کابل: افغانستان میں طالبان سرکار کی جانب سے خواتین کو سیاسی، تعلیمی اور معاشرتی زندگی سے مکمل طور پر بے دخل کرنے کی کوششوں میں خطرناک حد تک تیزی آ گئی ہے۔ طالبان حکام نے اپنے سخت گیر اور انتہا پسندانہ ایجنڈے کو آگے بڑھاتے ہوئے اب ہرات، کابل اور دیگر بڑے شہروں میں 'مقبول حجاب اور ڈریس کوڈ' کی آڑ میں خواتین اور نوجوان لڑکیوں کی جبری گرفتاریوں کا ایک نیا اور منظم سلسلہ شروع کر دیا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق، طالبان کی مذہبی پولیس بازاروں، سڑکوں اور ٹرانسپورٹ کے اڈوں پر خواتین کو روک کر ان کے لباس کی تفتیش کر رہی ہے اور قوانین پر پورا نہ اترنے والی خواتین کو زبردستی گاڑیوں میں ڈال کر حراست میں لیا جا رہا ہے۔ افغان حقوقِ انسانی کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ڈریس کوڈ کا نفاذ دراصل خواتین کو عوامی مقامات سے دور رکھنے اور انہیں نفسیاتی و سماجی طور پر مفلوج کرنے کا ایک سوچا سمجھا حربہ ہے۔
طالبان رجیم کے اس جابرانہ کریک ڈاؤن پر اقوام متحدہ (UN) اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں نے انتہائی سخت ترین مؤقف اختیار کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے خصوصی مبصرین نے ان جبری گرفتاریوں کو خواتین کی بنیادی آزادیوں پر کاری ضرب قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ افغان طالبان کے یہ انتہا پسندانہ اقدامات بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ عالمی تنظیموں نے طالبان قیادت سے فوری طور پر یہ کریک ڈاؤن روکنے اور تمام گرفتار خواتین کی غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔