ایک چور کا چوری کیا ہوا سونے کا برتن چور ی ہو گیا لیکن وہ قانونی اور اخلاقی طور پر اتنا مضبوط تھا کہ اُس نے کہیں بھی چوری کی ایف آئی درج نہیں کرائی کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اُسے سونے کے برتن کی ایف آر سے پہلے یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ اُس کے پاس سونے کا برتن آیا کہاں سے آیا؟ اوریوں وہ خود چوری کے مقدمے میں گرفتار ہو کر جیل چلا جائے گا ۔ وقت بدلے تو جہاں صاحب بدلتے ہیں وہاں چور بھی بدل جاتے ہیں ۔اب نہ وہ پہلے جیسے چور رہے جو چوری کا مال چوری ہوجانے پر اخلاقی اور قانونی جواز کی پاسداری میں ایف آئی آر بھی درج نہیں کراتے تھے کہ کتنی شرمندگی کی بات ہو گی جب میں چوری شدہ مال کو اپنی مالیت ثابت نہیں کر سکوں گا ۔ اور یوں ایک طرف تو چوری کا ایک مقدمہ میرے خلاف ہوجائے گا اوردوسرا جھوٹی ایف آئی آر کرانے میں دوسرے مقدمے کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ کسی بھی احتجاج کی کامیابی اور ناکامی کو انتہائی آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے یہ کوئی ایسا معما بھی نہیں کہ جسے حل کرنے کیلئے کسی سقراطی یا بقراطی دماغ کی ضرورت ہو۔ اگر احتجاج کا گراف آہستہ آہستہ نیچے سے اوپر جا رہا ہو تو احتجاج بڑھ رہا ہوتا ہے ٗ خوفناک ہو رہا ہوتا ہے ٗ کسی بڑی تباہی کا پیش خیمہ ہوسکتا ہے لیکن اگر گراف اوپر سے نیچے آ رہا ہو تو احتجاجیوں کا بیانیہ مر رہا ہوتا ہے ٗ قیادت تنہا ہو رہی ہوتی ہے ٗ موت کا منظر اور مرنے کے بعد کیا ہو گا کہ منظر آنکھوںکے سامنے گھومنا شروع ہو جاتے ہیں ۔
جان ِ من فرحت عباس شاہ ہمارے عہد کے معروف شاعر اور دانشور دوست ہیں ۔ فرحت عباس شاہ بھی تحریک انصاف کے اُن بانی اراکین کی صف میں شامل تھے جو ابتدا میں ’’ معاشی انصاف سے عدالتی انصاف تک ‘‘ کے دل فریب نعرے کی زد میں آ کر ہلاک ہوتے ہوتے بچے تھے۔ جمعہ کے روز حلقہ ارباب ِ ذوق کے مشاعر ے پر سیکرٹری حلقہ بردارم فیصل زمان چشتی نے دعوت دی تو بسنت کی تقریبات کے باوجود مشاعرہ پڑھنے چلا گیا ۔ پاک ٹی ہائوس کے ہال میں داخل ہوتے ساتھ ہی فرحت عباس شاہ سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے 8فروری کو ہونے والے احتجاج بارے سوال کردیا ۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ بولتا انہوں نے ریکارڈ کرنے کا کہا جس پر مجھے کبھی اعتراض نہیں رہا کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ علم جرأت کے بغیر لعنت ہوتا ہے۔میں نے کھلے لفظوں میں کہا ’’شاہ جی 8فروری کو پرندہ بھی پر نہیں مارے گا ۔عمران نیازی لاہوریوں کو رنگ باز کہا کرتا تھا جبکہ پاکستان کی ہر کامیا ب تحریک لاہور سے چلی ہے اُس نے پی ٹی آئی کو پختون تحریک انصاف بنا دیا ہے اب یہ احتجاج لاہور تو دور کی بات پشاور میں بھی سکڑ کر محدود ہو جائے گا۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ پی ٹی آئی کوئی منظم سیاسی جماعت نہیں بلکہ مفاد پرستوں کا ایک ٹولہ ہے جو اپنے انپے مفادات کی جنگ پوری شان سے لڑ رہے ہیں سو تنظیم کے بغیر کسی بڑے احتجاج کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔‘‘میری حیرت تو آج بھی اس بات پر ختم ہونے کیلئے تیار نہیں کہ اسی محمود خان اچکزئی نے پی ٹی آئی کے جلسے میں کہا تھا کہ جب تک تم تنظیم نہیں بنائو گے اتنی دیر تک کچھ ہونے والا نہیں لیکن جب بغیر تنظیم کے اُسی سیاسی تنظیم نے اُسے قومی اسمبلی میں لیڈر آف دی اپوزیشن بنایا تو اُس نے خاموشی سے مراعاتی عہدہ قبول کرلیا ۔ اچکزئی کامیاب ہو گیا ٗ بیرسٹر گوہر کامیاب ہو گیا ٗ شیخ وقاص کامیا ب ہو گیا ٗ سہیل آفریدی اوراُس کی آئی ایس ایف کامیاب ہو گئی لیکن عمران نیازی ٗ اُس کا بیانیہ اور احتجاج مکمل شکست کھا گیا ۔ تنظیم کے بغیر اگر لوگ بڑی تعداد میں باہر نکل آئیں تو وہ انارکی کیلئے تو نکل سکتے ہیں لیکن کسی بڑے انقلاب کا پیش خیمہ نہیں بن سکتے ۔ ہمیں انقلاب فرانس اور ازاں بعد وکٹر ہیوگو کی پارلیمان میں انقلابیوں کی معافی کیلئے تقاریر کو غور سے پڑھنا چاہیے تاکہ معلوم ہو سکے کہ انقلاب انارکی کا نام نہیں ہو تا ۔ یہ کھیل عشق ِ عمران نے 8فروری کو دفن کرا دیا ۔ پاکستان بھر سے جیسے لوگوں کو پاکستان کے سب سے ’’ پاپولرلیڈر ‘‘ کیلئے نکلنا چاہیے تھا اُس سے کہیں زیادہ جوش اور جذبے کے ساتھ دنیا بھر سے لوگ لاہور بسنت منانے آ رہے تھے ۔مقامی لاہوریے اور سینٹرل پنجاب کے لوگ ڈور اور پتنگوں کی تلاش میں مارے مارے پھرتے رہے ۔ طرح طرح کے پکوان تیار ہوتے رہے اور کے پی کے میں مختلف مقامات پر زبردستی دکانیں بند کرانے پر مقامی تاجروں نے بھرپور احتجاج کیا اور پی ٹی آئی کے خلاف نعرے بازی کی ۔کاروبارِ زندگی رواں دواں رہا بلکہ بسنت زدہ علاقہ میں تو زندگی بھاگتی رہی ۔لاہوریے تو گندہ نالہ صاف ہو رہا ہو تو سیکڑوں کی تعداد میں کھڑے ہو کردیکھتے رہتے ہیں لیکن یہ کال شاید آخری مردہ کال تھی جو لاہور سے کہیں بہت دور کے پی کے ٗ کے پہاڑوں میں دفن ہو گی اور اُس کی کوئی باز گشت بھی سنائی نہیں دی ۔جنریشن زی جو اپنی زندگی میں پہلی بار بسنت دیکھ رہی تھی اور اس کی لذت سے مکمل نا آشنا ہونے کے باوجود انہوں نے بھی احتجاج پر بسنت کو ہی ترجیح دی۔ آج اتوار ہے اور رات کے تین بج چکے ہیں اور دور کہیں سے بو کاٹا کی کان پھاڑتی آوازیں ابھی تک آ رہی ہیں لیکن پی ٹی آئی کے بیانیے کے حوالے سے ایک نعرہ بھی سنائی نہیں دیا ۔ خود پی ٹی آئی کا وکیل اظہر صدیق جو پہلے بسنت رکوانے کیلئے عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹاتا رہا فارغ ہونے کے بعد پتنگیں خریدتا ہوا رنگے ہاتھوں پکڑا گیا اور شرمندہ ہو کر کہنے لگا میں اپنا بچپن تو نہیں بھول سکتا ۔
عوام اب اشتعا ل کی سیاست کو خیر باد کہہ چکے ہیں اور ایک معاشی طور پر مضبوط پاکستان دیکھنا چاہتے ہیں۔ خود خیبر پختون خوا کے نوجوان عشق ِ عمران سے بیزار ہو چکے ہیں اور کے پی کے حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھانا شروع ہو چکے ۔ مسلسل ناکام احتجاجات کی کالوں کے انبار نے نوجوانوں کو انارکی اور پاکستان دشمنی کا اصل چہرہ دکھا دیا ہے ۔عنقریب پی ٹی آئی نوجوانوں کے کٹہرے میں ہو گی اور جنریشن زی اُ ن سے خیبر پختون خوا کی بیڈ گورنس کے بارے میں سوال اٹھا رہی ہو گی ۔ الیکشن تو ہوتے رہیں گے ٗ نتائج پر دھاندلیوں کے الزامات بھی لگتے رہیں گے لیکن 9مئی کے ملزمان کو سزا ئیں دیئے بغیر یا پھر بیڈ گورنس کو مزید وقت دیتے رہے تو پاکستان خدانخواستہ کسی بڑے المیہ سے دو چار ہو سکتا ہے اور یہی فیصلے کا وقت ہے۔