کہ درویش وکلا حضرات کو اس کی بجائے صحت کارڈ رکھنا چاہیے۔ وہ دکھانے کی صورت میں مریض کی نہ صرف بات سنی جاتی ہے بلکہ فوراً مدد بھی فراہم کی جاتی ہے۔
بہر حال ہم امید کرتے ہیں کہ سرکس جیپ ریلی کے معصوم اسلحہ بردار ڈرائیور مرزا غالب کے جام کے گھونٹ حلق میں انڈیل انڈیل کر اسلام آباد کی سڑکوں پر سلطان راہی صاحب کی فلموں کے سٹنٹ کرتے پھرتے رہے ہوں گے۔ مذکورہ تجربے سے یہ اندازہ ہوتا ہے ملک بھر کے بوتل بردار سیاح اور شریف ڈاکو حضرات نیلی پیلی پستول کے ساتھ اسلام آباد کی سڑکوں پر طبع آزمائی کے لیے آ سکتے ہیں۔ اس خوش گوار واقعے کے بعد ہم اسلام آباد پولیس کی دعاؤں سے محبت میں کامیابی، امتحان میں کامیابی، محبوب آپ کے قدموں میں اور خفیہ امراض کے علاج کی دعائیں وصول کر کے ہنسی خوشی زندگی بسر کرنے لگے۔