اسلام آباد: وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ حکومت کے پاس 27ویں آئینی ترمیم کے لیے مطلوبہ ارکان کی تعداد مکمل ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ یہ ترمیم مشاورت کے ذریعے ہی منظور ہو۔ ایک میڈیا بریفنگ میں انہوں نے بتایا کہ آئینی ترمیم کی تمام شقوں پر اتفاق نہیں ہو سکا اور مزید بات چیت کی ضرورت ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ معروف سیاستدان اور سابق جج عرفان صدیقی بیماری کے باعث اس اجلاس میں شریک نہیں ہو سکے، تاہم ان کی امید ہے کہ سینیٹ آج ہی اس ترمیم کو منظور کر لے گی۔وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ اگر عوام کے مفاد میں کوئی نئی تجویز سامنے آئی تو حکومت اس پر غور کرے گی اور ضروری اقدامات کرے گی۔
افغانستان کے بارے میں بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ مذاکرات کامیاب نہیں ہو سکے اور افغانستان کے ساتھ کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کابل حکومت کا پورے ملک پر کنٹرول نہیں اور دہشتگردوں نے مختلف علاقوں میں پناہ گاہیں بنا رکھی ہیں۔
خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ اگر افغان سرزمین سے دہشتگردی کے واقعات جاری رہے تو پاکستان اس کا جواب دینے سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں دہشتگردوں کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا۔
طالبان کے حوالے سے خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کا طالبان حکومت کے ساتھ کوئی اعتماد کا رشتہ نہیں ہے۔ بھارت کے بارے میں وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات ویسے ہی ہیں جیسے جنگ کے دوران ہوتے ہیں۔