Wed, September 23, 2026

احتجاجی سیاست: عوامی حق یا سیاسی حربہ !

احتجاجی سیاست: عوامی حق یا سیاسی حربہ !

پاکستان میں دھرنے، لانگ مارچ اور احتجاجی سیاست کوئی نئی بات نہیں ہے۔ 1953ءسے ملک میں احتجاج، جلسے جلوس، مارچ اور تحریکیں فعال طریقے سے جاری ہیں ‘ پاکستان میں پہلا لانگ مارچ بھٹو کے خلاف پاکستان قومی اتحاد نے کیا تھا‘ بے نظیر بھٹو نے 1992ءمیں نواز شریف حکومت کے خلاف ٹرین مارچ کا اعلان کیا جو کراچی سے شروع ہوا۔ یہ لانگ مارچ ناکام ہوا اور بے نظیر بھٹو کو گرفتار کرلیا گیا۔ جماعت اسلامی نے بھی ماضی میں کئی لانگ مارچ کیے ہیں۔ قاضی حسین احمد کی قیادت میں جماعت اسلامی نے ستمبر 1996ءمیں بے نظیر بھٹو حکومت کے خاتمے کےلئے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کیا۔ یہ لانگ مارچ 27 اکتوبر 1996 ءمیں شروع ہوا، اسلام آباد پہنچ کر تین دن دھرنا بھی دیا گیا۔ اس دھرنے کے ایک ہفتہ بعد صدر فاروق لغاری نے بے نظیر بھٹو کی حکومت کو ختم کردیا۔ مارچ 2007 ءمیں صدر جنرل پرویزمشرف نے ایک ریفرنس کے تحت چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو عہدے سے ہٹا دیا، اس برطرفی پر ملک بھر میں عدلیہ بحالی تحریک شروع ہوگئی۔ اس تحریک کے تحت جون 2008ءمیں وکلا رہنماو¿ں کی زیر قیادت لانگ مارچ کیا گیا جو کامیابی حاصل نہ کرسکا۔ عدلیہ بحالی کےلئے مارچ 2009 ءمیں میاں نواز شریف کی زیر قیادت ایک اور لانگ مارچ ہوا ۔ لاہور سے شروع ہونےوالا یہ لانگ مارچ گوجرانوالہ ہی پہنچا تھا کہ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری سمیت تمام معزول ججز کو بحال کرنے کا اعلان کردیا۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے ماڈل ٹاو¿ن واقعہ کے بعد اگست 2014ءمیں پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا۔دونوں جماعتوں نے اسلام آباد پہنچ کر دھرنا دیدیا‘یہ دھرنا ملکی تاریخ کا طویل ترین دھرنا ثابت ہوا۔ ڈاکٹر طاہر القادری 70 دن اور عمران خان 126 دن دھرنا دے کر 16 دسمبر کو سانحہ پشاور کے بعد واپس لوٹ گئے۔علامہ خادم حسین رضوی نے اپنے مطالبات کی منظوری کیلئے نومبر 2017ءمیں اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کیا اور اسلام آباد پہنچ کر بائیس دن دھرنا دیا جو مذاکرات کے بعد اختتام پذیر ہوا۔ اپوزیشن جماعتوں نے 2018ءکے انتخابات میں دھاندلی اور مہنگائی کے ایشوز پر مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں اسلام آباد کی طرف اکتوبر 2019 ءمیں لانگ مارچ کا اعلان کیا۔وہاں پہنچ کر دھرنا دیا گیا تاہم مذاکرات کے بعد لوگ واپس گھروں کو چلے گئے۔ اپوزیشن اتحاد (پی ڈی ایم) نے تحریک انصاف حکومت کےخلاف 23 مارچ 2022ءکو لانگ مارچ کا اعلان کیا تاہم بلاول بھٹو نے 27 فروری 2022 ءکو ہی عوامی مارچ کے نام سے لانگ مارچ کا آغاز کردیا جو آٹھ مارچ کو ڈی چوک اسلام آباد پہنچ کر ختم ہوگیا ، پی ڈی ایم نے لانگ مارچ کی کال واپس لے لی ۔ 8 مارچ 2022 ءکو عدم اعتماد کی تحریک پیش کی گئی جو 9 اور 10 اپریل کی رات کامیاب ہوئی اور عمران خان حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔مئی 2022ءمیں عمران خان نے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کیا ۔ اکتوبر 2022ءمیں پی ٹی آئی نے ایک بار پھر اسلام آباد کی طرف حقیقی مارچ کا اعلان کیا۔ لاہور سے اس مارچ کا آغاز ہوا لیکن وزیرآباد کے مقام پر عمران خان پر حملہ ہوا تو اسے عارضی طور پر ختم کر دیا گیا اور چند روز بعد دوبارہ شروع ہو کر راولپنڈی میں اختتام پذیر ہو گیا۔ نومبر 2024ءمیں پی ٹی آئی نے اسلام آباد کی طرف دوبارہ لانگ مارچ کیا ‘اس بار احتجاجی مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے طاقت کا استعمال بھی ہوا۔ 
 تحریک انصاف نے 27 ستمبر کو ایک بار پھر اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے جسے پارٹی اپنے سیاسی مطالبات، عمران خان کی رہائی اور آئینی و جمہوری حقوق کی جدوجہد سے تعبیر کر رہی ہے۔ دوسری طرف حکومت نے امن و امان برقرار رکھنے اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد کو اپنی ذمہ داری قرار دیا ہے۔ یہ صورتِ حال اس اعتبار 
سے اہم ہے کہ پاکستان پہلے ہی سیاسی عدم استحکام اور معاشی دباو¿ جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ ایسے میں ایک بڑے سیاسی احتجاج کا اعلان محض ایک جماعت کی سرگرمی نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات ریاستی نظم، شہری زندگی اور مجموعی سیاسی ماحول تک پہنچتے ہیں۔ ایک طرف احتجاج کے جمہوری حق کا معاملہ ہے تو دوسری طرف عام شہری کے امن، نقل و حرکت اور معمولاتِ زندگی کا حق بھی اپنی جگہ موجود ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کی حالیہ ہدایات نے معاملے کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ عدالت نے عوامی سڑکوں اور شاہراہوں پر قبضے یا شہریوں کی نقل و حرکت میں رکاوٹ کے حوالے سے واضح اصول بیان کیے ہیں۔ چنانچہ احتجاج کے سیاسی حق اور شہریوں کے بنیادی حقوق کے درمیان توازن برقرار رکھنا اب انتظامیہ اور سیاسی جماعتوں، دونوں کےلئے اہم ذمہ داری ہے۔یہاںاصل سوال یہ ہے کہ پاکستان میں سیاسی اختلاف کا اظہار بار بار سڑکوں پر ہی کیوں ہوتا ہے؟ پارلیمنٹ موجود ہے، عدالتیں موجود ہیں اور سیاسی مکالمے کے راستے بھی ہیں مگر شدید سیاسی اختلاف کی صورت میں مذاکرات کے بجائے احتجاج اور دھرنے کو ترجیح ملتی ہے۔ 27 ستمبر کے حوالے سے پی ٹی آئی پر ذمہ داری ہے کہ اپنے کارکنوں کو نظم و ضبط میں رکھے اور احتجاج کو قانون کے دائرے میں محدود رکھے جبکہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ قانون نافذ کرتے ہوئے سیاسی اختلاف اور پرامن احتجاج کے حق کو بھی ملحوظ رکھے۔ اس لیے کسی بھی احتجاج کی کامیابی کا پیمانہ صرف شرکا کی تعداد نہیں بلکہ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ احتجاج کس حد تک پُرامن اور شہری حقوق کے احترام کے ساتھ جاری رہتا ہے۔ اختلاف اپنی جگہ لیکن سیاسی قوت کا اصل امتحان یہ ہے کہ مخالف فریق کے ساتھ بات چیت کی گنجائش باقی رکھی جائے۔ سڑکیں سیاسی دباو¿ پیدا کر سکتی ہیں لیکن پائیدار حل کےلئے بالآخر مذاکرات اور آئینی اداروں ہی کی طرف واپس آنا پڑتا ہے۔ پاکستان کو اس وقت سیاسی فتح سے زیادہ سیاسی راستے کی ضرورت ہے۔ ایسا راستہ جس میں حکومت قانون کی پاسداری کرے، اپوزیشن اپنے احتجاج کے حق کو ذمہ داری سے استعمال کرے اور عام شہری سیاسی کشمکش کی قیمت ادا کرنے پر مجبور نہ ہو۔ 27 ستمبر گزر جائے گا مگر سیاسی اختلاف باقی رہے گا۔ اصل امتحان یہی ہے کہ ہم اختلاف کو بحران بناتے ہیں یا مکالمے کا موقع؟

ٹیگز: