Thu, September 17, 2026

مریم نواز، ہوشیار، خبردار

 مریم نواز، ہوشیار، خبردار

چولستان نہر کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس تک مؤخر ہونا بادی النظر میں تو پیپلز پارٹی کی بڑی کامیابی سمجھی جاسکتی ہے لیکن درحقیقت یہ سندھ کی قوم پرست جماعتوں کی پیدا شدہ صورتحال کا نتیجہ ہے جن کی جانب سے سڑکوں کی بندش کے باعث خلق خدا سخت پریشان اور شدید ذہنی اذیت کا شکار ہوگئی تھی۔ لوگوں کو تکلیف پہنچا کر اپنا ذاتی و سیاسی مفاد حاصل کرنا گھٹیا ترین ظالمانہ فعل ہے۔ ابھی چولستان نہر بنی ہے نہ اس میں سندھ کا پانی چھوڑا گیا ہے محض خدشات کو بہانہ بنا کر ہنگامہ برپا کردینا انتہائی قابل مذمت ہے۔ کسی کے ساتھ انفرادی طورپر یا احتجاعی طورپر حق تلفی ہوئی۔ نا انصافی ہوئی اس پر احتجاج کا آئینی و قانونی حق حاصل ہے لیکن اپنے ساتھ نا انصافی کاازالہ کرنے کیلئے بے قصور لوگوں کو تکلیف پہنچانا اس سے بڑی نا انصافی ہے۔ 
کیا تعجب نہ ہونا چاہیے اگر یہ کہا جائے کہ نہریں پیپلز پارٹی کا مسئلہ ہے نہ قوم پرستوں کا دکھ ہے دونوں کے اس سے ہٹ کر سیاسی مقاصد ہیں ان سیاسی مقاصد کی نشاندہی پیپلز پارٹی کے زبردست حامی جن دانشور نے کی ، نام لیا جائے تو پیپلز پارٹی کی صفوں میں حیرت کی آندھی آجائے گی۔ ان کے بقول گزشتہ انتخابات میں عبرت ناک شکست کے بعد جی ڈی اے کے نام سے اکٹھے ہونے والے قوم پرست سندھی عوام کی حق تلفی کا نعرہ لگا کر پیپلزپارٹی سے سیاسی سپیس حاصل کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں یعنی سند ھ کے لوگوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کہ پیپلزپارٹی ان کے حقوق کا تحفظ نہیں کر رہی خود کو اس کا بہترمحافظ ثابت کرکے سیاسی میدان میں کامیاب پیش رفت کی راہ ہموار کی جائے۔ ادھر اپنی سیاسی ساکھ بچانے کیلئے پیپلز پارٹی کو اس سلسلے میں آواز زیادہ بلند کرنا پڑ رہی ہے۔ تاہم اس دعویٰ یا انکشاف میں وزن لگتا ہے کہ پیپلز پارٹی نے قوم پرستوں کی اس مہم کو یرغمال بنا لیا ہے اور اب وہ اسے پنجاب میں سپیس کی دیرینہ خواہش و مطالبہ کی تکمیل کا ذریعہ بنائے گی۔ قدرے تعجب سے سوال کیا وہ کیسے؟ جواب ملا، اول مشترکہ مفادات کونسل کے اجلا س میں مجوزہ نہر کے ’ری ڈیزائن‘ پراتفاق کر کے معاملہ نمٹادیا جائے گا۔ مگر یہ اتفاق عوامی مفاد کیلئے نہیں بلکہ قومی بجٹ کی عدم حمایت کی دھمکی دے کر پنجاب میں سپیس دلوانے کے مطالبہ سے مشروط کر کے کیا جا سکتا ہے۔ 
دوسرے اسٹیبلشمنٹ سے کہا جا سکتا ہے کہ ہمیں جنوبی پنجاب میں سپیس دلوائی جائے تاکہ سندھ کے پانی کے حوالے سے حساس جذبات رکھنے والے سندھ کے لوگوں کو یہ کہہ کر مطمئن کر ایا جاسکے کہ جنوبی پنجاب کے انتظامی معاملات ہمارے ہاتھ میں ہیں اور نہراس علاقے میں ہوگی اس لئے اس میں پانی کی صورتحال ہمارے علم اور کنٹرول میں رہے گی۔ اس طرح سندھ کا پانی کسی صورت چوری نہیں ہو سکے گا۔ کیا اسٹیبلشمنٹ پیپلز پارٹی کی یہ منطق تسلیم کر کے مریم نواز کو اس پر آمادہ کرنے کی کوشش کر سکتی ہے۔ اس سارے بیانیہ پر غور کیا جائے تو بظاہر یہ دور کی کوڑی ، لانے کے مترادف ہے لیکن اس امکانی صورت کو اس لئے یکسر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ اگرچہ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اس کامیابی پر تین روزہ جشن کا اعلان کیا ہے مگر کیا جی ڈی اے احتجاجی مہم ختم کر کے اس جشن کا حصہ بن کر سارا کریڈٹ پیپلز پارٹی کو دے سکتی ہے یا وہ احتجاج کا سلسلہ جاری رکھ کر پیپلز پارٹی کو جنوبی پنجاب میں انتظامی سپیس دلوانے میں بالواسطہ معاونت کرے گی۔صدیوں کے آباد غریب سندھیوں کی زمینوں پر بحریہ ٹاؤن کا قبضہ مستحکم کرانے کیلئے قوم پرست بالواسطہ معاونت کا عملی مظاہرہ اس طرح کر چکے ہیں جب معاملے کو ہنگامہ آرائی کی نذر کر کے قدیمی مکینوں کو آئینی و قانونی دادرسی کے آپشن سے محروم کر دیا گیا تھا اور وہ اپنی زمینوں پر قبضہ کے خلاف قانونی جنگ لڑنے کی بجائے اپنے خلاف مقدمات بھگتنے میں پڑ گئے تھے۔ 
ضروری نہیں ایسا ہو بے شک فی الحال مفروضہ ہے لیکن اگر قومی بجٹ منظور کرانے اور منظور نہ ہونے کی صورت میں اپنی حکومت بچانے کیلئے اور اسٹیبلشمنٹ نے چولستان نہر کا معاملہ خوش اسلوبی سے حل ہونے کے پیش نظر وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف پر دباؤ ڈالاکہ وہ اپنی اب تک میرٹ کی بنیاد پر چلنے والی پالیسی خود اپنے ہاتھوں سے دفن کر کے پیپلز پارٹی کو جنوبی پنجاب میں وہ سب کچھ دینے پر آمادہ ہو جائیں جو وہ ن لیگ کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کو بھی میرٹ سے ہٹ کر نہ دینے کی پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہیں جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا ضروری نہیں ایسا ہو مگر امکانات کو مدنظر رکھنا سیاسی دانش ہے اس لیے مریم نواز کا اس حوالے سے ہوشیار خبردار رہنا ان کی سیاسی دانش کا تقاضا ہے۔ 
بلاول کو وزیراعظم بنانا آصف زرداری کی زندگی کی آخری خواہش ہے اور اس آخری خواہش میں حقیقت کا رنگ صرف اسی صورت میں بھر سکتا ہے جب نا نا ذوالفقار علی بھٹو کی طرح پنجاب بلاول کی حمایت میں اٹھ کھڑا ہو۔ بعد میں بے شک گالیاں اس کا مقدر بنیں۔ دوسرے پنجاب میں مریم نواز کے عوامی فلاح و بہبود کیلئے منصوبوں اور اقدامات میں طوفانی پیش رفت میں رخنہ ڈال دیا جائے۔

ٹیگز: