Thu, September 17, 2026

تیجس اور نمنش

تیجس اور نمنش


گزشتہ ہفتے بھارت کا ایک طیارہ دبئی ایئر شو میں گر کرتباہ ہو گیا تھا۔ تباہ ہونے والے طیارے کا نام تیجس اور اس میں جل کر ہلاک ہونے والے پائلٹ کا نام نمنش سیال تھا۔ اس واقعے پر لکھنے کا ارادہ تو اسی وقت بن گیا تھا لیکن اچانک شدید بخار نے آ لیا اور یوں پہلے سے تیار تحریر ہی اخبار کو بھیجنا پڑی۔ اب کچھ وقت ملا، بخار سے جان چھوٹی اور کچھ نئی چیزیں بھی سامنے آئیں تو سوچا کہ اس موضوع پر اپنا حصہ ڈال ہی لیا جائے۔ 
اس واقعے کے دو پہلو ہیں۔ ایک تو ہے طیارے کا تباہ ہونا اور دوسرا پائلٹ کا جان سے چلے جانا۔ اگرچہ دونوں پہلو افسوسناک ہیں لیکن اپنے یہاں اس حوالے سے دو تین طرح کا رد عمل دیکھنے میں آیا۔ ایک رد عمل تو طیارے اور پائلٹ کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار تھا۔ دوسری قسم کا رد عمل طیارے کی تباہی پر خوشی اور پائلٹ کی ہلاکت پر افسوس اور تیسرا رد عمل طیارے اور پائلٹ کی دونوں کی ہلاکت پر خوشی کا اظہار تھا۔ آج کا موضوع یہی تین رویے ہیں کیونکہ طیاروں کی فنی باریکیوں سے تو ہم واقف نہیں کہ ان پر زیادہ بات کر سکیں۔
 اوپر بیان کیے گئے تین رویوں میں سے پہلے کو بہترین دوسرے کو فطری اور تیسرے کو کمزور رویہ کہا جا سکتا ہے۔ پہلا رویہ بہترین اس لیے ہے کہ یہ ہمدردی اور احساس سے لبریز دل کا غماز ہے ایسا دل جو کسی کے کسی بھی طرح کے جانی و مالی نقصان پر خوش نہیں ہوتا چاہے وہ دشمنی کیوں نہ ہو اور اس دشمن کے ہاتھوں بھلے نقصان ہی کیوں نہ پہنچ چکا ہو، دوسرے رویے کو فطری اس لیے کہا گیا ہے کہ یہ ایک ایسے دل کا ترجمان ہے جو دشمن کو ہر صورت میں کمزور دیکھنا چاہتا ہے لیکن انسانی جان کی حرمت سے بھی بخوبی واقف ہے۔ ایسا دل دشمن کے نقصان پر تو ضرور خوش ہوتا ہے لیکن کسی بھی انسانی جان کے نقصان پر ملول بھی ہوتا ہے۔ تیسرا رویہ کمزور اس لیے ہے کہ یہ ایک ایسے دل کی نشان دہی کرتا ہے جس کی نظر میں صرف دشمنی ہی اہم ہے، انسانی ہمدردی سے اسے کوئی سروکار نہیں۔ دشمن کا نقصان چاہے مالی ہو یا جانی اسے خوشی دیتا ہے۔
بھارت کا طیارہ گرنے کی خبر جب سنی تو لوگوں کی اکثریت کا سب سے پہلا رد عمل یہی تھا کہ پائلٹ کا کیا بنا۔ بھارت کے نقصان پر لوگوں نے خوشی کا اظہار ضرور کیا کیونکہ بھارت کے نقصان میں پاکستان کے فائدے کا کوئی نہ کوئی پہلو نکل ہی اتا ہے جیسے اس واقعے کے بعد عالمی سطح پر پاکستان کی فضائیہ کی بھارت پر ایک بار پھر برتری ثابت ہو گئی۔ بھارت کی طیارہ سازی کی صلاحیت پر سوالیہ نشان لگ گیا اور اب تک اس کے طیاروں کی خریداری کے بین الاقوامی معاہدے منسوخ ہونے کی خبریں بھی منظر عام پر آ چکی ہیں تاہم جب پائلٹ کی موت کی تصدیق ہو گئی تو ماحول یکبارگی سوگوار ہو گیا کہ وہ تو بہرحال ایک جیتا جاگتا انسان تھا جو یوں ایک لمحے میں اگ کے شعلوں کا رزق بن گیا۔ پھر اس کی موت کے بعد اس کے اہل خانہ کی جو تصاویر منظر عام پر آئیں انہوں نے ماحول کو مزید افسردہ کر دیا۔ خاص طور پر پائلٹ نمنش کی فوجی افسر بیوی افشاں کی شوہر کی میت کو الوداعی سلیوٹ دیتے لمحے رونے کی تصویر۔ پھر اس کی ننھی بیٹی کی اپنی ماں کو حیرت سے دیکھنے کی تصویر اور پھر اس کی بین کرتی ماں کی تصویر کسی بھی نرم دل کو رلانے کے لیے کافی تھیں۔ 
اس دنیا میں کوئی بھی انسان شوق سے نہیں مرتا، اسی لیے تو اللہ تعالیٰ نے موت کو اچانک رکھا ہے جو کسی کو بتا کر نہیں آتی اور کوئی بھی اس کے لیے ذہنی طور پر تیار نہیں ہوتا۔ پھر ایک ایسا شخص جو زندگی سے بھرپور ہو اور مرنے سے چند لمحے قبل یوں فاتحانہ انداز سے ہاتھ ہلا کر جہاز کی طرف بڑھ رہا ہو جیسے کوئی بہت بڑا معرکہ سرکرنے جا رہا ہو اس نے کیسے موت کے پنجے سے نکلنے کی کوشش نہ کی ہو گی۔ یقینا نمنش سیال نے آخری لمحات تک جہاز کو سنبھالنے اور خود کو موت کے منہ میں جانے سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کی ہوگی لیکن کامیاب نہیں ہوا اور ایک ہنستا بستا گھر اجڑ گیا۔
رہی بات بھارت کی تو اسے بہرحال اس واقعے سے ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے۔ اسے سمجھ لینا چاہیے کہ اس کی ایوی یشن انڈسٹری ابھی اس قابل نہیں ہوئی کہ طیارہ سازی اور فضائی کرتب گری کے میدان میں بڑی عالمی طاقتوں کا تو کیا پاکستان ہی کا مقابلہ کر سکے۔ اسے اس بات کا احساس ویسے تو معرکہ حق میں پاکستان کے ہاتھوں اپنے سات طیارے گنوانے کے بعد ہو جانا چاہیے تھا لیکن وہ بھارت ہی کیا جو اپنی کسی غلطی سے سبق سیکھ جائے۔
بھارت کی مودی سرکار کو چاہیے کہ پاکستان کے خلاف روز روز کی گیدڑ بھبھکیوں کا سلسلہ بند کرے کیونکہ اس سے پاکستان نے تو خیر کیا ڈرنا، الٹا بھارت کی دنیا میں اپنی جگ ہنسائی ہوتی ہے۔ بھارت کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ جنوبی ایشیا کے خطے میں امن کے ساتھ رہنا سیکھ لے۔ جنگی جنون کا بھوت سر سے اتارے، سکون کے ساتھ ساتھ نئی نئی فلمیں بنائے اور ناچ گانے سے اپنا دل بہلا کر خوش ہوتا رہے ورنہ کسی دن خود ہی اپنے کھودے ہوئے گڑھے میں جا گرے گا، جہاں سے اسے نکالنے والا بھی کوئی نہیں ہو گا۔

ٹیگز: