Wed, September 16, 2026

بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات، سیکیورٹی فورسز کا بھرپور جواب، 54 دہشت گرد ہلاک: ڈی جی آئی ایس پی آر

بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات، سیکیورٹی فورسز کا بھرپور جواب، 54 دہشت گرد ہلاک: ڈی جی آئی ایس پی آر

راولپنڈی: ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بلوچستان کی سیکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ فتنہ الخوارج کے دہشت گرد معصوم شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنا رہے ہیں، تاہم سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند روز کے دوران بلوچستان میں دہشت گردی کے تین بڑے واقعات پیش آئے، جن کے جواب میں سیکیورٹی فورسز نے مؤثر کارروائیاں کرتے ہوئے 54 دہشت گردوں کو ہلاک کیا، جبکہ ملک کے دفاع میں 42 جوان شہید ہوئے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ دہشت گردوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، یہ عناصر بزدلانہ کارروائیوں کے ذریعے خوف پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن ریاست کو کوئی طاقت مرعوب نہیں کر سکتی۔ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو ہر صورت انجام تک پہنچایا جائے گا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے زیارت میں پولیس چیک پوسٹ پر حملے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں نے مختلف اطراف سے حملہ کیا، جس کا پولیس اہلکاروں نے بہادری سے مقابلہ کیا۔ کارروائی کے دوران 15 دہشت گرد ہلاک ہوئے، جبکہ 9 پولیس اہلکار شہید ہوئے۔

انہوں نے بتایا کہ پاک فوج اور رینجرز کے دستے اطلاع ملتے ہی موقع پر پہنچے اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائی شروع کی، جس کے دوران مزید دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف گھیرا مزید تنگ کر دیا گیا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بلوچستان پر حملوں کے پیچھے دشمن قوتیں ہیں، کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ بلوچستان پاکستان کی آن اور شان ہے۔ دشمن عناصر صوبے کے امن اور ترقی کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، تاہم ان کے عزائم کامیاب نہیں ہوں گے۔

انہوں نے کراچی میں رینجرز چیک پوسٹ حملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چار حملہ آوروں میں سے تین افغان شہری تھے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا افغانستان کو پاکستان کے استحکام سے مسئلہ ہے؟

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز ملک کے دفاع اور عوام کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں، دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں بلاامتیاز جاری رہیں گی۔

ٹیگز: