اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی کے فلور پر بلوچستان کی صورتحال کا کچا چٹھا کھولتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں جاری حالیہ بے چینی کا براہِ راست تعلق اسمگلنگ کے خلاف ہونے والے کریک ڈاؤن سے ہے۔
قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران خواجہ آصف نے انکشاف کیا کہ بلوچستان میں یومیہ 4 ارب روپے کی غیر قانونی اسمگلنگ ہو رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی تیل کی اسمگلنگ نے بیوروکریسی اور جرائم پیشہ افراد کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر دیا ہے، اور اب جب ریاست نے اس نیٹ ورک پر ضرب لگائی ہے تو احتجاج کی صورت میں ردعمل دیا جا رہا ہے۔خواجہ آصف نے کہاکہ سمگلنگ روکنے سے ان کی 'دم پر پاؤں' آیا ہے، اسی لیے اب احتجاج کے ذریعے دباؤ بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ یہ کالا دھندہ دوبارہ بحال ہو سکے۔
وزیر دفاع نے بلوچستان میں سیکیورٹی کی سنگین صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں بھارت کی مالی اور عسکری مدد سے چلنے والی پراکسیز ریاست کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ افغانستان کی سرزمین اب بھی پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے بیس کیمپ کے طور پر استعمال ہو رہی ہے، جہاں سے دہشت گردوں کو مکمل مدد مل رہی ہے۔
خواجہ آصف نے سخت لہجہ اپناتے ہوئے کہا کہ اب جرائم پیشہ عناصر کے پاس چھپنے کے لیے "سیاسی یا قوم پرستی" کا کوئی جواز باقی نہیں رہا۔ ان کا لبادہ چاک ہو چکا ہے اور حکومت کسی بھی قیمت پر ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والوں اور اسمگلنگ مافیا کے سامنے نہیں جھکے گی۔