اسلام آباد:وفاق میں برسرِاقتدار دو بڑی سیاسی جماعتوں، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے اب آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے سیاسی میدان میں بھی ایک ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری کی حالیہ ملاقات کی تفصیلی اندرونی کہانی منظرِ عام پر آگئی ہے۔ذرائع کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے آزاد جموں و کشمیر (AJK) اور گلگت بلتستان (GB) کے آئندہ انتخابات میں متحدہ محاذ بنانے پر اتفاق کیا ہے۔
ملاقات میں اس بات پر غور کیا گیا کہ دونوں جماعتیں مخصوص نشستوں پر ایک دوسرے کے خلاف امیدوار کھڑے کرنے کے بجائے 'سیٹ ایڈجسٹمنٹ' کریں گی تاکہ مخالف قوتوں کا راستہ روکا جا سکے۔انتخابات کے بعد دونوں خطوں میں وفاق کی طرز پر اتحادی حکومتیں قائم کرنے کے فارمولے پر بھی ابتدائی مشاورت مکمل کر لی گئی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ درج ذیل وجوہات کی بنا پر کیا گیا ہے۔ وفاق میں جاری تعاون کو علاقائی سطح تک پھیلانا تاکہ پالیسیوں میں یکسوئی رہے۔ آزاد کشمیر اور جی بی میں اپوزیشن کی طاقت کو کم کرنے کے لیے دونوں جماعتوں کا اتحاد ایک اہم ضرورت بن چکا ہے۔ ملاقات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ مل کر حکومت بنانے سے ان علاقوں کے اہم منصوبوں کو تیزی سے مکمل کیا جا سکے گا۔