Thu, September 17, 2026

صحافیوں کی گرفتاریاں

صحافیوں کی گرفتاریاں

مجھے خوشی ہے کہ صحافی اور یوٹیوبر بلال غوری کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے مگر اس سے پہلے اور اس سے کہیں زیادہ افسوس ان کی گرفتاری اور ریمانڈ کا ہے۔ صحافیوں کی گرفتاریاں کسی حکومت اور معاشرے کے لئے فخر کا باعث نہیں ہوتیں ۔ میں’ رپورٹرز ود آوٹ بارڈرز‘ کی آزادی صحافت کے حوالے سے درجہ بندی دیکھ رہا تھا تو پاکستان اس برس ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں شامل 180 ممالک میں سے 153ویں نمبر پر ہے، ہم بنگلہ دیش سے ایک درجہ پیچھے اور بھارت سے چار درجے بہتر ہیں۔ میں اس کالم کو لکھنے سے پہلے ہی واضح کر دوں کہ میری بلال غوری کے ساتھ نہ کوئی گہری دوستی ہے اور نہ کوئی ہم خیال گروپ ،بس منہ دیکھے کی عزت ہے جب کبھی کہیں کوئی ملاقات ہوجائے مگر بطور صحافی یہ میری ذمے داری ہے کہ میں اس صورتحال پر حکومت اور مقتدرہ کی توجہ دلاﺅں۔
میں شروع میں ہی واضح کر دوں کہ اگر صحافیوں کے آزادی اظہار رائے کے حوالے سے حقوق ہیں تو ان شہریوں کے بھی حقوق ہیں جن کے بارے صحافی گفتگو کرتے ہیں اور وہ شہری کسی بھی عہدے پر اور کسی بھی شعبے میں ہوسکتے ہیں اور جب ہمیں بات کرنی ہے تو کسی ایک کی نہیں کرنی، سب کی کرنی ہے مگر یہاں ایک بنیادی سوال ہے کہ کیا ایک رائے کے اوپر فوجداری مقدمہ ہوتا ہے یا سول۔ اس پر تحقیق کر لیجئے کسی مہذب، آئینی اور جمہوری ملک میں صحافتی خدمات پر اعتراضات میں مقدمہ درج ہوتا ہے نہ ہی صحافی کی گرفتاری ہوتی ہے کیونکہ اگر آپ ایک ایک خبر اور ایک ایک تجزیے پر صحافیوں کی گرفتاریاں شروع کر دیں گے تو نہ صحافت بچے گی اور نہ جمہوریت۔ بتایاگیا ہے کہ ایک تقرری پر ان کی رائے کو حقائق کے منافی قرار دیا جا رہا ہے۔ میں اپنے قبیلے کے شخص کا دفاع کئے بغیر ہی مان لیتا ہوں کہ بلال غوری کے بیان کردہ حقائق درست نہیں تھے تو اس کا جواب یہی تھا کہ کسی دوسرے ’ دوست‘ سے درست حقائق بیان کروا لئے جاتے۔ تکلف برطرف، مجھے بالکل علم نہیں تھا کہ بلال غوری نے کسی تقرری پر کون سی رائے دی ہے اور نہ ہی مجھ سمیت ہزاروں لاکھوں کو کبھی پتا چلنا تھا مگر اس مقدمے اور گرفتاری کے بعد سب کو اس کا علم ہو گیا۔ میں نے سوشل میڈیا پر یہ بھی دیکھ لیا ہے کہ یہاں سچ اور جھوٹ کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ اہمیت آپ کے دھڑے کی ہے۔ میں نے مذہبی کارکنوں کو شہادت جیسے فلسفے اور فوجیوں کی شہادتوں کے خلاف بولتے ہوئے دیکھا ہے کیونکہ یہ ان کے ’امیر‘ کی دی لائن تھی چاہے قرآن وسنت کے خلاف ہی تھی۔
مجھے یہاں اپنی کمیونٹی کے ساتھ بھی ایک شکوہ کرنا ہے کہ گذشتہ برس جولائی میں حکومت پنجاب کی طرف سے ہتک عزت کا ایک قانون لایا گیا۔ یہ ایک سول قانون تھا جس میں ہتک عزت کے ٹریبونل بننے تھے جنہوں نے دو سے چھ ماہ کے اندر ایسے مقدمات کا فیصلہ کرنا تھا۔اس کا طریقہ کار یہ طے کیا گیا تھا کہ سوشل میڈیا پر کسی بھی خبر یا تجزیے سے متاثرہ شخص ٹریبونل سے رجوع کرتا۔ اسے تین نوٹسز جاری کر کے اپنی صفائی کا موقع دیا جاتا اور اگر وہ اپنی خبر یا تجزیے میں لگائے گئے الزامات کو ثابت نہ کرپاتا یا وہ صفائی ہی پیش نہ کرتا تو اس کے خلاف ڈگری جاری کر دی جاتی۔ یہ نہیں تھا کہ اس میں فوجداری کارروائی شامل ہی نہیں تھی بلکہ جب ڈگری ہوجاتی تو اس پر فوجداری کارروائی ہوتی مگر ہوا یوں کہ اس کے خلاف پروپیگنڈے کا طوفان کھڑا کر دیا گیا۔ پنجاب اسمبلی کا منظور کیا ہوا یہ قانون اب عدالت کی طرف سے بہت ساری پابندیوں کے ساتھ عملی طور پر معطل حالت میں ہے اور میرا کہنا یہ ہے کہ اس پر جو بھی اعتراضات ہیں، انہیں دور کرتے ہوئے لاگو کرنا چاہئے تاکہ صحافیوں کے خلاف مقدمات اور گرفتاریوں کا عمل روکا جا سکے۔ دوسری طر ف جب پیکا ایکٹ بنایا جا رہا تھا تو کہا جا رہا تھا کہ اس کا اطلاق صحافیوں اور صحافتی اداروں پر نہیں ہوگا لیکن یہاں اطلاق کا یہ طریقہ نکال لیا گیا کہ کسی بھی ادارے کی کوئی خبر یا کالم اگر سوشل میڈیا پر کوئی شئیر کر دے گا تو اس پر یہ قانون لاگو ہوجائے گا اور اس میں اس صحافی کو بھی استثنیٰ حاصل نہیں ہے جس کی یہ خبر ہو اور کسی ادارے نے اسے پرنٹ یا آن ائیر کیا ہو یعنی این سی سی آئی اے کے ذریعے صحافی کی ناک یا گردن کو براہ راست نہیںپکڑا جا سکتا مگر قانون کے ہاتھ اتنے لمبے اور چکردار کر دئیے گئے ہیں کہ وہ گھوم کے دوسری طرف سے آجاتے ہیں۔
مجھے یہاں حکومت اور اپنی کمیونٹی سے ایک اور شکوہ بھی کرنا ہے کہ ہم نے صحافی کی کوئی تعریف مرتب ہی نہیں کی۔ سوشل میڈیا ایپس کے مالکان کہتے ہیں ہر شخص جس کے پاس کیمرہ اور مائیک ہے وہ صحافی ہے اور میں اس تعریف کو قبول کرنے سے انکار کرتا ہوں۔ اگر آپ نے یہی تعریف رکھنی ہے تو پھر ہر قصائی بھی سرجن ہے کیونکہ اسے بھی دل گردے نکالنے آتے ہیں اور اگرخبردینے والا ہر فرد صحافی ہے تو پھر ہر ساس، ہر بہو، ہر پھپھے کٹن بھی صحافی ہے کیونکہ وہ بھی ایک دوسرے کے خلاف بہت خبریں دیتی ہیں۔ مجھے گذشتہ برس اس وقت بہت افسوس ہوا جب میں نے لاہور پریس کلب میں یہ بحث دیکھی کہ یوٹیوبرز ، صحافیوں سے بھی زیادہ ریٹنگ اور ویوز لے رہے ہیں تو انہیں بھی کلب کی رکنیت دے دی جائے جس پر میرا کہنا تھا کہ پھر آپ مہک ملک کو بھی رکنیت دے دیں کہ اس کے ویوز بھی بہت ہوتے ہیں۔ صحافت پیغمبرانہ پیشہ ہے ،زیادہ ویوز نہ صحافی ہونے کے سند ہیں اور نہ ہی سچے اور مصدقہ ہونے کی گواہی بلکہ سوشل میڈیا پرجھوٹ اور فراڈ کی مارکیٹ ویلیوکہیںزیادہ ہے۔
اب میں سب سے بڑا سوالسب سے آخر میں کروں گا کہ آپ نے بلال غوری کو تو گرفتار کر لیا مگر ان کا کیا کرنا ہے جو کھلم کھلا اور دھڑلے کے ساتھ جھوٹ بولتے ہیں۔ جو ہر دوسرے روز بتاتے ہیں کہ جرنیلوں نے رات کے آخری پہر بغیر نمبر پلیٹ ڈالوںمیں اڈیالہ جا کے عمران خان کے پاوں پکڑ لئے اور کیا آپ یقین کریں گے کہ مجھے یہ دعوے کرنے والے بہت ساری اعلیٰ سطح کی بریفنگز میں ٹانگ پر ٹانگ رکھ کے بیٹھے نظر آتے ہیں۔ سوشل میڈیا ان لوگوں سے بھرا پڑا ہے جو ہر رات پاکستان کو توڑ کے سوتے ہیں ، یہ گالیاں اور مغلظات بکتے ہیں، مقدس رشتوں کے حوالوں سے یاوہ گوئیاں کرتے ہیں مگر میں نے این سی سی آئی اے کو کبھی ان کو گرفتار کرتے ہوئے نہیں دیکھا، ان کے خلاف شکایت بھی کر دی جائے تو وہ پلندوں میں دب کے رہ جاتی ہے۔فیض احمدفیض کا کہا یاد آ گیا، ’ ہے اہل دل کے لئے اب یہ نظم و بست وکشاد، کہ سنگ وخشت مقید ہیں اور سگ آزاد‘۔

ٹیگز: