پاکستان کی جنگی حکمت عملی اپنا آپ دکھا رہی ہے، ہماری اپروچ اب سے نہیں شروع سے ہی دفاعی رہی ہے۔ ہم نے اپنے ازلی دشمن بھارت کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمیشہ دفاعی حکمت عملی اختیار کی ہے۔ ہم پرامن بقائے باہمی کے پرچارک بھی ہیں اور اس پر عملاً بڑی سختی سے عمل پیرا بھی ہیں، ہماری فوجی نفری، بجٹ میں دفاعی اخراجات و دیگر حربی معاملات کو بھارت کے مقابلے میں ایک خاص تناسب سے برقرار رکھتے ہیں۔ ہم نے حتمی ہتھیار نیوکلیئر ٹیکنالوجی بھی بھارت کو دیکھ کر حاصل کی ہے۔ بھارت نے ہمیں اس طرف جانے پر مجبور کیا پھر بھارتی ایٹمی دھماکوں کے جواب میں ہم نے ایٹمی دھماکے کئے۔ ہم این پی ٹی پر بھی دستخط کرنے کے لئے تیار ہیں۔ اگر بھارت ایسا کرے ہم ایٹم بم پہلے نہ چلانے کا وعدہ کرنے کے لئے بھی تیار ہیں اگر بھارت اس پر رضامندی ظاہر کرے، ہم تخفیف اسلحہ کے لئے بھی تیار ہو جائیں گے۔ اگر بھارت ایسا کرنے کے لئے تیار ہو جائے۔ اسلحہ و فوج پر اتنی زیادہ رقم خرچ کرنا کسی طور بھی ہمارے لئے قابل ستائش پالیسی نہیں ہے ویسے ہندوستان کے لئے بھی یہ مناسب نہیں ہے۔ بھارت آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔ اس کی آبادی چین سے بڑھ چکی ہے لیکن وہاں کروڑوں انسانوں کو پینے کا پانی میسر نہیں ہے۔ کروڑوں انسان کھلے عام سڑکوں پر رفع حاجت کرنے پر مجبور ہیں کیونکہ انہیں بیت الخلا میسر نہیں ہیں۔ کروڑوں انسانوں کو چھت میسر نہیں ہے۔ وہ سڑکوں، فٹ پاتھوں اور ایسی ہی جگہوں پر رات گزارنے پر مجبور ہیں۔ ایسی صورتحال میں بھارت کا جنگی جنون اسے تباہی کی طرف لے جا رہا ہے۔ بھارت کی طرف سے پاکستان کو حالت جنگ کا شکار کرنا اور اس پر جنگ مسلط کرنا بھارت کی پاکستان دشمنی اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کا اظہار ہے۔ اس وقت ہندوستان پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور ایسی ہی ہندو قوم پرست پارٹیوں کی حکومت قائم ہے۔ ویسے تو قوم پرستی کوئی بری بات نہیں لیکن بھارتی قوم پرستی مسلح دشمنی کے افکار اور نظریات پر قائم ہے جس نے بھارت میں بسنے والے 26کروڑ مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کر رکھا ہے۔ ایسی ہی قوم پرستی پاکستان دشمنی کی بنیاد ہے جس پر کئی جنگیں ہو چکی ہیں۔ ہندو قوم پرستی اور مسلم دشمنی نے بھارتی ایٹم بم تخلیق کیا ہے اور اسی قوم پرستی نے وادی کشمیر کو جو جنت ارضی ہے جہنم زار بنا دیا ہے۔ اب بھارت کی ایسی ہی سوچ اور عمل کے نتیجے میں خطے میں ایک ایٹمی جنگ کی گونج سنائی دینے لگی ہے۔ بھارت نے پہلگام سانحے کو بنیاد بنا کر پاکستان پر جنگ مسلط کر دی ہے۔ پاکستان نے ممکنہ جارحیت سے نمٹنے کی تیاری کر لی ہے۔ ہماری بری، بحری اور ہوائی افواج دفاعی جنگی پوزیشن اختیار کر چکی ہیں۔ ہم جنگ نہیں چاہتے لیکن جنگ ہماری مجبوری بن گئی ہے۔ ہم تیار ہیں، دشمن کو کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ اور دندان شکن جواب دینے کے لئے مکمل طور پر تیار ہیں۔ آزمائش شرط ہے۔
ہماری معیشت جنگ کا بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں ہے۔ ہم آئی ایم ایف کے سہ ماہی جائزوں کے مثبت جواب کے سہارے چل رہے ہیں۔ آئی ایم ایف کی ٹیم ہماری معاشی کارکردگی کا ہر تین ماہ بعد جائزہ لینے آتی ہے۔ دیکھتی ہے کہ ہم نے قرض لیتے وقت جن اقدامات کا ان سے وعدہ کیا تھا جن شرائط پر دستخط کئے تھے کیا ان پر عملدرآمد ہوا یا ہو رہا ہے۔ کچھ شرائط پر اگر عملدرآمد نہیں ہوا تو اس کی وجوہات کیا ہیں۔ ہم پھر منت ترلا کرتے ہیں نیا وعدہ کرتے ہیں۔ فنڈ کی ٹیم کو مناتے ہیں۔ وہ جائزہ رپورٹ میں YESلکھتے ہیں تو ہمیں قرض کی اگلی قسط ملتی ہے۔ ہم لڈیاں ڈالتے ہیں، خوشیاں مناتے ہیں اور ہمارے حکمران اعلان کرتے ہیں کہ معاملات درست سمت میں جا رہے ہیں۔ معیشت پھل پھول رہی ہے۔ راوی سب چین لکھنے لگنا ہے کہ شیر بکری ایک گھاٹ پانی پی رہے ہیں۔ ہم یہ ڈرامہ ایک عرصے سے دیکھ رہے ہیں۔ ایک طویل ڈرامہ 1971ءمیں سقوط ڈھاکہ کے ساتھ ختم ہو گیا تھا۔ ہماری بے اعتدالیوں، کہہ مکرنیوں، نافرمانیوں کا نتیجہ 24سال میں ایک عظیم مملکت کے دولخت ہونے کی شکل میں ہمارے سامنے آیا تھا۔ کلمہ طیبہ کے نام پر حاصل کی جانے والی اس وقت کی سب سے بڑی اسلامی ریاست دولخت ہو گئی تھی۔ یہ ہمارے بداعمالوں کا نتیجہ تھا۔ پھر نصف صدی سے ایسا ہی کھیل باقی ماندہ پاکستان میں کھیلا جا رہا ہے۔ نصف صدی گزرنے کو ہے، ہم دائروں میں چل رہے ہیں، ہم ایٹمی طاقت بن چکے ہیں۔ ہمارا دفاع کسی نہ کسی حد تک ناقابل تسخیر ہے لیکن دشمن نے ہمیں داخلی طور پر فکری و عملی میدان میں تار تار کر دیا ہے۔ لہولہان کر دیا ہے۔ ہم نظری اور فکری طور پر اپنی راہیں گم کر چکے ہیں۔ بطور قوم ہماری منزل کوئی نہیں ہے۔ ہماری نوجوان نسل گمراہی کا شکار ہو چکی ہے۔ عمران خان نے اس نسل کو متاثر کیا ہے، گمراہ کیا ہے۔ سوشل میڈیا کے موثر استعمال کے ذریعے فکری آوارگی کو فروغ دیا ہے۔ اس فکری انتشار کو ہمارے دشمنوں نے خوب ہوا دی ہے۔ اداروں کے خلاف باقاعدہ محاذ آرائی کی جا رہی ہے۔ 1979ءمیں اشتراکی افواج کے افغانستان پر حملے کے بعد سے اب تک پاکستان عالمی محاذ آرائی میں ہراول کے طور پر، فرنٹ لائن ریاست کے طور پر شریک جنگ ہے۔ یہ جنگ ویسے تو اشتراکیوں، امریکیوں اور اس کے اتحادیوں کی افغانوں کے خلاف تھی لیکن یہ جنگ پھیلتے پھیلتے پاکستان کے قبائلی علاقوں سے ہوتی ہوئی بندوبستی علاقوں سے گزر کر کراچی کے ساحلوں تک جا پہنچی ہے۔ اشتراکی فوجیں واپس جا چکی ہیں۔ امریکی و اتحادی افواج بھی واپس جا چکی ہیں۔ افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہو چکی ہے وہ اپنا مستقبل بنانے و سنوارنے میں لگے ہوئے ہیں لیکن ہم ابھی تک دہشت و وحشت کی جنگ میں جھلس رہے ہیں۔ ہماری معیشت کمزور ہے۔ قرضوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے، معیشت کا حجم بڑھا ہے لیکن اس میں بڑھوتی بڑی نہیں ہے۔ عامتہ الناس کا حال انتہائی مایوس کن ہے۔ مستقبل کے بارے میں انہیں قطعاً یقین نہیں ہے۔ ہمارے ادارے تباہی و بربادی کا سماں پیش کر رہے ہیں۔ پانی، بجلی اور گیس کے ساتھ ساتھ عام استعمال کی اشیاءکی دستیابی یقینی نہیں ہے۔ پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہے۔ بجلی و گیس انتہائی مہنگی ہونے کے باوجود دستیاب نہیں ہے۔ عوامی خدمات مہیا کرنے کے لئے قائم کردہ سرکاری ادارے مکمل طور پر ناکام ہیں، عوام کے ٹیکسوں پر پلنے والے اہلکار کسی قسم کے احتساب سے بالاتر ہیں۔ ہمارے باہر سے درآمد شدہ وزیر خزانہ کا حالیہ بیان کہ ”اداروں میں اصلاحات کر لیں تو یہ آئی ایم ایف کا آخری پروگرام ہوگا“ (بحوالہ روزنامہ پاکستان یکم مئی 2015ئ، صفحہ اوّل) سنہری حروف میں لکھے جانے کے قابل ہے کیونکہ انہیں پتہ ہے کہ ادارہ جاتی اصلاحات تو قیامت تک ہونے والی نہیں ہیں۔ اس لئے نہ نو من تیل ہوگا اور نہ ہی رادھا ناچے گی۔ ہم نے دس بارہ سال پہلے بڑے طمطراق سے گورننس سسٹم کی اصلاحات کا ڈول ڈالا۔ ڈاکٹر عشرت حسین نے بڑی عرق ریزی سے کام کیا۔ اس کام کے لئے نوازشریف حکومت کریڈٹ بھی لیتی رہی پھر رپورٹ تیار ہوئی، لائحہ عمل تجویز ہوا، لیکن کچھ بھی نہیں ہوا۔ ہمارا نظم حکمرانی ویسے کا ویسے ہی رہا، ویسا ہی سڑا ہوا، بدبودار، عوام دشمن ہمارے وزیراعلیٰ شہبازشریف نے ٹی ویٹ سیکٹر کی اصلاح کا بیڑا اٹھایا ایک امریکی کمپنی میکتری کو لاکھوں ڈالر کی ادائیگی بھی کی گئی۔ اس نے بڑی عرق ریزی سے، پیشہ ورانہ انداز میں تحقیقات کرکے رپورٹ تیار کی۔ بہتری کا لائحہ عمل تجویز کیا لیکن ہمارے حکمرانوں نے عملاً کچھ نہیں کیا۔ وہ رپورٹ انڈسٹری ڈیپارٹمنٹ کے سیکرٹری کے کمرے میں پڑی ہوئی ہے۔ ادارہ جاتی اصلاحات کے لئے جس عزم صمیم اور سیاسی آمادگی کی ضرورت ہوتی ہے وہ ہمارے ہاں کہیں بھی نہیں پائی جاتی ہے۔ ہمارے سیاست دان کرپٹ بھی ہیں اور نااہل بھی جبکہ ہماری بیوروکریسی و سرکاری اہلکار کرپٹ اور نااہل ہی نہیں ہیں بلکہ بدنیت بھی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وسائل ہونے کے باوجود عوام کو معمولی سی سہولیات بھی دستیاب نہیں ہیں۔ ان سے بالواسطہ ٹیکس جس طرح لئے جا رہے ہیں اگر کوئی اور ملک ہوتا تو حکومت کا حکمرانوں قلع قمع ہو چکا ہوتا لیکن ہمارے ہاں پتہ نہیں کس کس نام پر ٹیکس وصول کئے جا رہے ہیں۔ اس کے باوجود عوامی خدمات میسر نہیں ہیں۔ اللہ ہی خیر کرے گا۔