Wed, September 16, 2026

روس نے درمیانے اور کم فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی پابندی والے معاہدے سے باہر نکلنے کا اعلان کر دیا

روس نے درمیانے اور کم فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی پابندی والے معاہدے سے باہر نکلنے کا اعلان کر دیا

ماسکو : روس نے زمین سے مار کرنے والے درمیانے اور کم فاصلے تک پہنچنے والے میزائلوں کی تعیناتی پر پابندی کے عالمی معاہدے سے دستبرداری کا اعلان کیا ہے۔ روسی قومی سلامتی کے مشیر دمتری میدیدوف نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ نیٹو کی روس مخالف پالیسی کی وجہ سے لیا گیا ہے۔

روسی وزارت خارجہ نے بتایا کہ انہوں نے امریکی حکومت کو کئی بار خبردار کیا تھا کہ یورپ، ایشیا اور بحرالکاہل میں ایسے میزائل تعینات نہ کیے جائیں، لیکن ان وارننگز کو نظر انداز کیا گیا۔ روس کا کہنا ہے کہ نیٹو کی طرف سے معاہدے کی پاسداری کے لیے کوئی واضح یقین دہانی نہیں دی گئی، اس لیے وہ بھی اس معاہدے سے نکل رہا ہے۔

یہ معاہدہ ان میزائلوں کی تیاری اور تعیناتی پر پابندی لگاتا ہے جن کی حد فاصل 500 کلومیٹر سے 5500 کلومیٹر تک ہوتی ہے۔ روس کا الزام ہے کہ مغربی ممالک روس کے قریب علاقوں میں ایسے میزائل لگا رہے ہیں، جس سے روس کو شدید خطرہ ہے۔

روسی صدر ولادیمر پوٹن نے بھی گزشتہ سال عالمی سلامتی کونسل کو بتایا تھا کہ امریکہ نے ایسے میزائل بنائے ہیں اور انہیں مشقوں کے لیے ڈنمارک اور فلپائن بھی لے جایا گیا ہے، جنہیں واپس لانے کے حوالے سے کچھ واضح نہیں ہے۔ روس کی یہ دستبرداری عالمی سلامتی کے لیے تشویش کا باعث بن سکتی ہے اور جوہری ہتھیاروں کی دوڑ کو بڑھا سکتی ہے۔

ٹیگز: