Wed, September 16, 2026

آزاد کشمیر صدارتی انتخاب: ایوانِ صدر میں سیاسی بساط بچھ گئی؛ پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں ٹھن گئی

آزاد کشمیر صدارتی انتخاب: ایوانِ صدر میں سیاسی بساط بچھ گئی؛ پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں ٹھن گئی

اسلام آباد: آزاد کشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود کے انتقال کے بعد ریاست کے نئے سربراہ کے انتخاب کے لیے اسلام آباد اور مظفر آباد کے سیاسی ایوانوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔ صدرِ مملکت آصف علی زرداری کی زیرِ صدارت آج شام ہونے والا اجلاس آزاد کشمیر کی مستقبل کی سیاست کا رخ متعین کرے گا۔
پیپلز پارٹی اس وقت آزاد کشمیر میں برسرِ اقتدار ہے اور اسے ایوان میں سادہ اکثریت (27 ووٹ) حاصل ہونے کا پورا یقین ہے۔ وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور کی صدر زرداری سے ملاقات کے بعد اب پارلیمانی پارٹی کا اجلاس امیدوار کے نام پر مہر لگائے گا۔
 چوہدری لطیف اکبر (قائم مقام صدر) اور چوہدری یاسین اس ریس میں سب سے آگے بتائے جاتے ہیں۔
مسلم لیگ ن نے پیپلز پارٹی کے لیے صدارتی میدان خالی نہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ راجہ فاروق حیدر کے حالیہ بیانات سے ن لیگ کی دوٹوک حکمت عملی واضح ہوتی ہے۔ ن لیگ کا دعویٰ ہے کہ پیپلز پارٹی کے پاس مطلوبہ نمبرز موجود نہیں ہیں۔ سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ ن لیگ کی کوشش ہے کہ صدارتی انتخاب کو نئی اسمبلی کے قیام تک لٹکایا جائے۔ اس مقصد کے لیے چیف الیکشن کمشنر کی عدم تعیناتی کو ایک ڈھال کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔اس تمام تر سیاسی رسہ کشی میں سب سے بڑا مسئلہ چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کا ہے۔

ٹیگز: