Wed, September 16, 2026

گل پلازہ آتشزدگی کا معاملہ: شرجیل میمن کا جوڈیشل انکوائری کا حکم، غفلت برتنے والے اعلیٰ افسران معطل

گل پلازہ آتشزدگی کا معاملہ: شرجیل میمن کا جوڈیشل انکوائری کا حکم، غفلت برتنے والے اعلیٰ افسران معطل

کراچی : کراچی کے معروف تجارتی مرکز 'گل پلازہ' میں پیش آنے والے ہولناک سانحے کے بعد سندھ حکومت نے سخت قانونی اور انتظامی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ 80 افراد کی ہلاکت کو انتظامیہ کی بڑی ناکامی قرار دیتے ہوئے صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے واقعے کی اعلیٰ سطحی جوڈیشل انکوائری اور ذمہ دار افسران کی فوری معطلی کا اعلان کیا ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران سینئر صوبائی وزیر نے اعتراف کیا کہ آگ بجھانے کے عمل میں پانی کی قلت اور فراہمی میں تاخیر نے نقصان کی شدت کو بڑھایا۔ اس کوتاہی پر ایکشن لیتے ہوئے حکومت نے درج ذیل اقدامات کیے ہیں:    چیف انجینئر بلک اور ہائیڈرنٹ انچارج (واٹر بورڈ) کو پانی کی فراہمی میں مجرمانہ تاخیر پر معطل کر دیا گیا۔   ڈائریکٹر سول ڈیفنس (ضلع جنوبی) کو عمارت میں فائر سیفٹی قوانین نافذ نہ کروانے پر عہدے سے ہٹا دیا گیا۔    شرجیل میمن نے واضح کیا کہ کسی بھی سینئر افسر یا اتھارٹی کی غفلت ثابت ہونے پر اسے قانون کے شکنجے سے نہیں بچایا جا سکے گا۔

وزیرِ اطلاعات نے بتایا کہ جب 1200 دکانوں پر مشتمل اس عمارت میں آگ لگی، تو وہاں تقریباً 2500 افراد موجود تھے۔ اگرچہ ریسکیو ٹیموں نے فوری آپریشن کر کے بڑی تعداد میں لوگوں کو نکالا، لیکن عمارت میں اپنا کوئی فائر فائٹنگ سسٹم نہ ہونے کی وجہ سے 80 قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں۔

رپورٹ کے مطابق محکمہ سول ڈیفنس نے 2023 سے اب تک گل پلازہ انتظامیہ کو کئی بار وارننگ اور نوٹسز جاری کیے تھے، مگر ان پر عملدرآمد نہیں کروایا گیا۔ شرجیل میمن نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ جب انتظامیہ کو خطرات سے آگاہ کر دیا گیا تھا تو حفاظتی انتظامات کو یقینی بنانا ان کی اولین ذمہ داری تھی۔

ٹیگز: