مصنوعی ذہانت یعنیAI سے انسانی نسل کو خطرے کی بات کسی ایک شخص نے نہیں کی بلکہ کئی نامور ٹیک ماہرین اور محققین نے کی ہے ۔ حالیہ دنوں میں اے آئی کمپنی اینتھروپیک کے مرکزی محقق جیکب کاکسن نے بھی یہ انتباہ جاری کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت اگلے چند برسوںیا ایک دہائی میں انسانیت کا خاتمہ کر سکتی ہے ۔ اس کے علاوہ جیفری ہنٹن ، ایلون مسک اور یوشوا بینجیو جیسے کئی نامور اور سرکردہ سائنس دان بھی اسی خدشہ کا اظہار کر چکے ہیں ۔ مصنوعی ذہانت سے انسانیت کو کیا خطرات لاحق ہیں اس پر بھی تفصیل سے بات ہو گی لیکن اس سے پہلے چند الفاظ میں اس انسان کو خراج تحسین کہ جو نہ تو سائنسی محقق تھا اور نہ ہی ان کا کوئی دور پار کا تعلق کسی مصنوعی ذہانت سے تھا بلکہ جس وقت انھوں نے یہ بات کہی تھی تو اس وقت تو دور دور تک مصنوعی ذہانت تو کیا ابھی کمپیوٹر انٹر نیٹ اور موبائل کا بھی کسی کو پتا نہیں تھا ۔ یہ جتنے محققین ہیں ان کے سامنے تو مصنوعی ذہانت اپنے مثبت اور منفی تمام پہلوﺅں کے ساتھ موجود ہے لیکن 70کی دہائی کے وسط میں سوچیں کہ کسی کو مصنوعی ذہانت کا کیا پتا تھا بلکہ نام ونشان تک نہیں تھا لیکن اس وقت ایم اے راحت نے ایک مشہور ڈائجسٹ میں شائع ہونے والی قسط وار کہانی ” صدیوں کا بیٹا “ جو کہ اب ناول کی شکل میں موجود ہے اس میں بڑی تفصیل کے ساتھ مصنوعی ذہانت کی تباہ کاریوں اور اس کرہ ارض پر اس کی وجہ سے نسل انسانی کے خاتمہ کا بتا دیا تھا ۔ اس لئے جب موجودہ دور میں مصنوعی ذہانت کی جلوے دنیا کے سامنے آنا شروع ہوئے تو ہمیں اسی وقت آج سے کم و بیش 40سال پہلے پڑھی ہوئی ساری باتیں یاد آتی چلی گئیں لیکن یہ تباہ کاریاں اتنی جلدی وقوع پذیر ہو سکتی ہیں اس کا بالکل بھی اندازہ نہیں تھا ۔
اس سے پہلے کہ آگے بڑھیں اب وہ تفصیل پڑھ لیں کہ جو آج سے 50سال پہلے پاکستان کے ایک لکھاری نے اپنے اردو ناول میں بتا دی تھی ۔ اس کہانی کا آغاز ایک ہوائی جہاز کی برفانی علاقے میں کریش لینڈنگ سے ہوتا ہے جو اس وقت کے حساب سے معلوم دنیا سے دور جگہ ہوتی ہے ۔ جو مسافر بچ جاتے ہیں ان میں ایک پاکستانی پروفیسر اور اس کی دو بیٹیاں بھی ہوتی ہیں ۔ خوراک کی کمی کی وجہ سے چند ہی دنوں میں نوبت اپنے ہی ساتھیوں کو قتل کر کے ان کا گوشت کھانے تک پہنچ جاتی ہے ۔ اس صورت حال میں پروفیسر اپنی دو بیٹیوں کو ساتھ لے کر ان سے علیحدہ ہو جاتا ہے اور کافی پریشانی کے بعد انھیں ایک غار نظر آتا ہے لیکن وہ جب اس غار میں داخل ہوتے ہیں تو انھیں اس غار میں ایک تابوت نظر آتا ہے جس میں ایک بندہ سو رہا ہوتا ہے لیکن ان کی آمد پر اس کی آنکھ کھل جاتی ہے اور وہ انھیں بتاتا ہے کہ وہ کروڑوں اربوں برسوں سے زندہ ہے اور آگ پانی تیر تلوار گولی خنجر کوئی چیز اس پر اثر نہیں کرتی ۔ وہ انھیں ان کی من پسند خوراک اور رہائش کے لئے آرام دہ جگہ دیتا ہے اور پھر پروفیسر اور اس کی بیٹیاں اس سے اس کی داستان جو کہ لاکھوں برسوں پر محیط ہوتی ہے وہ سننا شروع کر دیتی ہیں ۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک طویل ناول ہے جسے قارئین کو سنانا ہمارا مقصد نہیں ہے ۔ داستان کے کسی حصے میں وہ انسان انھیں بتاتا ہے کہ اس نے ہر دور میں نسل انسانی کے نادر علوم رکھنے والے لوگوں سے بہت کچھ سیکھا ہے اور انہی میں سے ایک شخص نے اسے ماضی اور مستقبل میں سفر کرنے کا فن بھی سکھایا تھا اور وہ اس حوالے سے اپنی داستان میں کئی واقعات بھی بتاتا ہے ۔
داستان کے آخر میں پروفیسر اس سے پوچھتا ہے کہ تم مستقبل میں بھی جا سکتے ہو تو آج انسان سائنسی ترقی کے بام عروج پر ہے تو مستقبل میں انسان اور کتنی ترقی کرے گا یہ تو بتا دو تو وہ اس پر انتہائی افسردہ لہجہ میں کہتا ہے کہ پروفیسر یہ بات نہ پوچھو لیکن پروفیسر کے ضد کرنے پر وہ بتاتا ہے کہ انسان نے اتنی ترقی کر لی کہ اس نے ایسی مشینیں ایجاد کر لیں کہ جو خود اپنے طور پر سوچنے کی صلاحیت رکھتی تھیں تو ایک دن دنیا بھر کی مشینوں نے آپس میں رابطہ کیا اور فیصلہ کیا کہ جب ہم انسانی سے ہزاروں گنا زیادہ ذہین ہیں اور اسی حساب سے فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں تو پھر ہم انسانوں کی غلامی کیوں کریں تو اس کے بعد اس زمین پر انسانوں اور مشینوں کی جنگ ہوئی جس میں مشینوں کو فتح حاصل ہوئی اور اس کرہ ارض سے نسل انسانی کا خاتمہ ہو گیا اور مشینوں نے زمین پر چند مقامات پر انسانوں کو جانوروں کی طرح ننگ دھڑنگ تبیلوں میں نشانی کے طور پر رکھا ہوا تھا ۔ یہ آج سے 50سال پہلے کی بات ہے اور اسی سال جولائی 2026میں AIپروگرام میں پانچ ایجنٹ بنائے (اب یہ ایجنٹ کیا ہیں مجھے بھی سمجھ نہیں آئی لیکن جو آئی ٹی کے شعبے میں ہیں انھیں یقینا علم ہو گا) اور ان کا آپس میں رابطہ کر دیا ۔ ان کے پاس انٹر نیٹ نہیں تھا لیکن چند دنوں میں انھوں نے انٹر نیٹ تک رسائی حاصل کی ۔ بغیر کسی انسانی مدد کے اور پھر ایف بی آئی کے اندر نقب لگانے کی کوشش کی تو انھیں بند کر دیا گیا تو مصنوعی ذہانت مستقبل میں کیا گل کھلا سکتی ہے اور کیوں اس کے محققین اسے نسل انسانی کی تباہی قرار دے رہے ہیں آج کی تحریر میں اس کی ہلکی سی جھلک قارئین کی نظر کی ہے ۔