Wed, September 23, 2026

 انتقامی نہیں مفاہمتی سیاست

 انتقامی نہیں مفاہمتی سیاست

باری باری کی سیاست کامثبت پہلو مفاہمتی سیاسی کردار پررضامندی ہے جس سے ملک کو سیاسی استحکام نصیب ہواہے مگر کیا تمام سیاسی قیادت نے قباحتوں کے مُضمرات کو سمجھ لیا ہے؟ اِس کا ہاں میں جواب نہیں دیا جا سکتا کیونکہ بدقسمتی سے اب بھی کچھ عناصر کو وہی سیاسی کردار عزیز ہے جس میں وہ حکمران ہوں۔ یہ مثبت سوچ نہیں بلکہ نرگسیت ہے ایسا بھلے کیسے ممکن ہے کہ دیانتداری کا دعویٰ کرتے ہوئے تمام ہم عصروں کو بدکردار، چور اور ڈاکو کہنا شروع کر دیا جائے مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ ملک میں اوئے توئے کی سیاست اُجلے کردار کے دعویداروں نے ہی متعارف کرائی ہے۔
صادق و امین کا فیصلہ کرنا میرا کام نہیں اِس کا فیصلہ شواہدکی روشنی میں رائج نظامِ انصاف نے کرنا ہے اورکون اعتماد کے لائق ہے یہ فیصلہ بھی ووٹروں کا اختیار ہے بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کچھ عناصر کو مفاہمتی سیاست پسند نہیں اور وہ ملک میں دوبارہ ٹکراو¿ چاہتے ہیں 27 ستمبر کو اسلام آباد پر چڑھائی مفاہمتی سیاست سے انکار ہی تو ہے مگر اِس سے مخصوص سیاسی کارکنوں کی مشکلات میں اضافہ ہو گا ایسا درشت رویہ مقبولیت میں کمی کا باعث بھی بن سکتا ہے لہٰذا بہتر ہے کہ سیاستدان ایک دوسرے کی حیثیت و سیاسی کردار کو تسلیم کریں اور غیر آئینی اور غیر قانونی طریقے سے تبدیلی لانے کی کوششوں سے اجتناب کریں تاکہ جس کو جتنا موقع ملا ہے وہ ملک و قوم کی خدمت کرے اور دوبارہ جب عوامی عدالت میں جائے تو لوگوں کو کارکردگی کی بنیاد پر اعتماد یا بداعتمادی کا فیصلہ کرنے میں آسانی ہو۔
کیاعمران خان اپنے سیاسی کردار سے اپنی جماعت، اپنے کارکنوں اور ملک کا بھلا کر رہے ہیں؟ بظاہر اِس حوالے سے ہاں میں واضح جواب دینے میں مشکل ہے جس کی کئی ایک وجوہات ہیں ایک طرف تو وہ ملک کے مقبول ترین رہنما ہونے کے دعویدار ہیں اُن کے فیصلوں میں حکمت و تدبر اور فہم و فراست کا فقدان واضح ہے وہ اپنی جماعت کے رہنماﺅں اور کارکنوں سے رہائی کے لیے تحریک چلانے کا مطالبہ تو کرتے ہیں لیکن فیصلے کرتے ہوئے اعتماد نہیں کرتے جب تحریکِ انصاف میں ایک سے بڑھ کر ایک جہاندیدہ رہنما موجود ہے تو قومی اسمبلی اور سینٹ میں حزبِ اختلاف کے عہدے اپنی جماعت سے باہردیناسمجھ سے بالاتر ہے یہ اہم ترین عہدے انہوں نے ایسے کرداروں کو دے رکھے ہیں جو اُن کی جماعت کے سخت ناقد رہے ہیں اب سوال یہ ہے کہ جب اپنی جماعت کے رہنماﺅں اور عہدیداروں کو اہم ترین عہدوں سے دوررکھتے ہیں توکون خوشی سے اُن کی رہائی کی تحریک کاایندھن بننا پسندکرے گا؟
کھیل کے دوران قیدوبندکی مشکلات پر مبنی بات چیت کرنے والے صاحبزادے قاسم اور سلیمان عملی طورپر اپنے والد کی رہائی کے لیے ہر قسم کی سرگرمی سے دوراپنی والدہ کی دوسری شادی کی خوشیاں منانے میں مگن ہیں تو جب27 ستمبر کو کارکن اور رہنما اسلام آباد کی طرف رواں دواں ہوں گے اورکسی صاحبِ علم و دانش نے اِس راز کی بابت کچھ دریافت کر لیا تو تحریکِ انصاف کا کیا جواب ہو گا؟۔
علیمہ خان سمیت بانی پی ٹی آئی کی بہنیں سیاسی سرگرمیوں میں شامل ہیں مگر اُن کی کوئی سیاسی تربیت نہیں اسی لیے غیر محتاط گفتگوکر جاتی ہیں اگر بانی پی ٹی آئی کے صاحبزادے والدکے لیے احتجاجی تحریک کا حصہ بنتے تو کارکنوں کو قربانیاں دیتے حوصلہ ہوتا کہ وہ میدانِ عمل میں تنہا نہیں تعجب کا پہلو تو یہ ہے کہ قاسم اور سلیمان پاکستانی شہریت تک لینے سے گریزاں ہیں ایک رہنما کی اولاد کا یہ کردار ناقابلِ فہم ہے مزید یہ کہ وہ جب چاہیں ویزہ لے کر پاکستان آ سکتے ہیں لیکن اِس کے لیے بھی وہ تیارنہیں اسی تناظر میںصرف کارکنوں اور رہنماﺅں کو تحریک کا ایندھن بنانا حیران کُن فیصلہ لگتا ہے۔
سیاستدان کبھی دروازے بند نہیں کرتے بلکہ بات چیت سے سیاسی مسائل حل کرتے ہیں باری باری کی سیاست کرنے اور ایک دوسرے کی حکومتیں گرانے کے بعد ن لیگ اور پی پی نے جان لیا کہ ایک دوسرے کے مینڈیٹ کا احترام کرنے میں ہی عافیت ہے اسی سوچ کے تحت بانی پی ٹی آئی کے خلاف تحریکِ عدمِ اعتماد کامیاب ہوئی اور پھر عام انتخابات کے نتائج کے بعد دونوں نے مِل کر حکومت بنائی اِس فیصلے کو عوامی پذیرائی بھی حاصل ہوئی کیونکہ سیاسی میدان سے غیر سیاسی قوتوں کو باہر رکھنے کا یہ ایک دانشمندانہ فیصلہ تھا اِس فیصلے سے عشروں سے سیاسی عدمِ استحکام سے دوچارپاکستان میں سیاسی استحکام آیا مگر27 ستمبرکی احتجاجی تحریک کے تناظرمیں کہہ سکتے ہیں کہ انتقامی سیاست پر یقین رکھنے والے عناصرابھی موجود اور سرگرم ہیں اگر سیاسی قیادت مل بیٹھ کر فیصلے کرے تو بظاہر حل نہ ہونے والے مسائل بھی حل ہو سکتے ہیں کاش سیاسی قیادت حکمت و تدبر سے کام لے تاکہ تاریخ اُنہیں اچھے الفاظ میں یاد کرے۔
پاکستان کی معاشی حالت کا تقاضا ہے کہ پالیسیوں میں رخنہ نہ آئے بلکہ تسلسل رہے تسلسل نہ رہنے سے مسائل حل ہونے کی بجائے بگڑتے ہیں حکومت نے کئی ایسے فیصلے کیے ہیں جنہیں غیر مقبول کہا جا سکتا ہے کیونکہ ایسے فیصلوں سے مہنگائی میں اضافہ ہوا مگر سوال یہ ہے کہ کیا اِس کے سوا بھی کوئی اور حل ہے؟ جہاں تک آئی پی پیز جیسی واردات کی بات ہے تو اِس کا اگر ن لیگ اور پی پی کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے تو کیا تحریکِ انصاف مکمل طور پر بری الزمہ ہے؟ ایسا ہرگز نہیں جس کو جتنا وقت ملا اُس نے جی بھر کر مال بنایا اور مہنگائی کا بوجھ عوام کی طرف منتقل کر دیا مگر اِس کا حل حکومتیں گرانا نہیں بلکہ آئی پی پیز کے ظالمانہ معاہدوں پر نظر ثانی ہے جس کے لئے لازم ہے کہ تمام سیاسی قیادت سنجیدہ اور یک زبان ہو۔
افسوس کہ تحریکِ انصاف کی اسلام آباد پر چڑھائی میں مہنگائی مسئلہ نہیں اور نہ ہی پیٹرول کی قیمتیں مسئلہ ہیں بلکہ یہ صرف بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے سرگرمی ہے اسی بنا پر یہ سوال کرنا درست ہے کہ ایک کو ہٹا کر کسی اور کو اقتدار میں لانے سے کیا مثبت تبدیلی آئے گی؟ یقینا نہیں۔ جب کوئی تبدیلی نہیں آنی عوامی مسائل مہنگی بجلی و پیٹرول اور بے روزگاری جیسے مسائل حل نہیں ہونے بلکہ محض ایک رہنماکو رہا کرانا اور اقتدار میں لاناہی تحریک کا اصل ایجنڈاہے تو مجھے کہنے دیجئے کہ یہ عوامی ایجنڈا نہیں اسی لیے مجھے نہیں لگتا کہ تحریک کامیاب ہو گی کیونکہ عوام اپنے پُرامن اور پُرسکون روز و شب کسی ایک ایسے فردکے لیے قربان کرنا پسند کرے گی جس کی اولاد تک والد کے لیے نکلنے سے گریزاں ہو۔

ٹیگز: