دہشت گردوں نے ایک دفعہ پھر امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ کوہاٹ مسجد میں دھماکہ اس بات کا عکاس ہے کہ افغان دہشت گرد ملک کی سالمیت کے در پے ہیں۔ ان دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں۔
صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر کوہاٹ میں حکام کا کہنا ہے کہ پولیس لائنز کی مسجد پر خودکش حملے کے بعد عمارت میں داخل ہونے والے شدت پسندوں کے خلاف پولیس اور سکیورٹی فورسز کا آپریشن انتہائی منظم رہا۔ حکام کے مطابق آٹھ شدت پسند مارے گئے۔
ڈپٹی کمشنر کوہاٹ محمد نواز وزیر نے بتایا کہ دھماکے میں شہید ہونے والوں کی تعداد اب 23 ہو گئی ہے جن میں 17 پولیس اہلکار اور چھ عام شہری شامل ہیں۔ ا±ن کے بقول 130 افراد زخمی ہیں۔خیبر پختونخوا پولیس کے مطابق خودکش حملہ آور نے پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تاہم وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکا۔پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مسجد پر دھماکے کے بعد کچھ دہشت گرد سپیشل برانچ کی عمارت میں داخل ہو گئے تھے، جس کے بعد پولیس، ایلیٹ فورس، کاو¿نٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اور سکیورٹی فورسز نے کارروائی شروع کی۔ رات بھر جاری رہنے والے آپریشن کے بعد عمارات کے اہم حصوں کو کلیئر کر لیا گیا ہے۔ڈپٹی کمشنر کوہاٹ کے مطابق تقریباً 21 گھنٹے پر مشتمل آپریشن اپنے اختتام کو پہنچ گیا ہے جبکہ اس دوران آٹھ دہشتگرد، جن میں ایک خودکش بمبار بھی شامل تھا، ہلاک ہو گئے۔پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آپریشن کے دوران شدت پسندوں کی جانب سے ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی پر گرینیڈ حملہ بھی کیا گیا، جس میں وہ زخمی ہوئے۔
پولیس کے مطابق انھیں ابتدائی طبی امداد دی گئی، جس کے بعد وہ دوبارہ آپریشن کی نگرانی کے لیے فرنٹ لائن پر پہنچ گئے۔ کوہاٹ دہشت گردی کے بعد سکیورٹی فورسز نے بھی دہشت گردوں کے گرد گھیرا تنگ کر دیا ہے۔ افغان طالبان اور ان کے سہولت کار ہوں یا پھر کالعدم بی ایل اے کے کارندے۔۔ فورسز نے زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر چلتے ہوئے سب کے گرد گھیرا تنگ کر دیا ہے۔ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں فتنہ الہندوستان کے 4 دہشت گرد ہلاک ہوگئے . سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بلوچستان میں آپریشن ردالفتنہ 3 کے تحت سکیورٹی فورسز کی دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائیاں جاری ہیں۔ اس سلسلے میں پنجگور میں ایک کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 4 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ذرائع نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے پنجگور کے علاقے اپھان کوہ، پروم میں فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاعات پر آپریشن کیا۔ اس دوران سکیورٹی فورسز اور علاقے میں موجود دہشت گردوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے 4 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں جدید اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔ سکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں بدستور جاری ہیں، جو آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہیں گی۔ادھر ہنگو میں خوارج سے فائرنگ کے تبادلے میں شہید ہونے والے پاک فوج کے 6 شہداءکی نمازِ جنازہ پشاور میں ادا کر دی گئی۔نماز جنازہ میں وزیر داخلہ محسن نقوی، گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم ک±نڈی، کور کمانڈر پشاور، ش±ہدا کے لواحقین اور سینئر سول و عسکری حکام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ہنگو میں خوارج سے فائرنگ کے تبادلے میں جام شہادت نوش کرنے والے پاک فوج کے 6 شہداءمیں کیپٹن ابوذر فاروق شہید، لیفٹیننٹ شیراز بابر شہید، سپاہی شکیل احمد شہید، سپاہی حمزہ شہید، سپاہی محمد عثمان عزیز شہید اور نان کمبیٹنٹ غلام سجاد شامل ہیں۔
شہداءکا جسدِ خاکی آبائی علاقوں میں پہنچا دیئے گئے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز ضلع ہنگو میں سکیورٹی فورسز نے خوارج کے خلاف کارروائی کی اور اس دوران فائرنگ کے تبادلے میں 8 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا جبکہ پاک فوج کے دو افسران سمیت 6 جوان شہید ہوگئے تھے۔ فورسز نے حالیہ آپریشنزمیں یہ ثابت کر دیا ہے کہ امن کے دشمنوں کو کسی صورت بھاگنے کا بھی موقع نہیں دیا جائے گا۔ قوم جان چکی ہے بھارتی سپانسرڈ یہ دہشت گرد ملک میں عدم استحکام کی پالیسی پر چل رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر صورت امن کی جیت یقینی بنانے کے لیے دہشت گردوں کے سہولت کاروں پر کڑی نظر کی جائے اور قومی فریضہ ادا کرتے ہوئے سکیورٹی فورسز کا ساتھ دیا جائے۔ مگر دوسری جانب دیکھا جائے تو کے پی حکومت سرکاری وسائل استعمال کرتے ہوئے سیاسی انتشار کی سیاست کو فروخت دے رہی ہے ایسے حالات میں لانگ مارچ ایک فضول وقت کا ضیاع ہے۔ اپنے لیڈر کی رہائی کی بجائے قومی فریضہ ادا کرتے ہوئے سہیل آفریدی کو بھی ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور اپنے صوبے کے حالات بہتر بناتے ہوئے فورسز کا سہارا بننا چاہیے مگر فی الحال صورتحال بالکل مختلف دکھائی دے رہی ہے۔