Thu, September 17, 2026

    گل پلازہ آتشزدگی: "رہنمائی ملتی تو لوگ نہ مرتے"، بچ جانے والے شہری کا جوڈیشل کمیشن میں بڑا انکشاف

     گل پلازہ آتشزدگی:

کراچی : سانحہ گل پلازہ میں موت کے منہ سے بچ نکلنے والے خوش نصیب شہری عبداللہ نے جوڈیشل کمیشن کے سامنے پیش ہو کر آگ لگنے کے بعد کے لرزہ خیز حالات بیان کر دیے۔ عبداللہ کا بیان پلازہ کی انتظامیہ اور ہنگامی اخراج کے ناقص انتظامات پر بڑے سوالات کھڑے کرتا ہے۔
جوڈیشل کمیشن کو بیان دیتے ہوئے عبداللہ نے بتایا کہ وہ شاپنگ کے لیے وہاں موجود تھے جب اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ ان کے بیان کے چیدہ چیدہ نکات یہ ہیں ۔ آگ لگنے کے صرف پانچ منٹ کے اندر میزنائن فلور سیاہ دھوئیں کی لپیٹ میں آگیا، جس کے باعث سانس لینا اور راستہ دیکھنا ناممکن ہو گیا۔ عبداللہ نے انکشاف کیا کہ وہاں پانچ لوگ پھنسے ہوئے تھے لیکن ریسکیو یا رہنمائی کے لیے کوئی عملہ موجود نہیں تھا۔
 کوئی راستہ نہ پا کر عبداللہ اور ان کے ساتھیوں نے میزنائن فلور سے نیچے کھڑے ایک ٹرک پر چھلانگ لگا کر اپنی جان بچائی۔عبداللہ کے مطابق باہر نکلتے ہی وہ زہریلے دھوئیں کی تاب نہ لاتے ہوئے بے ہوش ہو گئے، جس کے بعد عوام نے انہیں فوری طور پر سول ہسپتال پہنچایا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ان 6 افراد میں شامل ہیں جو اس حادثے میں زندہ بچنے میں کامیاب رہے۔
عبداللہ کے اس بیان کے بعد جوڈیشل کمیشن نے عمارت میں ہنگامی اخراج (Emergency Exits) اور فائر سیفٹی کے آلات کی موجودگی سے متعلق تحقیقات کو مزید تیز کر دیا ہے۔

ٹیگز: